Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد ، قبائلی طبقات کو 10 فیصد تحفظات

مسلمانوں کو 12 فیصد ، قبائلی طبقات کو 10 فیصد تحفظات

تلنگانہ کابینہ کا فیصلہ ، آج اسمبلی کے خصوصی اجلاس کی طلبی
حیدرآباد ۔ 15 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ نے مسلمانوں کو 12 فیصد اور قبائیلی طبقات کے تحفظات میں 10 فیصد توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل منعقد ہونے والے اسمبلی و کونسل کے اجلاس میں اس کو منظوری دی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کیلئے 3.66 فیصد ڈی اے دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد چیف منسٹر نے مسلمانوں کی تعلیمی معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے سدھیر کمیشن اور ایس ٹی طبقات کی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے چیلیا کمیشن تشکیل دی تھی۔ مسلمانوں کو بی سی طبقات میں شامل تحفظات میں توسیع دینے کیلئے راملو کی قیادت میں بی سی کمیشن تشکیل دی تھی۔ چار دن قبل منعقدہ کابینہ اجلاس میں کمیشنوں کی رپورٹس کو قبول کیا گیا۔ آج پرگتی بھون میں چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں منعقدہ کابینی اجلاس میں مسلمانوں کو 12 فیصد اور قبائیلی طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ کل منعقد ہونے والے اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں اس پر مباحث کرتے ہوئے متفقہ رائے فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ایمپلائز کو 3.66 فیصد ڈی اے دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں مختلف ترقیاتی و فلاحی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ دو ڈرپ اریگیشن اسکیمات کو منظوری دی گئی۔ آر ڈی ایس پراجکٹ کا جائزہ لیا گیا اور تعمیری سرگرمیوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی بزنس اڈوائزری کمیٹی ( بی اے سی ) کا ایک اہم اجلاس آج یہاں اسمبلی میں مسٹر مدھوسدن چاری اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں اسمبلی کے خصوصی سیشن کو صرف ایک دن کے لیے ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس فیصلہ کی روشنی میں تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا خصوصی ایک روزہ اجلاس کل یعنی 16 اپریل کو صبح 11 بجے شروع ہوگا جو شام تک جاری رہے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایک روزہ اجلاس میں جی ایس ٹی ، تحفظات کی فراہمی ، ہیرٹیج جیسے اہم موضوعات پر مباحث ہوں گے اور بل پیش کیے جائیں گے ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ، وزیر آبپاشی و امور مقننہ مسٹر ٹی ہریش راؤ ، وزیر فینانس مسٹر ای راجندر ، وزیر زراعت مسٹر پی سرینواس ریڈی ، ڈپٹی چیف منسٹر برائے امور تعلیم مسٹر کے سری ہری ، کانگریس قائدین ملو بھٹی و کرامارکا ، ڈاکٹر جی چنا ریڈی ، قائد ب جے پی مقننہ پارٹی مسٹر جی کشن ریڈی ، تلگو دیشم پارٹی سے ایس وینکٹ ویریا ، مجلس کے رکن بھی شریک تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایوان کی کارروائی سے معطل تلگو دیشم پارٹی رکن اسمبلی مسٹر ایس وینکٹ ویریا کی اجلاس میں شرکت پر مسٹر ہریش راؤ نے اعتراض کیا ۔ جس پر بتایا جاتا ہے کہ مسٹر وینکٹ ویریا اجلاس سے واپس ہوگئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT