Monday , November 20 2017
Home / دنیا / مسلمانوں کیخلاف ٹرمپ کی نفرت انگیز مہم پر یہودیوں کی برہمی

مسلمانوں کیخلاف ٹرمپ کی نفرت انگیز مہم پر یہودیوں کی برہمی

ٹرمپ کو درکار مندوبین کی تائید ملنا دشوار
واشنگٹن 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے متعدد سرکردہ یہودی مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے ایک صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے پیر کو یہاں منعقد شدنی ایک بڑی موافق اسرائیل کانفرنس میں وہ شرکت نہیں کریں گے۔ ان یہودی مذہبی رہنماؤں نے ڈونالڈ ٹرمپ پر ’نفرت کے بیج بونے‘ کا الزام عائد کیا۔ یہودی مذہبی پیشواؤں نے مزید کہاکہ ’’ان (ٹرمپ) کی مہم میں بالخصوص ہسپانوی نژاد افراد اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی جارحانہ اور فحش ریمارک کی جھلک دیکھی گئی ہے۔ علاوہ ازیں وہ (ٹرمپ) خواتین دیگر گروپوں، انسانوں کے رنگ کے بارے میں بھی کئی اہانت آمیز ریمارکس کرچکے ہیں اور اپنے ان ریمارکس پر بدستور اٹل ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان نے کہا ہے کہ ریپبلکن پارٹی تیزی کے ساتھ ایک کھلے کنونشن کی سمت گامزن ہے جہاں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لئے حریفوں کے درمیان راست مقابلہ ہوگا۔ ریان نے اس خیال کا اظہار کیاکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو جولائی تک بھی مندوبین کی درکار تعداد حاصل نہیں ہوگی۔

پال ریان نے جو جولائی کے دوران کلیو لینڈ میں ہونے والے کنونشن کے چیرمین بھی ہیں کہاکہ ’’پہلے کے خیال کے برخلاف اب بہت ممکن ہے کہ ایک کھلے کنونشن میں ہی ریپبلکن صدارتی امیدوار کا فیصلہ ہوگا‘‘۔ ملک بھر سے ابتدائیوں اور ریاستوں کے ذریعہ منتخب 2472 مندوبین اس کنونشن میں اکثریتی ووٹ کے ساتھ اپنا صدارتی امیدوار منتخب کریں گے۔ فی الحال رئیل اسٹیٹ کے ارب پتی تاجر اور متنازعہ شخص ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس سب سے زیادہ (673) مندوبین ہیں۔ جن کے بعد سینئر ریپبلکن لیڈر ٹیڈ کروز کے پاس 411 اور اوہائیو کے گورنر جان کیسچ کے پاس 143 مندوبین ہیں۔ مندوبین کی مجموعی تعداد کے منجملہ نصف کی تائید کے حصول کے لئے ٹرمپ کو 50 فیصد ووٹ ٹیڈ کروز کو 80 فیصد اور کسیج کو 114 فیصد ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو مقررہ 50 فیصد تائید حاصل نہیں ہوگی چنانچہ کھلے کنونشن میں ہی ریپبلکن صدارتی امیدوار کا انتخاب ناگزیر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT