Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرنے مزید گرفتاریاں ممکن

مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرنے مزید گرفتاریاں ممکن

خوف کا ماحول پیدا کرنا ایک گہری سازش ، وراورا راؤ ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے حکومت کی اوچھی حرکتیں
حیدرآباد /3 اگست ( سیاست نیوز ) ملک پر کیا دہشت گردی کے بادل منڈلا رہے ہیں ؟ ایرپورٹس اہم تجارتی مراکز ، ڈیفنس تنصیبات یا پھر عبادات گاہیں دہشت گردوں کے نشانہ پر تو نہیں یا کوئی دہشت گرد سازش کارفرما ہونے والی ہیں ایک بڑی سازشیں کو ملک کی سیکوریٹی ایجنسیوں نے ناکام بنادیا ۔ 15 اگست اور 26 جنوری جیسے قومی تہواروں کے پیش نظر اس طرح کے الرٹ اور سازشوں کا بے نقاب ہونا ملک میں عام بات ہوگئی ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کے بعد مخصوص طبقہ بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جاتا ہے ۔ حیدرآباد میں این آئی اے کی جانب سے حالیہ ہوئی کارروائی کے بعد مزید گرفتاریوں کے خطرات میں 15 اگست کے پیش نظر اضافہ ہوگیا ہے اور اقلیتی نوجوانوں میں خوف پایا جاتا ہے ۔ خوف کے اس ماحول کو انقلابی ادیب ورا ورا راؤ ایک سازش مانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم سازش ہے جو اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی اور حامیوں کی خوشنودی کیلئے رچی گئی ہے ۔ جو ملک کی تقسیم اور ملک میں تفرقہ کا باعث بن رہی ہے ۔ تاہم انقلابی ادیب کا کہنا ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ ایک کامیابی تحریک ضروری ہے ۔ جس کیلئے مسلمانوں ، دلت اور آدیواسیوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ملکر غیر سیکولر طاقتوں کا مقابلہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتدار پر آنے کے دو سال بعد بھی ایک وعدہ کی تکمیل میں کی گئی ۔ نہ ہی اچھے دن لائے گئے اور نہ ہی کالے دھن کا کچھ پتہ چلا اور نہ ہی انڈیا کو میک کرتے ہوئے میک ان انڈیا کے نعرہ پر عمل ہوا ۔ انہوں نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف اور صرف ملک میں ہندو قوم طاقتوں کو خوش کرنے کے اقدامات پر عمل جاری ہے اور صرف ہندوتوا طاقتوں کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ مذہب کے نام پر اپنے ووٹ بنک کو مضبوط کیا جاسکے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اوسط درجہ کے اکثریتی طبقات ہی ہندوتوا کی پالیسی سے زیادہ متاثرہ ہیں ۔ انہوں نے گجرات کی ترقی کے نعرہ کو لیکر ملک کو ترقی دینے کی بات کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا گیا۔  تاہم گجرات کی حقیقت منظر عام پر آئی اور اب کرناٹک اور یو پی میں سازش جاری ہے ۔ انہوں نے اس سازش سے عوام کو مزید خوف زدہ کرنے کی پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کشمیر اور دنڈاکارنیم علاقوں کا تذکرہ کیا جہاں پولیس اور فوج کی کارروائی ظلم و بربریت سے کم نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنے تحفظ اور بچاؤ کیلئے کسی نہ کسی کو نشانہ بنارہا ہے اور حکومت وعدوں کی عدم تکمیل سے بچاؤ کیلئے اور سیکوریٹی ایجنسیاں اپنی کارکردگی کو پیش کرنے اور ناکامی کو چھپانے کیلئے مسلم اور آدیواسی کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا فسطایت کے خلاف ملک میں محاذ موجود ہیں لیکن انہیں متحدہ طور پر ایک ہی پلیٹ فارم سے لڑنا ہوگا اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تحریک میں وسعت دیتے ہوئے دلت اور آدیواسیوں کو اس میں شامل کرلیں ۔ جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے یہاں مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد ایس سی 17 فیصد اور ایس ٹی 11 فیصد ہے جوکہ کافی مضبوط مستحکم ہے اور کسی بھی علاقہ سے اپنے وجود کو منواسکتے ہیں۔ انہوں نے انقلابی ادیبوں شعراء دانشوروں اور سیکولر اور سوشلسٹ طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ سیکولر محاذ دلت اور آدیواسیوں کی تحریک سے جٹ جائیں اور ملک سے فسطائی اور ہندوتوا طاقتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں ۔

TOPPOPULARRECENT