Friday , December 15 2017
Home / اے پی ڈائری / مسلمانوں کی اپنی کوتاہیاں ہی سب سے بڑا چیلنج

مسلمانوں کی اپنی کوتاہیاں ہی سب سے بڑا چیلنج

تلنگانہ؍ اے پی ڈائری         خیر اللہ بیگ
مسلمانوں کیلئے آج کے دور میں سب سے بڑا چیلنج خود ان کی اپنی کوتاہیاں بنتی جارہی ہیں۔ سیاسی، تعلیمی اور سماجی زوال کے لئے کوئی بھی سبب کوئی وجہ نکالیں اس کے پردے میں وہی بات نظر آئے گی کہ انہوں نے حصول حق و انصاف کے لئے فی زمانہ جدوجہد کرنا ایک فضول کوشش سمجھ لیا ہے۔ مثال کے طور پر نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات دینے کے معاملہ میں حکومت کے وعدہ کی تکمیل کو یقینی بنانے میں موثر نمائندگی کا نہ ہونا ہے۔ تلنگانہ بی سی کمیشن نے 4 روزہ عوامی سماعت کا آغاز کیا تھا، اس موقع سے فائدہ اٹھاکر حوصلہ افزاء نمائندگی نہیں ہوسکی۔ بات صرف اتنی ہے کہ مسلمانوں کو اپنا مزاج تبدیل کرنا ہے تو انھیں اپنے نام نہاد قائدین پر تکیہ کرنا ترک کرنا ہوگا، یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سنجیدگی سے غور کرنے کی عادت ہونے کے باوجود یہ غور نہیں کیا جاتا کہ انہیں بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ اسکول کی عمر کو پہونچ جانے والے بچوں میں سے تقریباً 40فیصد اسکولوں سے باہر ہیں۔ چارمینار کے اطراف ہی نظر ڈالی جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کتنے ہی بچے اسکول ترک کرکے فٹ پاتھ پر اشیاء فروخت کرتے نظر آئیں گے۔ اگر یہ بچے اسی طرح ناخواندہ رہتے ہیں تو جوان ہوکر انھیں شاید ہی روزگار میسر آسکے گا۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی بنیادی تعلیم کی شرح کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن کے مطابق بنیادی تعلیم کی شرح قومی اوسط سے بہتر ہے لیکن ان میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی شرح دیگر تمام طبقات سے بہت ہی کم ہے، یعنی مسلمانوں کے بچوں میں ترک تعلیم کی شرح زیادہ ہے۔
اسکول سطح پر مسلم طلباء کی شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی جاتی ہے اور یہ شرح انٹرمیڈیٹ تک پہنچ کر 5 فیصد ہوجاتی ہے یعنی 6.5 فیصد بچے انٹرتک پہنچ کر تعلیم ترک کردیتے ہیں۔ اس طرح بیچلر ڈگری اور ماسٹرس ڈگری پروگرام میں بھی ان کی شرح بہت کم ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی بہت ہی کم ہے۔ ریاست کے 208 سرکاری محکموں کے منجملہ صرف 131 محکموں نے سدھیر کمیشن کو اپنا ڈیٹا روانہ کیا تھا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ بہبود میں مسلم ملازمین کی تعداد صرف 3.37 ہے ۔ محکمہ تعلیم میں بھی مسلم ملازمین کی شرح 6.06 فیصد ہے ۔اس وجہ سے مسلمانوں کے حق میں فیسلہ سازی کا دن بہ دن فقدان پیدا ہورہا ہے ۔ پولیس، عدالتوں اور دیگر محکموں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی نے بہتر خدمات کی تعریف کو مسخ کردیا ہے۔ سکریٹریٹ میں انتظامی خدمت سے لیکر داخلہ، تعلیم اور دیگر بہبودی محکمہ جات میں مسلم ملازمین کی تعداد صرف انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ حصول ریاست تلنگانہ کی جدوجہد کے دوران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی قیادت نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ سماجی، معاشی اور تعلیمی مسئلہ پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جائیںگے۔ اس وعدہ کی تکمیل کے حصہ کے طور پر سدھیر کمیشن بنایا گیا تو پتہ چلا کہ مسلمانوں کو دیگر طبقات کے مقابل ملازمتوں اور دیگر بنیادی ثمرات سے محروم رکھا گیا ہے۔ آئی اے ایس اور آئی ایف ایس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کے برابر ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود مسلمانوں نے اپنے طور پر موثر کوشش نہیں کی۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مد مقابل کی باتوں پر بہت جلد بھروسہ کرلیتے ہیں اور وعدہ کرنے والے کے ساتھ اس طرح پیش آتے ہیں کہ وہ اپنے وعدہ کی تکمیل کے ذریعہ ان کی تقدیر اور مستقبل دونوں سنواردے گا۔ اس سلسلہ میں چند دکھائی دینے والی کوششوں کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے۔ سدھیر کمیشن بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوسکتا ہے۔
اب بی سی کمیشن بنایا گیا ہے تو مختلف طبقات کو تحفظات دینے کی سفارش کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اس بی سی کمیشن نے عوامی رائے اور مشورے حاصل کرنے کے بعد جب کمیشن حکومت کو اپنی سفارش کرے گا تو اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی لیکن جب کمیشن کے سامنے مسلمانوں کی نمائندگی موثر طریقہ سے ہی نہ کی گئی ہو تو بہتر نتائج کی توقع رکھنا مصدقہ عمل نہیں کہلائے گا۔ اس میں اب کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ تحفظات کی مخالفت کرنے والی طاقتیں راستہ کاٹنے کی کوشش کریں گی۔ ہمارے درمیان ایسے بدخواہوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان تمام چیزوں کے لئے دو بنیادی تقاضے نہایت ہی ضروری تھے ایک تو کمیشن سے موثر نمائندگی اور حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا لیکن ایسا نہیں ہوا، اس لئے بے یقینی کو ہوا ملے گی اور یہ بے یقینی مسلمانوں کی  سیاسی نمائندگی اور طاقت پر بھی سوالیہ نشان لگادے گی۔ لازمی طور پر کئی شعبوں میں ناکام اور محروم مسلمان اپنی ہی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں اس کے بدلے میں قائدین کا ضمیر جھنجھوڑ نہیں پاتے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ہر معاملہ کو قیادت کی نذر کرنا اور غلط مباحث میں مبتلا رہنا بھی امت مسلمہ کے مزاج کا حصہ بن رہا ہے۔ عملی اقدامات کے بجائے قیادت کی زبانی جمع خرچ پر ہی ان کا سارا بھروسہ ٹکا ہوتا ہے۔ کسی بھی کارکردگی کی کامیابی کا سہرا خود کے سر باندھنے اور ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے والی قیادت دن بہ دن توانا اور قوی ہورہی ہے ، ان پر تکیہ کرنے والے مسلمان بتدریج محرومی کا شکار ہورہے ہیں۔ قومی سطح پر نمائندگی ہو یا ریاستی سطح پر ذمہ داری ادا کرنے کا معاملہ ہو وہ اس کو بار گراں ہی سمجھتے آرہے ہیں۔ بی سی کمیشن نے جو کچھ بھی نمائندگی حاصل کی ہیں اس کے تعلق سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ حکومت کو سفارشات پیش کرکے تحفظات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہوگی۔

 
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یہ بات  واضح طور پر کہی ہے کہ تلنگانہ میں بھی ٹاملناڈو کی طرح قانون سازی کے ذریعہ کمزور طبقات کیلئے کوٹہ میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ خلوص پر مبنی اعتراف ہے کہ مسلمان بہت ہی پسماندہ ہیں اور انہیں تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تحفظات کی ضرورت ہے۔ اس خصوص میں چیف منسٹر اکثر و بیشتر اپنے وزراء اور ڈپٹی چیف منسٹر سے صلاح و مشورہ کرتے آرہے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ جنرل بھی دستور کے مطابق کس طرح ضروری اقدامات کئے جاسکتے ہیں پر مشورے دے رہے ہیں۔تلنگانہ کے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار کیلئے امکنہ کی بھی اصل ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کی 40 فیصد آبادی اب بھی کرایہ کے مکانات میں رہتی ہے اور یہ مکانات بھی کچے اور نیم پکے اور چند پکے مکانات ہوتے ہیں۔ کئی مسلمانوں کے پاس ان کی ملکیت کا مکان کم پڑتا ہے۔ دیگر طبقات کے لوگوں کے پاس خود کی ملکیت کے مکان ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی طرز زندگی بھی غربت زدہ دکھائی دیتی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد تعلیم کی کمی کی وجہ سے اچھی ملازمتوں سے بھی محروم ہے، ان میں سے زیادہ تر خود روزگار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ چھوٹے کاروبار کے ذریعہ روٹی روزی کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لئے قرض کے لئے بینکوں سے رجوع ہوتے ہیں تو انہیں بینک سے قرض بھی نہیں ملتا، اس لئے بیشتر مسلم افراد ساہوکاروں اور سود خوروں کے چنگل میں پھنس کر اصل سے زیادہ سود ادا کرتے ہیں مگر ا ن کا اصل جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ مسلمانوں نے بینک اکاؤنٹس تو کھول لئے ہیں جس میں وہ اپنی معمولی جمع پونجی رکھتے ہیں۔ بینک کھاتے رکھنے کے باوجود انہیں بینکرس کی جانب سے اپنی چھوٹی صنعتوں کو ترقی دینے کیلئے رقمی امداد بھی نہیں ملتی۔ اس لئے حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سماجی اور معاشی ترقی کے کاموں میں مسلمانوں کا حصہ بھی دیانتداری سے ادا کرے مگر یہ حکومت صرف وعدوں کی لوری دے کر کمیشنوں کا لالی پاپ دے رہی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT