Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کیلئے چیف منسٹر کے سی آر سنجیدہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کیلئے چیف منسٹر کے سی آر سنجیدہ

پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں جدوجہد ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہیں اور ان کا یہ اعلان قابل ستائش ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں مسلم تحفظات کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ انڈیا ٹوڈے کے سائوتھ کانکلیو میں چیف منسٹر کی شرکت اور تحفظات سے متعلق اظہار خیال کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران چیف منسٹر نے مسلمانوں کی پسماندگی کو قریب سے دیکھا۔ اسی وقت انہوں نے طے کرلیا تھا کہ تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ پسماندگی دور کی جائے۔ انتخابی منشور میں 12 فیصد تحفظات کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں سنجیدہ مساعی کی ہے۔ سابق کانگریس حکومت کی کوتاہیوں اور عدالت میں ناکامیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کے سی آر حکومت نے تمام ضروری قواعد کی تکمیل کی ہے تاکہ عدالتوں میں تحفظات کو چیلنج نہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن سے مسلمانوں کی حالت پر رپورٹ حاصل کی گئی اور پھر بی سی کمیشن قائم کیا گیا۔ تحفظات کی فراہمی کے لیے بی سی کمیشن کی رپورٹ ناگزیر ہے لہٰذا کے سی آر نے کمیشن قائم کرتے ہوئے تحفظات کے حق میں رپورٹ حاصل کی اور اس کے مطابق اسمبلی میں بل کو منظوری دی گئی ہے۔ محمود علی نے کہا کہ مرکزی حکومت سے بل کی منظوری کی مساعی کی جارہی ہے۔ انہیں امید ہے کہ چیف منسٹر کو دیے گئے تیقن کے مطابق مرکز مسلم تحفظات بل کو منظوری دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ارکان پارلیمنٹ مجوزہ بجٹ سیشن میں مسلم تحفظات مسلم کو شدت سے پیش کریں گے اور مرکز پر بل کی منظوری کے لیے دبائو بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اس کی تکمیل ضرور کرتے ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں تھی لیکن کے سی آر نے پرامن جدوجہد کے ذریعہ علیحدہ ریاست حاصل کی اور آندھرائی قائدین کی ناانصافیوں کا خاتمہ کیا۔ متحدہ آندھرا میں تلنگانہ کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں چیف منسٹر نے اقلیتوں کے علاوہ دیگر طبقات کے لیے نئی اسکیمات متعارف کیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے بارے میں انتخابی وعدوں کے علاوہ کئی نئی اسکیمات کے ذریعہ تعلیمی اور معاشی ترقی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اقلیتوں اور کمزور طبقات کی بھلائی کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت کے اقدامات ملک بھر میں مثالی ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ تحفظات کے سلسلہ میں اندیشوں کا شکار نہ ہوں کیوں کہ کے سی آر جو ٹھان لیتے ہیں اسے انجام دے کر ہی دم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک، آئمہ اور موذنین کا اعزازیہ اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیمات سے اقلیتوں کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ بیرون ملک تعلیم کے خواہاں اقلیتی نوجوان اوورسیز اسکالرشپ اسکیم سے استفادہ کررہے ہیں۔ حکومت نے غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے امدادی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے 75 ہزار روپئے کردیا ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ریونیو حکام کی مدد سے سروے کا اہتمام کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT