Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / مسلمانوں کیلئے تحفظات کے مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چیف منسٹر کی ذمہ داری

مسلمانوں کیلئے تحفظات کے مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چیف منسٹر کی ذمہ داری

انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں کئے گئے اعلان پر عمل ضروری ‘ انسداد پسماندگی کیلئے 5000 کروڑ روپئے کا اعلان ناگزیر
حیدرآباد ۔ 18 ؍ فبروری ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے لئے ہر موقع پر وعدے و اعلانات کئے تھے ۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراو نے انڈیا ٹو ڈے کانکلیو میں بھی صحافی راج دیپ سردیسائی کے ساتھ شہ نشین پر یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کی پابند ہے اور وہ اس سلسلہ میں مرکز سے منظور حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ناکامی کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کو یقینی بنائیں گے ۔ تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کا موقف ہنوز غیر واضح ہے لیکن وہ اس بل کی منظوری سے بالواسطہ طور پر انکار کر دیا ہے ۔ ایسے میں چیف منسٹر کے چندرشیکھرراو کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں اول انہیں اپنے وعدہ کے مطابق سپریم کورٹ سے رجوع ہونا ہونا مگر یہ مسئلہ پیچیدہ ہوجانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے تو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی تعطل کا شکار ہوجائیگی ویسے میں مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کی عدم تکمیل پر مسلمان حکومت تلنگانہ سے ناراض ہوجائیں گے ۔ مسلمانوں کے فلاح بہبود کی فکر رکھنے والی کے سی آر حکومت کے لئے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرے اور حکومت پر مسلمانوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ 5000 کروڑ کے خصوصی بجٹ مختص کرنے کا اعلان کرے ۔ اگر مسلمانوں کی معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی ترقی کو یقینی بنانا ہے تو آئندہ بجٹ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح ہر سال اقلیتی بجٹ میں 10 تا 15 فیصد کا اضافہ کر کے اس رقم سے مسلمانوں کی پسماندگی کو دور رکھنے میں مدد ملے گی ۔ اس کے ساتھ چیف منسٹر اپنے وعدہ کو حتمی شکل دینے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر تحفظات کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہیں تو ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کی راہیں کشادہ ہوجائیں گی ۔ ادارہ سیاست کی تحفظات تحریک تو مسلمانوں کے حق میں ایک عدل و انصاف کی جدوجہد ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کی تکمیل کے لئے بھرپور عزم و استقلال کا مظاہرہ کریں ۔ تلنگانہ مسلمانوں کا ٹی آر ایس حکومت پر کامل اعتماد ہے اور اس جذبہ اعتماد کو ٹھیں پہونچانے سے گریز کیا جائے تو چیف منسٹر کی موافق تحفظات گرم جوشی پر مبنی تقریریں مسلمانوں کے حق میں ثمر آور ثابت ہوں گی ۔ حکومت آئندہ ماہ مارچ میں ریاستی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے تو اس بجٹ میں مسلمانوں کی بہبود کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈس مختص کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT