Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے متحدہ حکمت عملی پر زور

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے متحدہ حکمت عملی پر زور

سرکاری دفاتر میں اُردو مترجم کے تقرر کا مطالبہ ، ورنگل میں مشاورتی اجلاس سے دانشوروں کا خطاب
ورنگل۔17 اگست (سیاست ڈسڑکٹ نیوز)ریاستی حکومت کی جانب انتخابات کے دوران مسلمانو ں کے متعلق سے کئے گئے تمام اعلانات پر پوری طریقہ سے عمل آوری کی جائے جس میں خاص کر  12فیصد تحفظات کو یقینی بنائیں۔ اگر مسلمانوں کو  12فیصد تحفظات دینے میں حکومت سے تا خیر ہورہی ہو تو سرکاری ملازمتوں کو پر کرنے سے پہلے مسلمانوںکے لئے 12فیصد ملازمتوں کو تحفظ کریں یا پھر ملازمتوں کے تقرر پر روک لگائی جائے ۔آل تلنگانہ مسلم کے مشاورتی اجلاس سے ضلع ورنگل کے ذمہ دار دانشوران  نے متفقہ اظہار خیال کیا۔اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے توفیق الرحمن نے کہا کہ عنقریب  سرکار کی جانب سے  سرکاری مخلوعہ جائیدادوں کی بھر تی عمل میں آنے والی ہے اگر مسلمانوںکو دئے جانے والے 12فیصدسے پہلے اس پر عمل آوری ہو تو مسلمانوں کو بڑا نقصان ہوگا۔تقریبا چھ دہوں سے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں تقرر میںنظر انداز کیا گیا ہے ا ب جبکہ نئی ریاست تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمتوں پر تقرر عمل میں لایاجا رہا ہے تو پھر سے مسلمان ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے ۔انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یا تو وہ مسلمانوںکو 12فیصد تحفظات دینے کی کاروائی کو تیزی سے آگے بڑھائیںیا پھر سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کرنے پر روک لگائیں۔یا پھر مسلمانوںکے ملازمتوںکو تحفظ کرتے ہوئے  باقی پر مخلوعہ جائیدادیں پر کریں۔ اس موقع پر انجینئر سلیم بیگ نے کہا کہ  BC (E)  کے زمرے میں سید ،مغل اور پٹھان کو شامل نہ کیا جانا غیر واجب بات ہے جبکہ مسلمانوں میں کوئی طبقہ یا فرقہ نہیں ہوتا  سب مسلمان ایک ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تمام مسلمانوں کی حالت زار بیان کی ہے ۔جس میں سید، پٹھان،یا مغل کو الگ نہیں بیایا گیا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ BC (E)  کے زمرے میں سید ،مغل اور پٹھان کو شامل بھی شامل کریں۔ اس اجلاس کے میزبان محمد اکبر محی الدین اردو صحافی  ،محمد عبدالنعیم اردو صحافی ایس ایم سعید اردو صحافی نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ حکومت نامزد عہدوں میںمسلمانو ں کو ترجیح دیں اور آنے والے کارپوریشن میں مسلمانوں معقول نمائندگی کو یقینی بنائیں۔شہری علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی تعدادزیادہ وہاں کے سیٹس مسلمانوںکو مختص کریں ۔ میئر  اور ڈپٹی میئر کے عہدوں اور نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو آگے انے کے مواقع فراہم کریں۔اس موقع پر محمد حبیب الدین موظف لیبر آفیسر اور انجینئر ماجد خاں (سعود بھائی) غوث صاحب ٹیچر ،ڈاکڑ مصطفی،خالد سعید ، پروفیسرمصطفی ، انجینئر محمد یونسِ محمد عبدالمجیب، اور سید مجاہد نے مشترکہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مسلمانوں کو صرف وعدوں سے نہ بہلائیں بلکہ 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لئے اولین ترجیح دیں۔ اس موقع پر ڈاکڑ انیس احمد صدیقی نے کہا کہ حکومت کے چند اسکیمات مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ہیں لیکن ان اسکیمات پر بھر پور طریقہ سے عمل آوری کے لئے راہ ہموار کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی اس وقت نہ کریں جب تک مسلمانوں کی ملازمتوں کا تحفظ نہ کیا جائے۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ 12 فیصد تحفظات حاصل کرنے کے لئے متحدہ حکمت عملی بنائیں اور حکومت پر زور دیں کہ وہ اس کی راہ ہموار کرتے ہوئے اپنے انتخابی منشور میںکئے گئے وعدہ کو پورا کریں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے SIO صدر ضلع ورنگل اظہر الدین کہا کہ تعلیمی نصاب میں کئی ایک جگہ مسلمانوں کی تاریخ کو توڑ مروڑ کیا جارہاہے اس کی اصلاح ضروری ہے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب محمد افضل نے کہا کہ مسلمان حکومت سے اپنے مطالبات حاصل کرنے میں کمر بستہ ہوجائیں اگر یہ کام اس وقت نہیں ہوگا تو پھر کبھی نہیں ہوگا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ابوبکر سابق کارپوریٹر ، محمد عبدالقدس اور حبیب خان سابقہ زیڈ پی ٹی سی اور محمد سراج الدین نے مشترکہ اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی سے اطمینان کا اظہار کیا اور کئی ایک اسکیمات کی ستائش کی۔ اس اجلاس میں عظمت اللہ شریف،محمد بشیر،محمد عابد علی، خلیق الزمان، محمد ایوب علی،محمد خلیل احمد،محمد عبدالحلیم،خواجہ محی الدین، اقبال علی، مولانا ایاز محمود امام و خطیب مسجد شریفین کی تلاوت قرآن پاک سے شروع ہونے والے اس اجلاس کے آخری میں مولانا غوث محی الدین کی دعاء کے بعد محمد عبدالنعیم کے کلمہ تشکر کے ساتھ تقریباً تین گھنٹوں تک چلنے والے سیاسی و غیر سیاسی دانشوران کے اہم اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT