Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ تعلیمی شعبہ میں آگے آنے کی ضرورت

مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ تعلیمی شعبہ میں آگے آنے کی ضرورت

ادارہ سیاست میں ایس ایس سی تلگو کوئسچن بنک کی رسم اجرائی، آصف پاشاہ سابق وزیرقانون اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔7 اکٹوبر (سیاست نیوز) طالب علم کو اپنی مادری زبان اور انگلش کے ساتھ مقامی زبان سیکھنا چاہئے۔ تلگو، ریاست کی سرکاری زبان ہے جو طالب علم جتنی زیادہ زبانیں سیکھے گا اتنا علم میں اضافہ ہوگا۔ ادارہ سیاست کی تعلیمی شعبہ میں کاوشیں لائق ستائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب آصف پاشاہ سابق وزیر قانون و صدر آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی اے پی تلنگانہ نے یہاں ایس ایس سی سیکنڈ لینگویج تلگو کو ئسچن بینک کی رسم اجرائی کرتے ہوئے محبوب حسین جگر ہال میں کیا اور طلبہ کو مفید مشورے دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نشانات حاصل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ تعلیمی شعبہ میں آگے آنے کی ضرورت ہے۔ جناب زاہد علی خان کے ملی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نہ صرف تعلیمی شعبہ بلکہ ملت کے کئی فلاحی کاموں میں سیاست سرگرم ہے۔ جناب محمد ساجد علی سکریٹری اقراء مشن ہائی اسکول نے تلگو زبان کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ اب دسویں تک تلگو لازمی مضمون ہے۔ آئندہ برسوں میں انٹرمیڈیٹ سطح تک اس کو لازمی کردیا جائے گا۔ ایس ایس سی میں گذشتہ 15 برسوں سے پابندی کے ساتھ سیاست ایس ایس سی کوئسچن بینک شائع کرتے ہوئے مفت تقسیم کررہا ہے۔ جناب نعیم اللہ شریف نے زبانوں کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں جرمن، فرانس میں فرنچر اور چین میں چینی زبان لازمی ہے۔ اس طرح ہمارے پاس مقامی زبانوں سے واقفیت ضروری ہے۔ جناب احمد بشیرالدین فاروقی ریٹائرڈ ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر نے اس مشقی سوالات کے کتاب کے متعلق روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دیرینہ تجربہ کار اساتذہ کی زیرنگرانی اس کوئسچن بنک کو تیار کیا جاتا ہے۔ تلگو کوئسچن بنک میں بوسٹن مشن اسکول کے محمد رفیع اور نیو ماڈل اسکول کے ایم اے ماجد کا پورا تعاون رہا ہے۔ اس موقع پر ایس ایس سی امتحانات کے جدید طریقہ کار اور مارکس برخاست کئے جاکر گریڈ دینے کے طریقہ کار کو کیریئر کونسلر ایم اے حمید نے بتایا۔ جامعہ نظامیہ کے طالب علم محمد مستقیم کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پرنسیس درشہوار اسکول اور صفدریہ اسکول کی طالبہ نے نعت و ترانہ پیش کیا۔ مختلف اسکولس کے ذمہ داران، اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سید خالد محی الدین اسد، تمیزالدین احمد، احمد صدیقی مکیش، اظہرخان نے معاونت کی۔

TOPPOPULARRECENT