Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد /17 جون (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد سراج الدین کی قیادت میں کانگریس کے اقلیتی قائدین و کارکنوں نے چیف منسٹر کیمپ آفس پر احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کا مطالبہ کیا، جب کہ پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرتے ہوئے شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔ اسی دوران و

حیدرآباد /17 جون (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد سراج الدین کی قیادت میں کانگریس کے اقلیتی قائدین و کارکنوں نے چیف منسٹر کیمپ آفس پر احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کا مطالبہ کیا، جب کہ پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرتے ہوئے شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔ اسی دوران ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس ملو بٹی وکرامارک نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر کانگریس کے اقلیتی قائدین سے ملاقات کی اور 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کے مطالبہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج میں تلنگانہ پردیش کانگریس، اقلیت ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ہے اور آئندہ اس کے احتجاج میں حصہ لے گی۔ اس احتجاج میں تلنگانہ پردیش کانگریس کے سکریٹری سید یوسف ہاشمی کے علاوہ کانگریس کے دیگر قائدین مسرز سید حشمت اللہ قادری، میر ہادی علی، خواجہ غیاث الدین، اعجاز خان، وحید الدین، مختار احمد، وحید خان (میدک) اور محمد عرفان خان (نظام آباد) بھی شامل تھے۔ دریں اثناء محمد سراج الدین نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار کے ایک سال مکمل ہونے کے باوجود حکومت اپنے وعدہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی، جب کہ 18 جون سے ایمسٹ کونسلنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کی یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ماہ جولائی سے سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے حکومت کے پاس وقت نہیں ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوراً آرڈیننس جاری کرتے ہوئے تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں، کیونکہ آرڈیننس کی اجرائی سے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ اقلیتی طلبہ کی فیس باز ادائیگی کے علاوہ بقایہ جات بھی جاری کرے۔ علاوہ ازیں وقار احمد اور ان کے ساتھیوں کے انکاؤنٹر کی عدالتی یا سی بی آئی کے تحقیقات کرائے اور کشن باغ میں مسلمانوں پر فائرنگ کرنے والے پولیس ملازمین اور مہدی پٹنم میں مصطفی نامی لڑکے کی موت کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ٹیچرس کی مخلوعہ جائدادوں پر تقررات کے لئے خصوصی ڈی ایس سی کا اہتمام کیا جائے، اقلیتوں کے لئے سب پلان تیار کیا جائے، ائمہ مساجد کو تنخواہیں فراہم کی جائیں اور وقف جائدادوں سے ناجائز قبضے برخاست کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT