Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے سدھیر کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے سدھیر کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار

٭ اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہی مرکز کو روانہ کردیا جائے گا
٭ محکمہ اقلیتی بہبود میں ناکافی اسٹاف کا اعتراف، 200 جائیدادوں پر جلد تقررات: کے سی آر

آلیر انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ مسترد
چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آلیر انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے انکاؤنٹر کی تحقیقات کیلئے پہلے ہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے اور اس کی رپورٹ ملنے کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اگر ناانصافی ہوئی ہے تو ذمہ دار عہدیداروں کو سزا دی جائے گی۔ ضلع نلگنڈہ کے آلیر میں 7اپریل کو یہ انکاؤنٹر ہوا تھا جس میں پانچ مسلم زیر دریافت قیدیوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔قبل ازیں قائد مقننہ مجلس اکبر اویسی نے یہ مسئلہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔( ابتدائی خبر صفحہ 6پر )۔

حیدرآباد /7 اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے آج اسمبلی میں کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے والی سدھیر کمیٹی کی رپورٹ وصول ہوتے ہی اسمبلی میں مسلمانوں کے لئے 12 فیصد تحفظات کی قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں 200 جائدادوں پر جلد از جلد تقررات کئے جائیں گے، جب کہ سارے ملک میں ریاست تلنگانہ کے فلاحی اقدامات سرفہرست ہیں۔ بہبود کے مسئلہ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے مسلمانوں کی ترقی کو نظرانداز کیا ہے، وہ مسلمانوں کی پسماندگی سے واقف ہیں، جس کا جائزہ لینے کے لئے ڈی سدھیر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے 1105 کروڑ کا بجٹ منظور کرچکے ہیں، تاہم اقلیتی بہبود میں اسٹاف نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ مکمل خرچ نہیں ہو رہا ہے، جس کا جائزہ لینے کے لئے سربراہ اینٹی کرپشن بیورو اے کے خان کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیلدی گئی ہے۔

کمیٹی کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد وہ مسلم منتخب نمائندوں کا اجلاس طلب کرکے اقلیتوں کی ترقی کے لئے مشاورت کریں گے اور جلد از جلد محکمہ اقلیتی بہبود میں 100 تا 200 اسٹاف کا تقرر کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کے لئے ٹی آر ایس حکومت بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس پر عمل آوری کے طریقہ کار سے وہ خوش نہیں ہے۔ وہ ایس سی طبقات کے طرز پر اقلیتی طلبہ کے لئے ریسیڈنشل سوسائٹیز قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور اعلی عہدہ داروں سے مشاورت جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اسکیل ڈیولپمنٹ کے ذریعہ نفع پہنچانے اور قبرستانوں کے لئے اراضی فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اگر سرکاری اراضی نہیں ہے تو خریدکر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ ایس ایل بی سی کے اجلاس میں اقلیتوں کے بشمول تمام طبقات کو قرضہ جات کی ادائیگی کے مسئلہ پر بینکرس سے بات چیت کی جائے گی، کیونکہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کی ترقی کے معاملے میں اپنے عہد کی پابند ہے۔

کسی بھی شعبہ میں مسلمانوں کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم طلبہ کو بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے سے متعلق اوورسیز اسکالر شپس کے سلسلے میں وہ کل ہی اعلی عہدہ داروں سے تفصیلات حاصل کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ آلیر انکاؤنٹر کی تحقیقات کے لئے وہ سٹ تشکیل دے چکے ہیں، رپورٹ وصول ہونے کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ وہ اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، بلکہ حکومت مکمل انصاف کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسمبلی میں پراجکٹس کے ری ڈیزائن پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرنے والے تھے، لیکن اپوزیشن جماعتیں ایوانوں میں نہیں تھیں، لہذا 15 یا 16 اکتوبر کو تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، قائدین مقننہ اور صحافیوں کی موجودگی میں ساری تفصیلات پیش کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 15 ماہی صدر راج کے سوا اب تک ریاست میں کانگریس اور تلگودیشم نے حکمرانی کی ہے۔ نئی ریاست میں ٹی آر ایس حکومت کے صرف 15 ماہ مکمل ہوئے ہیں، لیکن اپوزیشن جماعتیں ہر معاملے میں ٹی آر ایس حکومت کو ذمہ دار قرار دے کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں اور ایوانوں سے بے دخل کردینے کا حکومت پر الزام عائد کر رہی ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسانوں کے مسائل پر مباحث کے لئے اپوزیشن جماعتیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مباحث کے دوران اپوزیشن کی غلطیاں منظر عام پر آنے کے خوف سے اسمبلی کے حالات کو بگاڑا گیا، جس کی وجہ سے انھیں اسمبلی سے باہر کرنا پڑا، کیونکہ ایوان میں غیر جمہوری احتجاج کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات پر ریاست میں 33 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیا جا رہا ہے، مسلم غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے شادی مبارک اسکیم اور ایس سی و ایس ٹی غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے کلیان لکشمی اسکیم پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوشیل ویلفیر ہاسٹل میں مقیم طلبہ کو باریک چاول سربراہ کیا جا رہا ہے، جس پر سالانہ 800 کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں، جب کہ آئندہ سال جونیر کالج کے طلبہ کے لئے بھی اس اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی معاشی حالت مستحکم ہے، چار ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے 60 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ نئی ریاست کو ترقی دینے کے لئے جامع منصوبہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ابھی وہ سنہرے تلنگانہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جس میں تھوڑی سی بھی غلطی تلنگانہ کے لئے نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ جب تک زندہ ہیں، غلطی سے بچیں گے اور غلط کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اسمبلی میں کسانوں کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو نہ کرنے والی اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر گھوم کر کسانوں کو کیا تیقن دیں گی۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے خطاب کے بعد اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری نے اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT