Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے تلنگانہ حکومت کی تشکیل کردہ سدھیر کمیٹی کو حیثیت نہیں

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے تلنگانہ حکومت کی تشکیل کردہ سدھیر کمیٹی کو حیثیت نہیں

مسلمانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ ریزرویشن یونائیٹیڈ فرنٹ کی کانفرنس ، جسٹس سدرشن ریڈی و دیگر اہم شخصیتوں کا خطاب

مسلمانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ ریزرویشن یونائیٹیڈ فرنٹ کی کانفرنس ، جسٹس سدرشن ریڈی و دیگر اہم شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔8 جون ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل کے بجائے تلنگانہ کے مسلمانوںکو سدھیر کمیٹی چاکلیٹ دینے کا کام کر رہی ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کیلئے پبلک سرویس کمیشن کے اعلامیہ سے قبل تلنگانہ کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت تلنگانہ سے جی او کی اجرائی ہی تحفظات کے متعلق مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا واحد ذریعہ ثابت ہوگا ۔ آج یہاں قدیم پریس کلب بشیر باغ میں تلنگانہ ریزرویشن یونائٹیڈ فرنٹ کے زیر اہتمام تلنگانہ میںسماجی انصاف کیلئے مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی جدوجہد کے آغاز پر منعقدہ پہلی ریاستی کانفرنس سے خطاب کے دوران تلنگانہ کے غیرمسلم دانشوارئوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ جسٹس سدرشن ریڈی (موظف ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی حکومت تلنگانہ پر اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ انہوں نے مزید کہاکہ سدھیر کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ مسلمانو ںکو گمراہ کرنے کے لئے اس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ تحفظات کے مسئلہ کو آسانی کے ساتھ تعطل کا شکار بنایا جاسکے۔ مسٹر سدرشن ریڈی نے بارہ فیصد تحفظات کے معاملے میں تلنگانہ کے ہرضلع سے مسلمانوں کی نمائندگی ضروری قرار دیا ہے ۔ تلنگانہ کے ہر ضلع سے تحفظات کے متعلق حکومت تلنگانہ کی تشکیل دی گئی سدھیر کمیٹی سے نمائندگی کو لازمی قراردیا ۔ کمیٹی کی حیثیت کچھ بھی ہومگر تحفظات کے متعلق مسلمانو ں کی نمائندگی حکومت کو جھنجھوڑنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ مسٹر سدرشن ریڈی نے سدھیر کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق حکومت تلنگانہ کی وضاحت کو بھی ضروری قرار دیا ۔ لاکھوں روپئے کے خرچ پر قائم کردہ سدھیر کمیٹی کی جانب سے کی گئی تحقیقات اور سروے کی تفصیلات عوام کے روبرو پیش کرتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اضطراب کو دور کرنا حکومت تلنگانہ کی ذمہ داری ہوگی ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے کہا کہ تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندگی کاشکار تلنگانہ کے مسلمانوں کا ماضی تابناک تھا ۔ انہوں نے کہاکہ عثمانیہ یونیورسٹی جہاں پر ماضی میں مسلم پروفیسرس اور طلباء کی اکثریت تھی وہیں آج یونیورسٹی میں پروفیسرس او ر طلباء کی کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے ساتھ پچھلے ساٹھ سالوں سے امتیازی سلوک برتا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج مسلم بچے چھوٹے کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ مسلمانو ںکی موجودہ صورتحال میں تبدیلی کے لئے انہیں ریاست کے تمام شعبہ حیات میں بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی ضروری ہے ۔ دلتوں پر مظالم کے متعلق جو نظریات ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کے تھے موجودہ دور میں وہی حالات مسلمانوں کے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قانونی شعبوں میں مسلمانو ںکے ساتھ جاری امتیازی سلوک ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ قومی سطح پر مسلمانوں کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کے لئے فرقہ پرست طاقتیں منظم سازشوں میں مصروف ہیں ۔ پروفیسر ہر ا گوپال نے حکومت سے مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے حکومت تلنگانہ کے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ چیرمن تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈرام نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی‘ معاشی اور سماجی پسماندگی کاشکار طبقات کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے دستور ہند کے تحت تحفظات فراہمی کا لائحہ عمل طئے کیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ پسماندگی کاشکار طبقات کی ترقی کیلئے تحفظات ان کا دستوری حق ہے۔ تحفظات کے ذریعہ ہی تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے ہر ہندوستانی شہری کو دستوری حقوق کے مکمل استعمال کا حق حاصل ہے ۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے پسماندگی کاشکار طبقات کے لئے تحفظات کی فراہمی ضروری ہے ۔ ایس سی‘ ایس ٹی کو پہلے سے ہی تحفظات فراہم ہیںمگر بی سی اور اقلیتی طبقات کو تحفظات کی فراہمی کے لئے مختلف کمیشنوں اور کمیٹیوں کاقیام عمل میں لایا گیا ۔ مسلم اقلیت کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی حقیقی منظر کشی کو حکومت کی تشکیل دی گئی کمیٹی اور کمیشنوں کی رپورٹ نے کی ہے۔ پروفیسر کودانڈرام نے کہاکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کیلئے حکومت تلنگانہ کی تشکیل کردہ سدھیر کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ بی سی کمیشن کی رو سے تشکیل کردہ کمیٹی ہی تحفظات کی فراہمی کے متعلق ٹھوس رپورٹ تیار کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سدھیر کمیٹی کے ذریعہ حکومت تلنگانہ سے نمائندگی کا بہترین موقع ہے۔ سدھیرکمیٹی کی رپورٹ کے ذریعہ تحفظات کے متعلق سپریم کورٹ میں نمائندگی بھی کی جاسکے گی ۔ پروفیسر انور خان، مولانا سید طارق قادری ، ونود کمار، بی نائیک، عثمان بن محمد الہاجری، مسٹر لکشمی نارائن‘ مسٹر اجئے، محمد ریاض نے بھی خطاب کیا ۔ اسٹیٹ کنونیر ایم آر یو ایف محمد حنیف احمد ، ظفر اللہ صدیق، جابر بن سعید ، ثناء اللہ ، رفیق احمد پٹیل، جبار مجاہد سید امین الدین ، سعداللہ اور دیگر نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ محمد شریف مظہر نے جلسہ کی کاروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT