مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے اعلان کا خیرمقدم، سنجیدہ عمل کا مشورہ

پارٹی، کارپوریشن اور مقامی ادارہ جات میں بھی عمل کریں، وی ہنمنت راؤ کا بیان

پارٹی، کارپوریشن اور مقامی ادارہ جات میں بھی عمل کریں، وی ہنمنت راؤ کا بیان

حیدرآباد /5 جون (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے پارٹی اور حکومت میں مسلمانوں کو 12 فیصد نمائندگی دے کر اپنی سنجیدگی کا اظہار کریں۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جناب محمد محمود علی نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ٹی آر ایس حکومت کی سنجیدگی اور پابند عہد ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے کسی بھی ریاست میں 50 فیصد سے تجاوز نہ کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں، اسی لئے سپریم کورٹ کی رولنگ کے مطابق کانگریس حکومت نے 4 فیصد تحفظات دیئے تھے۔ اگر ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے تو وہ سب سے پہلے تنظیمی سطح پر پارٹی میں اور حکومتی سطح پر بورڈ اور کارپوریشن کے علاوہ مقامی اداروں، بلدیات، زیڈ پی ٹی سی وغیرہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرے، جس پر عدلیہ اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کروڑہا روپئے کی وقف جائدادوں پر ناجائز قبضے ہیں، لہذا بحیثیت وزیر مال اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ان قبضوں کو برخاست کریں اور حکومت و وقف بورڈ کے درمیان وقف اراضیات کے جو تنازعات ہیں، ان کو حل کریں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ناجائز قابضین کو برخاست کیا جائے یا انھیں وقف بورڈ کا کرایہ دار بنایا جائے، تاکہ اس کی آمدنی سے غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کئے جاسکیں۔

انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ماضی میں کئی مرتبہ وقف جائیدادوں کے قبضے برخاست کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، بالخصوص لگڑا پاٹی راجگوپال پر وقف جائداد پر قبضہ کا الزام عائد کیا تھا، لہذا اب ان کے پاس اقتدار ہے، جس کا استعمال کرتے ہوئے وقف جائدادوں کے تحفظ و ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور پسماندہ طبقات کے لئے مختص اراضیات پر سے بھی ناجائز قبضے برخاست کریں۔ علاوہ ازیں حسن علی نے وقف جائدادوں کے تعلق سے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس میں سابق صدر نشین وقف بورڈ خسرو پاشاہ پر بھی بے قاعدگیوں کا الزام ہے، جن کے خلاف سی بی سی آئی ڈی نے چار مقدمات درج کئے ہیں۔ انھوں نے متولیوں کی بے قاعدگیوں پر نظر رکھنے کے لئے وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس قائد یوسف ہاشمی بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT