Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے آرڈیننس کی منظوری کا مطالبہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے آرڈیننس کی منظوری کا مطالبہ

حکومت اپنا انتخابی وعدہ پورا کرے ، ماینارٹیز ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بیان
حیدرآباد ۔ 29 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسٹیٹ ماینارٹیز ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ریاست تلنگانہ کے مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق کئے گئے انتخابی وعدے کو پورا کرتے ہوئے ایوان اسمبلی میں 12 فیصد تحفظات سے متعلق آرڈیننس منظور کر کے ریاست کے مسلم اقلیتوں کو تمام شعبہ حیات میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی راہ ہموار کی جائے تاکہ ریاست کو سنہرا تلنگانہ میں تبدیل کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے ۔ ان خیالات کااظہار آج یہاں چیرمین مسٹر ایم اے فاروق احمد ، سکریٹری جنرل مسٹر ایم اے نعیم ، کوکنوینر ڈاکٹر اے اے خاں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مسلم اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی حالت زار سے متعلق سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر پیش کردیا تھا کہ ملک میں مسلم اقلیتوں کی حالت کمزور اور پسماندہ طبقات سے بھی بدتر ہے لیکن اس کے باوجود برسر اقتدار حکومتوں کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو درپیش تعلیمی اور معاشی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں مسلم اقلیتیں تعلیمی ، معاشی اور سیاسی میدانوں میں پسماندگی کا شکار ہیں ۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کے مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق کئے گئے انتخابی وعدے کی تکمیل کیے بغیر ہی سرکاری ملازمتوں میں ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کردیا تھا جن کے منجملہ 25 ہزار سرکاری جائیدادوں پر تقررات سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ امتحانات منعقد کروائے گئے جس کے نتیجہ میں مسلم اقلیتیں سرکاری ملازمتوں کے حصول میں 12 فیصد تحفظات سے محروم ہوگئے ۔ اور اس پر یہ طرفہ تماشہ کے حالیہ منعقدہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں سوالات کا پرچہ صرف انگلش اور تلگو زبان میں فراہم کیا گیا جب کہ اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا موقف دئیے جانے کے باوجود سوالات کے پرچے میں اردو زبان کو نظر انداز کردیا گیا جس کی وجہ سے کئی اردو ذریعہ تعلیم سے وابستہ طلباء مذکورہ امتحان میں کامیابی سے محروم ہوجانے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر زور دیا کہ وہ ریاست کے مسلم اقلیتوں کو بی سی زمرہ میں شامل کرتے ہوئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لیے جامع قانون مدون کرتے ہوئے تحفظات پر عمل آوری سے متعلق ضروری اقدامات کریں ۔ علاوہ ازیں سرکاری ملازمتوں کے لیے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے منعقد کئے گئے امتحان کو منسوخ کر کے مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کے اعلان کے بعد ہی جملہ ایک لاکھ سرکاری جائیدادوں کے تقررات کا نوٹیفکیشن جاری کرے اور ساتھ ہی ساتھ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تحت منعقد شدنی امتحانات کے سوالات کے پرچہ میں اردو زبان کو بھی شامل کرنے کے اقدامات کرے تاکہ ریاست کے مسلم اقلیتوں کی خوشحالی کو یقینی بنایاجاسکے ۔ اس موقع پر جے اے سی قائدین مسرز ایم اے غفور ، ایس ایس پرویز ، عبدالستار بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT