Friday , November 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے تلنگانہ میں روزنامہ سیاست کی مہم

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے تلنگانہ میں روزنامہ سیاست کی مہم

تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی سفارشات ضروری ، اضلاع میں کلکٹرس ، آر ڈی او ، ایم آر او اور ارکان پارلیمنٹ کو اسمبلی سے نمائندگیوں کیلئے مسلم تنظیموں پر زور

حیدرآباد ۔ /6 ستمبر (سیاست نیوز ) ادارہ سیاست نے تعلیم و ملازمت میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں مسلسل تاخیر پر تشویش و برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلہ پر مسلمانوں کا شعور بیدار کرتے ہوئے منصفانہ و جمہوری حق کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے بڑے پیمانے پر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے مطابق ادارہ سیاست کی قیادت میں مسلم ایمپاورمنٹ مومنٹ کے ساتھ بڑے پیمانے پر تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔ تاکہ مسلمانوں کو قانونی ضابطہ کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے ملازمتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کی تحریک میں ادارہ سیاست کے سرگرم رول کے سبب تلنگانہ کے مسلمانوں کا زبردست جوش و خروش پیدا ہوا جس کی بدولت نئی ریاست تلنگانہ کا وجود عمل میں آیا ۔ تحریک کے دوران اس کی قیادت کرنے والے قائدین نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 12 فیصد دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 15 ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عملی اقدامات نہیں ہوسکے ۔ نئی ریاست تلنگانہ کی آبادی 3.5 کروڑ ہے جس میں 12.43 فیصد مسلمان ہیں ۔ تلنگانہ کی آبادی میں 85 فیصد عوام کا تعلق کمزور طبقات سے ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس تناسب کے اعتبار سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے اس ضمن میں ٹاملناڈو کی تقلید کرتے ہوئے قانون سازی کے ذریعہ اپنا وعدہ پورا کرنے کا یقین بھی دلایا تھا ۔ تاہم ہنوز ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور ایسا لگتا ہے کہ وعدہ بھی فراموش کردیا گیا ہے۔ قبل ازیں 2004 ء میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے اس وقت کی راجشیکھر ریڈی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ قانونی نقائص کے سبب سپریم کورٹ میں اس کے خلاف 2007 ء کے دوران پیش کردہ درخواست کی سماعت کے دوران مجہول اور بے اثر ثابت ہوگیا  جس کے بعد 5 فیصد کے بجائے 4 فیصد تحفظات دیئے گئے جس پر عمل جاری ہے ۔   کیونکہ دستور کے مطابق 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے پسماندہ طبقات کمیشن کی سفارش ضروری تھی لیکن حکومت اس شرط کو پورا نہیں کی  کرسکی تھی ۔ حکومت تلنگانہ نے /3 مارچ 2015 ء سدھیر کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اندرون چھ ماہ رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ تاہم افسوسناک طور پر یہ کمیٹی تاحال اپنی رپورٹ پیش نہیں کرسکی ہے ۔ مزید برآں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے اس کمیشن کی رپورٹ کی کوئی قانونی یا دستوری اہمیت اس لئے بھی نہیں ہے کہ عدالتیں اس ضمن میں مقررہ روایات کے مطابق صرف پسماندہ طبقات کمیشن کی سفارشات کو ہی قبول کیا کرتی ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں یہ مسئلہ غفلت و سردمہری کے سبب لیت و لعل کا شکار ہی ہے کہ دوسری طرف حکومت تلنگانہ نے حال ہی میں 1242 جائیدادوں پر بھرتیوں کے لئے اعلامیہ جاری کی ہے اور مسلم نوجوانوں کو اندیشہ ہے کہ تحفظات کی فراہمی کے تقاضے پورے نہ ہونے کے سبب وہ ملازمت کے موقع سے محروم رہ جائیں گے ۔ مزید برآں حکومت تلنگانہ مختلف محکموں میں مزید 1,07,000 ( ایک لاکھ سات ہزار) جائیدادوں پر بھرتیوں کیلئے بہت جلد اعلامیہ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اس صورت میں مسلم نوجوانوں کو طویل انتظار کے بعد حاصل ہونے والے موقع سے محرومی کا اندیشہ رہے گا ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے پسماندہ طبقات کمیشن ( بی سی کمیشن) کا فی الفور قیام ضروری ہے ۔ چنانچہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیلئے مسلم تنظیموں سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اپنی تنظیموں کے لیٹر ہیڈ پر متعلقہ ضلع کلکٹرس ، سپرنٹنڈنٹس پولیس ، آر ڈی او ، ایم آر او کے علاوہ عوامی منتخبہ نمائندوں ، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو نمائندگیاں پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے فی الفور بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں اور اپنی پیش کردہ نمائندگیوں کی نقول ادارہ سیاست کو روانہ کریں تاکہ ان کی تشہیر کرتے ہوئے روزگار کے لئے مسلمانوں کو ان کا جائز دستوری حق دلایا جاسکے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT