مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا مطالبہ غیر دستوری

کانگریس پارٹی کی سخت مذمت ، سابق صدر پی سی سی ڈی سرینواس کا بیان

کانگریس پارٹی کی سخت مذمت ، سابق صدر پی سی سی ڈی سرینواس کا بیان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : سابق صدر پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ڈی سرینواس نے تقسیم ہند کے وقت ہندوستان کو اپنا مسکن بنانے والے مسلمانوں کو سلوٹ کرنے کے بجائے انہیں رائے دہی کے حق سے محروم کرنے کا مطالبہ کرنے کو غیر دستوری قرار دیا جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس کے دوران شیوسینا کی جانب سے مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر ڈی سرینواس نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت جب سرحدی دیوار تعمیر کی جارہی تھی اس وقت مسلمانوں نے پاکستان جانے کے بجائے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی ہے ۔ اس فیصلے پر مسلمانوں کو سلوٹ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پانے کے بعد سے اقلیتیں بالخصوص مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جارہا ہے ۔ جس سے ان کے جذبات مجروح ہورہے ہیں ۔ زبردستی نس بندی کرانے کی دھمکی دی جارہی ہے ۔ بیرونی ممالک اس کا سخت نوٹ لے رہے ہیں ۔ نریندر مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو بیرونی ممالک کا دورہ کرتے ہوئے ہندوستان میں تمام مذاہب اور طبقات کا یکساں احترام کرنے کی بات کرنے پر انہیں مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔ مسٹر ڈی سرینواس نے ان کی قیادت میں 10 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر پارٹی ہائی کمان اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اندرون 100 یوم تلنگانہ کے تمام اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس قائدین اور سماج کے مختلف طبقات کے دانشوروں سے رپورٹ تیار کرتے ہوئے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے حوالے کی جائے گی ۔ اس کمیٹی کا 16 اپریل کو 11 بجے گاندھی بھون میں پہلا اجلاس طلب کیا جارہا ہے ۔ جس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک کو بھی مدعو کیا جارہا ہے ۔ مسٹر ڈی سرینواس نے کہا کہ کانگریس ملک کو آزادی دلانے والی اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے والی جماعت ہے تاہم کانگریس کا روایتی ووٹ کانگریس سے کسی قدر دور ہوگیا ہے ۔ ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے وہ ان سے مشاورت کریں گے ۔ اضلاع ہیڈکوارٹرس پر اجلاس طلب کرتے ہوئے ان کے دور ہونے کی وجہ اور دوبارہ قریب کرنے کے مشورے رپورٹ کی شکل میں پیش کریں گے ۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کر کے 4 فیصد تحفظات فراہم کیا جس پر مکمل عمل آوری ہورہی ہے ۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر آج تک عمل شروع نہیں کیا گیا ۔ ریاست کی تقسیم سے سٹلیرس کانگریس سے ناراض ہوگئے ہیں ۔ ٹی آر ایس نے مختلف وعدے کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کو راغب کیا مگران وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست ایک سال قبل تشکیل دی جاتی تو اس کا کانگریس کو فائدہ ممکن تھا ۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کی دوبارہ کانگریس میں شامل کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے امیدواروں کی صورت دیکھ کر ٹی آر ایس کو ووٹ نہیں دیا بلکہ تلنگانہ تحریک ، جذبہ ، ٹی آر ایس کے استعفیٰ کے سی آر کی تحریک ، سرکاری ملازمین کی عام ہڑتال کی وجہ سے علحدہ تلنگانہ ریاست کانگریس تشکیل دینے کے باوجود ٹی آر ایس کو فائدہ ہوا ہے ۔ اگر سونیا گاندھی کے بجائے کانگریس کا صدر اور کوئی ہوتا تو شاید وہ بھی تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں دے پاتا لہذا تلنگانہ کے تعلیمی نصاب میں سونیا گاندھی کا خصوصی چاپٹر رکھنے پر زور دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT