Wednesday , December 13 2017
Home / Ads Others / مسلمانوں کو ہر حال میں 12 فیصد تحفظات ،ملازمت کے قابل بنانے کیلئے 7 کروڑ مختص

مسلمانوں کو ہر حال میں 12 فیصد تحفظات ،ملازمت کے قابل بنانے کیلئے 7 کروڑ مختص

ہر اسمبلی حلقہ میں دو شادی خانوں کی تعمیر ، سید اور پٹھان کو بھی تحفظات کے دائرہ میں لایا جائے گا ، ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کے سی آر حکومت مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کے لیے پابند عہد ہے ۔ اسمبلی انتخابات کے دوران اس نے اقلیتوں سے جو وعدے کئے انہیں مرحلہ وار انداز میں پورا کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے جو بہبودی اسکیمات شروع کئے ہیں ان کی سارے ہندوستان میں نظیر نہیں ملتی ۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال جناب محمود علی نے سیاست سے خصوصی بات چیت میں کیا ۔ ٹی آر ایس حکومت کے مسلم چہرے کی حیثیت سے شہرت رکھنے والے جناب محمود علی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل ہی مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی شعبہ میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور آج بھی حکومت اس وعدہ پر قائم ہے لیکن حکومت چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو دئیے جانے والے ان تحفظات کو مستقبل میں کوئی چیلنج نہ کرسکے اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی رکاوٹیں پیدا ہوں ۔ اس نکتہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سمت بڑی احتیاط سے قدم آگے بڑھائے جارہے ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات تو فراہم کیے لیکن جان بوجھ کر اس میں قانونی پیچیدگیوں کی راہ کھلی رکھی ۔ ٹی آر ایس حکومت اس قسم کی دوغلی پالیسی پر عمل نہیں کرے گی ۔ اس ضمن میں انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 4 فیصد تحفظات کے ثمرات سے سید اور پٹھان محروم ہیں لیکن ٹی آر ایس حکومت غریب سید اور پٹھانوں کو بھی تحفظات کے دائرہ میں لا کر رہے گی ۔ اس سوال پر کہ حکومت اقلیتی نوجوانوں کی ترقی کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے ؟ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ جس طرح حکومت تعلیم روزگار اور ہاوزنگ اسکیم میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے ۔ اسی طرح اقلیتی نوجوانوں کو روزگار سے لگانے میں بھی وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ ملازمتوں کے لیے انہیں تیار کرنے کی خاطر اسکلس ڈیولپمنٹ ( فروغ مہارت ) کے لیے 7 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ اقلیتوں کے تئیں ٹی آر ایس حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اقلیتی بہبود کے لیے مختص 1105 کروڑ روپئے کے بجٹ سے لگایا جاسکتا ہے ۔

ماضی کی حکومتوں میں اقلیتی بہبود کا بجٹ پوری طرح استعمال میں نہیں لایا جاتا تھا لیکن کے سی آر حکومت نے اقلیتی بہبود کے لیے مختص بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے کا تہیہ کیا ہے ۔ فیس باز ادائیگی اسکیم کے بارے میں ڈپٹی چیف منسٹر نے جو ریاستی مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کی دیرینہ خواہش رکھتے ہیں بتایا کہ 450 کروڑ روپئے فیس باز ادائیگی اسکیم کے لیے مختص کئے گئے ۔ اس سے ہمارے لڑکے لڑکیوں کو کے جی سے لے کر پی جی تک تعلیم حاصل کرنے میں غیر معمولی سہولت حاصل ہورہی ہے ۔ ایک اور سوال پر جناب محمود علی نے انکشاف کیا کہ شادی مبارک اسکیم کا انتخابات سے قبل وعدہ نہیں کیا گیا لیکن یہ اسکیم جو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ذہنی اختراع ہے غریب مسلم والدین کو راحت پہنچانے کے مقصد سے شروع کی گئی اور 5 سال میں اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ دختران ملت کو امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

اور انشاء اللہ حکومت اس نشانہ کی تکمیل کرے گی ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں میں فی حلقہ 2 شادی خانے تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اس سے غریب مسلمانوں کو بہت سہولت ملے گی وہ شادی خانوں کے بھاری کرایوں کی ادائیگی سے بچ جائیں گے ۔ بلدیہ حیدرآباد کے مجوزہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے امکانی موقف سے متعلق سوال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں کئے جارہے ترقیاتی کاموں کے باعث بلدیہ حیدرآباد پر ٹی آر ایس کا قبضہ ہوگا ۔ دوسری طرف حکومت پرانا شہر کو نئے شہر کی طرح سہولتیں فراہم کرنے کی خواہاں ہے اس کے لیے ہزاروں کروڑ روپئے کے پراجکٹس کو قطعیت دی گئی ہے ۔ برہمانند ریڈی پارک کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے آصفجاہ پارک سے موسوم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے جناب محمود علی نے کہا کہ کے سی آر حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری کی ہمیشہ ستائش کرتے ہیں ایسے میں علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کے موقع پر بھی کاسو برہمانند ریڈی پارک کو آصف جاہی پارک سے موسوم کرنے کی بات کی گئی تھی اور حکومت اپنے وعدہ کو عملی شکل ضرور دے گی ۔۔

نوٹ :     ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی کا تفصیلی انٹرویو سنڈے سپلیمنٹ میں شائع کیا جارہا ہے جس میں انہوں نے پرانا شہر کے مسائل ، مسلمانوں کی ترقی سے متعلق حکومت کے جامع منصوبوں ، اردو صحافیوں ، شعراء ، ادبا وغیرہ کی مالی مدد ، آئمہ و موذنوں کو دئیے جانے والے وظائف اور کئی ایک اہم ترین امور پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT