Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کیلئے کے سی آر کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کیلئے کے سی آر کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

طلاق ثلاثہ پر مباحث کے دوران ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کی راہ ضروری، محمد علی شبیر

حیدرآباد ۔20 جنوری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ پر الزام عائد کیا۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے راہ فرار اختیار کرنے والی ٹی آر ایس کیلئے ماحول سازگار بنانے کیلئے تحفظ شریعت کے جلسے کرنے کا دعویٰ کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے بتایا کہ انڈیا ٹوڈے کانکلیو انٹرویو سے کے سی آر نے تلنگانہ کے بشمول سارے ملک کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ پہلے 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ 4 سال میں بھی پورا نہیں کیا گیا ہے تقریباً 10 ماہ قبل اسمبلی اور کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا بل منظور کیا گیا، جس کے بعد سے آج تک ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے کبھی اس مسئلہ کو نہ لوک سبھا میں اٹھایا اور نہ ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ جنترمنتر پر دھرنا دینے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا جو جماعت مودی کے خوف سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ کے بل پر رفو چکر ہوگئی ہے اسی سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں مرکز کو آنکھیں دکھانے کی کیسے امید کی جاسکتی ہے جبکہ نیتی آیوگ، نوٹ بندی، جی ایس ٹی صدرجمہوریہ اور نائب صدرجمہوریہ کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے بی جے پی کی کھل کر تائید کی ہے۔ طلاق ثلاثہ بل کی پیشکشی کے موقع پر غیرحاضر رہتے ہوئے بالواسطہ بی جے پی کی تائید کی ہے۔ ایسی بھگوڑی ٹی آر ایس کیلئے اضلاع میں فائدہ پہنچانے کیلئے تحفظ شریعت کے جلسے منعقد کئے جارہے ہیں۔ کانگریس نے 17 سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو رکوایا ہے، جس میں این ڈی اے کی تین حلیف جماعتیں تلگودیشم، بیجو جنتادل اور انا ڈی ایم کے شامل ہیں۔ جلسوں کا انعقاد کرانے والے علماء، مشائخین کی ذمہ داری ہے وہ ان جماعتوں کو مدعو نہ کریں تو کم از کم ان سے اظہارتشکر تو کیا جائے۔ ایسا نہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو جلسوں میں مدعو کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ کانگریس پارٹی اسمبلی و کونسل کے بجٹ اجلاس میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے ٹی آر ایس کو گھیرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرے گی۔ ٹی آر ایس حکومت نااہل ہے اور کے سی آر ناتجربہ کار چیف منسٹر ہے۔ کون دلت ہے اور کون سچن اس کا بھی علم نہیں ہے۔ ایس سی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلے کرنے والے قائد تلنگانہ اسٹیٹ اقلیتی کمیشن کا نائب صدرنشین نامزد کیا گیا۔ جیسے ہی اطلاع عام ہوئی اس سے فوری استعفیٰ دلادیا گیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے حیدرآباد کی ترقی کے تعلق سے جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔ کانگریس کے 10 سالہ دورحکومت میں 2 لاکھ کروڑ روپئے کے مصارف سے حیدرآباد کو ترقی دی گئی ہے۔ ٹی آر ایس کے دورحکومت میں نہ ایک فلائی اوور تعمیر ہوا نہ ہی ریاست میںکوئی نئی کمپنی قائم ہوئی ہے۔ کانگریس کے 60 سالہ حکومت پر سوال کرنے والوں کے منہ پر حالیہ سپریم کورٹ کا بحران طمانچہ ہے۔ 60 سال کے دوران ناانصافی کا شکار ہونے والے عوام عدلیہ سے رجوع ہوتے تھے۔ مودی کے ساڑھے تین سالہ دورحکومت میں چار ججس دستور کے تحفظ کیلئے عوام سے رجوع ہوئے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کی حکومتوں کے درمیان یہی فرق ہے۔

TOPPOPULARRECENT