Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات پر فکر مند نہ ہونے کا مشورہ ، حکومت تلنگانہ سنجیدہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات پر فکر مند نہ ہونے کا مشورہ ، حکومت تلنگانہ سنجیدہ

کانگریس کی دستخطی مہم سیاسی مقصد براری ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا ردعمل
حیدرآباد۔ 6 ۔ اپریل ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت مسلم تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے اور مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے مسئلہ پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کانگریس پارٹی کی جانب سے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر دستخطی مہم کے آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں واضح طور پر حکومت کے موقف کو بیان کیا لیکن کانگریس پارٹی سیاسی مقصد براری کیلئے تحفظات کے مسئلہ پر سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے تحفظات کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کو بری طرح نظر انداز کردیا ہے۔ میدک پارلیمانی حلقہ کا ضمنی انتخاب، ورنگل کا ضمنی انتخاب، گریٹر حیدرآباد ، نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ اور ورنگل و کھمم بلدی انتخابات میں عوام نے کانگریس پارٹی کو بری طرح مسترد کردیا۔ مسلمانوں اور دیگر طبقات نے کانگریس پارٹی پر اعتماد کھودیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بشمول تمام طبقات کا ٹی آر ایس پر مکمل اعتماد ہے اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ تمام طبقات کی بھلائی کیلئے جو اقدامات کئے،

 

اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ سدھیر کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی صورتحال کا سروے کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے رپورٹ کی پیشکشی کے بعد حکومت بی سی کمیشن تشکیل دے گی جو مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی سفارش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مکمل جامع سروے رپورٹ کے ساتھ تحفظات کی فراہمی کے حق میں ہے تاکہ دوبارہ کوئی قانونی رکاوٹ پیدا نہ ہوسکے۔ محمود علی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی دراصل مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے اور وہ دوبارہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں اقلیتی بہبود کا جو بجٹ تھا ، اس سے کئی گنا زیادہ بجٹ ٹی آر ایس حکومت نے مختص کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کی جو اسکیمات شروع کی گئیں، اس کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ کانگریس نے مسلمانوں کو ہمیشہ ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور ان کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری بہت جلد اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردے گا ۔ تمام سرکاری محکمہ جات کی جانب سے کمیشن کو مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ روانہ کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT