Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو ٹاملناڈو کے خطوط پر تحفظات کی فراہمی کیلئے کے سی آر کا عہد

مسلمانوں کو ٹاملناڈو کے خطوط پر تحفظات کی فراہمی کیلئے کے سی آر کا عہد

سدھیر کمیشن اور چلپا کمیشن کی رپورٹ چیف منسٹر کو پیش،قانون سازی کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ

=     دریں اثناء پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سدھیر کمیشن کو آج بعد نماز جمعہ اس لیے بھی طلب کیا کیوں کہ چیف منسٹر جمعہ کے دن کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ان کے رفیق کار و ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کو آج کسی بھی حالت میں اس موقع پر رہنے کی ہدایت دی تھی اور یہ تبادلہ خیال کے دوران چیف منسٹر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کسی بھی صورت میں تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ چیف منسٹر نے تحفظات کی فراہمی و منظوری کے لیے دستور ہند کی کئی دفعات شخصی طور پر اپنے پاس محفوظ رکھیں ہیں جس سے یہ ممکن ہوسکتا ہے ۔۔

حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو ٹاملناڈو کی طرز پر تحفظات کی فراہمی کیلئے اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں قانون سازی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے آج سدھیر کمیشن آف انکوائری اور جسٹس چلپا کمیشن کی رپورٹس حاصل کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر بہت جلد کابینہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا اس کے بعد اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے تحفظات کے حق میں خصوصی قانون سازی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر انہیں تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے جس کے ذریعہ ان کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے تحفظات کے مسئلہ پر سفارشات پیش کرنے کیلئے قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے آج کیمپ آفس میں چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کردی۔ اس موقع پر ایس ٹی ریزرویشن کے مسئلہ پر قائم کئے گئے جسٹس چلپا کمیشن نے بھی چیف منسٹر کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ سدھیر کمیشن کے ارکان ماہرین معاشیات عامر اللہ خاں، پروفیسر عبدالشعبان اور ماہر تعلیم ایم اے باری اور چلپا کمیٹی کے ارکان کے جگناتھ راؤ اور ایچ اے ناگو بھی رپورٹ کی پیشکشی کے وقت موجود تھے۔ دونوں کمیشنوں کی رپورٹ کی پیشکشی کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی، وزیر قبائیلی بہبود اجمیرا چندو لال، چیف سکریٹری راجیو شرما، ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی، چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری ایس نرسنگ راؤ، خصوصی سکریٹری بھوپال ریڈی اور دوسروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ بیان  کے مطابق چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں کمزور طبقات بڑی تعداد میں ہیں اور ان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے تحفظات میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کیلئے ٹاملناڈو کی طرز پر خصوصی قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی طبقات کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کیلئے دستوری شرائط موجود ہیں۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کرتے ہوئے انہیں بھی تحفظات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو کی طرز پر تلنگانہ میں بھی ضرورت کے مطابق تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ تلنگانہ کے مسلمان کافی پسماندہ ہیں لہذا ان کی تعلیمی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں درج فہرست قبائیل کو 6 فیصد تحفظات حاصل تھے جس کے سبب تلنگانہ کے ایس ٹی طبقات کو نقصان ہوا۔ انہوں نے تلنگانہ میں ایس ٹی آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سدھیر اور چلپا کمیشنوں کی رپورٹ اور سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے معیار زندگی میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ عام انتخابات سے قبل تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT