Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کو وزیراعظم کا ناقابل عمل مشورہ

مسلمانوں کو وزیراعظم کا ناقابل عمل مشورہ

غضنفر علی خان
مرکز کی بی جے پی حکومت چاہتی  ہے کہ ملک کے مسلمان اس ایجنڈہ کو من و عن قبول کرلیں جو وہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس میں ایک مسئلہ طلاق ثلاثہ (یعنی بیک وقت تین طلاق) کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کا بھی ہے ۔ یہ تو سراسر زیادتی ہے ۔ سیاسی رنگ اور اپنے خفیہ ایجنڈہ کو لاگو کرنے کی تمام تر کوششیں تو خود حکومت کر رہی ہے ۔ بات صرف طلاق ثلاثہ کی نہیں اور کئی مسائل ہیں جس کا براہ راست تعلق مسلمانوں کے عائلی قوانین سے ہے۔ جہاں تک مسلم طبقہ کا تعلق ہے ، اس کا یقینِ کامل یہ ہے کہ شرعی احکام و قوانین پر عمل آوری میں اس کی اپنی شناخت ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان شرعی قوانین کا ملک کی آبادی اور اس کی مختلف مذہبی و ثقافتی اقلیتوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ یہ مسلمانوں کا داخلی معاملہ ہے جو دستوری اعتبار سے بالکل درست ہے ۔ کوئی شرعی قانون جس پر صرف مسلمانوں کو عمل کرنا ہے کسی بھی زاویہ نظر سے دوسروں کے لئے قطعی نقصان دہ نہیں ہے ۔ پھر کیوں یہ بار بار کہا جارہا ہے کہ ملک کی یکجہتی اور یکتا کیلئے شرعی قوانین پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے اور جیسا کہ وزیراعظم نے کہا ہے مسلمانوں کو کسی ایسے مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے ۔ سیاسی رنگ دینے کی مسلمانوں میں سیاسی طاقت ہی نہیں ہے ۔ وہ تو صرف دستور ہند کے سہارے اپنی اجتماعی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں کئی ایسے انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے جس کی ضمانت دستور نے دی ہے ۔ اگر اگر مسٹر مودی مسلمانوں کی جانب سے اپنے کسی دستوری حق کی حفاظت کیلئے آواز اٹھانے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں مسلم تنظیموں اور اداروں سے یہ کہا جائے کہ وہ مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہ دیں تو  یہ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی اور وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو مسلمان بے چوں و چرا قبول کرلیں۔

بھلا کس مسلم تنظیم کے پاس یہ طاقت ہے ، ان کو شرعی طور پر اجازت ہے کہ وہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون میں ترمیم یا تبدیل کریں جس عمل سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری تعلیمات میں گریز کیا ۔ جس عمل کو شرعی اعتبار سے غلط قرار دیا۔ اس پر آج ہندوستانی مسلمان کیسے عمل کرسکتا ہے ، گزشتہ ہفتہ ملک کی قابل احترام مسلم جماعت ’’جمیعتہ العلمائے ہند ‘‘ کے وفد سے وزیراعظم نے ملاقات کی، اس کو بھی کسی شرعی قانون میں ترمیم یا تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ مسلم تنظیمیں ، ادارے شریعت پر عمل اور اس کے تحفظ کی از خود پابند ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ادارے اور تنظیمیں بیچارے وزیراعظم کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ سیاسی رنگ مسلم تنظیمیں نہیں دے رہی ہیں ، وہ تو صرف یہ کہہ رہی ہیں’موقف تو ہے احکام الٰہی کا پابند‘‘ ان کا تو صرف یہ کہنا ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے شرعی قوانین میں تبدیلی کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے ۔ سیاسی رنگ تو مودی حکومت دے رہی ہے ۔ ملک کے ہر معاشی ، سماجی اور معاشرتی مسئلہ کے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ کتنا کھوکھلا ہے کہ اس میں کس قدر دکھاوا ہے اور سب سے بڑی بات کہ یہ صرف ایک نعرہ ہے ، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ ایک چھو ٹی مثال پر غور کیجئے کہ حضور اکرم کی ولادت باسعادات کے موقع پر ہر سال سارے ہندوستان کو چھٹی ہوتی ہے اور یہ شریفانہ روایت سابق وزیراعظم آنجہانی وی پی سنگھ نے قائم کی تھی ۔ انہوںنے اس مقدس دن تعطیل عام کا اعلان کیا تھا ۔ اب یہی دیکھئے کہ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ نے اس تعطیل کو اپنی ریاست میں منسوخ کردیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ دن کتنا اہم ہے کس قدر مقدس ہے اس کا شاید انہیں یوگی جی کو اندازہ نہیں ہے اور اتنے بڑے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ایسے مقدس دن کی تعطیل کو منسوخ کر کے یوگی ادتیہ ناتھ کیا پیام دینا چاہتے ہیں اور کیوں وزیراعظم نے اپنے اس نور نظر چیف منسٹر کو اس اقدام سے روکا نہیں ۔ ایک عظیم الشان روایت کو چیف منسٹر یو پی نے ختم کردیا اور وزیراعظم نے منہ نہیں کھولا ۔

تعطیلات کا تعین ریاستی حکومت کرتی ہے ۔ یہ صحیح ہے لیکن ایک ایسی تعطیل کی منسوخی کا فیصلہ جس کا تعلق ملک کی مذہبی رواداری سے ہے ، ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ وزیراعظم مودی نے اس مسئلہ پر خاموشی ا ختیار کی۔ اس پر  طرفہ تماشہ یہ کہ جس جمیعتہ العلماء ہند کے وفد سے مسٹر مودی نے بات چیت کی اس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا وجود ہی ’’کثرت میں وحدت‘‘ سے برقرار ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ اقتدار پر فائز ہونے کے بعد سے تو مرکز کی مودی حکومت نے مسلم اقلیت کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ گاؤ رکھشک کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ کسی بھی جگہ خون خرابہ کریں۔ محمد اخلاق کے قتل عبث کے بعد ایسے کچھ اور واقعات بھی ہوئے ہیں لیکن مودی جی یا ان کی حکومت نے اشک شوئی کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ کوئی قانون نہیں کہ گاؤ رکھشکوں کو ظلم زیادتی سے باز رکھا جائے ۔ ایسا اس لئے ہورہا ہے کہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس’‘ کے نعرے میں صداقت نہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ ہے جو وقت کے ساتھ بے اثر ہوتا جارہا ہے۔ آخر کس کو خوش کرنے کیلئے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے ۔ کس کی ایماء پر شریعت میں ترمیم و تبدیلی کی بات بار بار کہی جارہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ سے ملک کی ترقی کی رفتار کیا سست ہورہی ہے ۔ کیا صنعتی و زرعی پیداوار میں کمی ہورہی ہے ؟ کیا ملک کی برآمدات میں کمی ہورہی ہے ؟ کیا ملک میں صنعتی انحطاط پیدا ہورہا ہے ۔ آخر زندگی کے کس شعبہ پر یہ مسئلہ اثر انداز ہورہا ہے ۔ ملک میں بے شمار مسائل ہیں جن کی یکسوئی کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے ۔ اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ مودی حکومت ملک کی ضروریات کی ترجیحات طئے نہیں کرسکتی ۔ سینکڑوں مسائل کے درمیان شرعی قوانین میں مداخلت حکومت کے ’’عقلی دیوالیے‘‘کا ثبوت ہے ۔ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے بھی مودی حکومت کچھ پاپڑ بیل رہی ہے لیکن مسلم فرقہ کا اعتماد حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں کیونکہ بی جے پی سے دوری اختیار کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کیلئے مسلمانوں کے پاس معقول وجوہات ہیں جبکہ بی جے پی سے قربت اختیار کرنے اور اس کی باتوں پر اعتماد کرنے کی ان کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ یہ مسئلہ بی جے پی کا ہے ۔ مودی جی کا اور امیت شاہ اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں کا ہے کہ وہ اس بات پر کھلے ذہن اور صاف دل سے غور کریں کہ مسلمان آخر کس بات کو ناپسند اور کونسی بات کو پسند کرتے ہیں۔ مسلمان کیلئے اس کا دین اس کی شرعیت اور اللہ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ایقان ہی واحد سرمایہ حیات ہے ۔ یہ بات وزیراعظم اوران کی پا رٹی کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT