Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے ریاست گیر نمائندگیاں شروع

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے ریاست گیر نمائندگیاں شروع

سیاست مسلم ایمپاورمنٹ تحریک
مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے ریاست گیر نمائندگیاں شروع
بی سی کمیشن کی سفارش پر زور، مسلم قوم کی ترقی کیلئے مذہبی، سیاسی، سماجی تنظیموں کے علاوہ سیکولر قائدین متحرک

حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 12فیصد مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے روز نامہ سیاست کی ریاست گیر مہم زور پکڑتی جاری ہے۔ ملی، مذہبی، سیاسی تنظیموں کے علاوہ نوجوان نسل اور سیکولر اقدار کے قائدین بھی سیاست کی تحریک سے جٹ رہے ہیں۔ روزگار اور تعلیم میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کے چیف منسٹر کے وعدہ پر عمل آوری کیلئے ریاست بھر میں نمائندگیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ کل ضلع میدک اور رنگاریڈی کے بعد آج عادل آباد اور نظام آباد اضلاع میں نمائندگیاں پیش کی گئیں۔ روز نامہ سیاست میں شائع کردہ پروفارما کے تحت بھینسہ اور بودھن میں یادداشتیں پیش کی گئیں۔ ریاست میں جہاں ایک طرف مسلمان حسب وعدہ تعلیم اور روزگار میں 12فیصد تحفظات کا مطالبہ کررہے ہیں تو دوسری طرف تحفظات کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی زور دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کو بروقت یقینی بنانے کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کرنے کی درخواست کی اور انہیں ایک یادادشت حوالے کی۔ اس موقع پر جناب شکیل عامر نے مسلم تحفظات کیلئے جاری تحریک کا خیرمقدم کیا اور بلالحاظ پارٹی مسلمانوں کے اتحاد پر مسرت ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان متحد ہوکر اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے تحریک کے میدان میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ رکن اسمبلی بودھن نے روز نامہ سیاست کی تحریک کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر بودھن ٹاؤن کے ٹی آر ایس صدر عابد احمد صوفی ، ایم پی ٹی سی راؤ، ایڈوکیٹ سنگل ونڈو چیرمین شرت ریڈی اور موظف ایم ای او الحاج محمد اعظم، میر نظیر علی، محمد احتشام الدین، شیخ محمود حسین و دیگر شامل تھے۔ بھینسہ ٹاؤن میں 12فیصد مسلم تحفظات کے لئے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا شاخ بھینسہ کے ایک وفد نے تحصیلدار بھینسہ مسٹر رام موہن کو ایک یادداشت پیش کی۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کی طرح ٹال مٹول اور ایسے تحفظات کو فراہم نہ کیا جائے جو قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔ کمیشنوں اور سرکاری سفارشات کے بی سی کمیشن کی رپورٹ پر تحفظات فراہم کئے جائیں جو کہ یقینی طور پر مسلم اقلیت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں۔ مسلمانوں نے سدھیر کمیشن کی سفارش ،خود حکومت کی سفارش کے بجائے بی سی کمیشن کی سفارش پر زور دیا۔ ضلع نظام آباد کے بودھن شہر میں مسلمانوں کے ساتھ آج سیکولر قائدین بھی سیاست کی تحریک میں جٹ گئے اور مسلمانوں کے لئے حسب وعدہ تحفظات کو ان سیکولر قائدین نے ضروری قرار دیا اور تحفظات کیلئے جاری تحریک کی بھرپور حمایت کی۔ بودھن شہر میں صدر جماعت اسلامی ہند شاخ بودھن محمد عابد حسین فاروقی اور صدر جمعیت العلماء ہند مولانا عبدالحمید جمیل، سید اشفاق رکن بلدیہ و دیگر نے رکن اسمبلی بودھن محمد شکیل عامر سے ملاقات کی۔اس وفد میں ارشاد الحق مقامی صدر ایس آئی او، سید سرفراز سکریٹری و دیگر موجود تھے۔ اس وفد نے بھینسہ کے تحصیلدار سے کہا کہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے انتخابات سے قبل اپنے وعدوں میں ریاست کے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار پر فائز ہوکر ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اپنے وعدہ پر عمل پیرا نہیں ہوئے۔ وفد نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمان پسماندگی کے شکار ہیں اور تمام شعبوں میں کافی پیچھے ہیں۔ اس وفد نے مزید کہا کہ مسلمانوں میں کوئی طبقہ اعلیٰ یا ادنیٰ نہیں ہوتا بلکہ تمام مسلمان مساوی ہوتے ہیں لہذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ مسلمانوں میں فرق کئے بغیر تمام مسلمانوں کیلئے فائدہ بخش اپنے وعدہ کے مطابق 12فیصد تحفظات کا اعلان کریں۔ ایس آئی او کے وفد نے تحفظات میں تاخیر پر تحریک میں شدت پیدا کرنے اور منظم احتجاج کا فیصلہ کیا۔ایس آئی او نے روز نامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ قوم کی نوجوان نسل کیلئے مدیر سیاست کی فکر اور قوم کی سربلندی کیلئے کوششوں کو مسلمانوں کی جانب سے مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس وفد میں محمد عرفان، حفیظ خاں، محمد مجاہد احمد، محمد زبیر و دیگر موجود تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT