Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں نوک جھونک

مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں نوک جھونک

حیدرآباد /10 دسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے درمیان مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں نوک جھونک ہو گئی۔ مسٹر خان نے راجیہ سبھا میں مایاوتی اور آنند شرما کی جانب سے اتر پردیش میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر شروع کی گئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے آر ایس ایس، بجرن

حیدرآباد /10 دسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے درمیان مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں نوک جھونک ہو گئی۔ مسٹر خان نے راجیہ سبھا میں مایاوتی اور آنند شرما کی جانب سے اتر پردیش میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کے مسئلہ پر شروع کی گئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کی جانب سے مسلمانوں کو ہندو بنانے اور ڈرا دھمکاکر تبدیلی مذہب کے لئے مجبور کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد سے ہندوتوا طاقتیں من مانی کر رہی ہیں اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔ دریں اثناء مختار عباس نقوی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے بجرنگ دل، آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے ناموں کو حذف کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت قانون اور پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے اور پارلیمانی قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے۔ اس دوران ایم اے خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تینوں تنظیموں کے نام کسی سیاسی جماعت نے نہیں لئے، بلکہ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا ثبوت کے ساتھ ان ناموں کو پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور میں ہندوتوا طاقتیں ملک کے مختلف مقامات پر مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی قانون کے احترام کا ادعا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوتوا طاقتوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے کے سبب ان کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT