Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کی ترقی ، چیف منسٹر کا عین مقصد : محمود علی

مسلمانوں کی ترقی ، چیف منسٹر کا عین مقصد : محمود علی

مسلمانوں کو اسراف ، بے وقت سونا ، وقت خراب کرنے کی عادت ترک کرنے کا مشورہ
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کے فلاحی اقدامات ایک تڑپتے دل کے ساتھ کیے جارہے ہیں اس وجہ سے آج ریاست تلنگانہ میںاقلیتی طبقات باوقار زندگی گذار رہے ہیں۔ ماضی بھی بہت سارے دعوی اور کھوکھلے وعدے کئے گئے مگر اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے ٹھوس او رسنجیدہ اقدامات نہیںاٹھائے مگر جب سے نو تشکیل شدہ ریاست میں کے چندرشیکھررائو کی قیادت میں تلنگانہ حکومت برسراقتدار ائی ہے تب سے ریاست میںمسلم اقلیت کے ماضی کا دور پھر لوٹ کر آگیا ہے ۔ اور اس کا وعدہ ہمارے عظیم قائد وچیف منسٹر کے چندرشیکھرر ائو چودہ سال طویل تلنگانہ تحریک کے دوران بارہا کیاتھا ۔ آج یہاں تاریخی چومحلہ پیالیس میں اُردو اکیڈیمی کے زیراہتمام ملک کے پہلے وزیرتعلیم مجاہد آزاد مولانا ابولکلام آزادکی 129ویں یوم سالگرہ تقاریب کے ضمن میںمنعقدہ بہترین اُردو ٹیچر اور طالب علم ایوارڈ برائے سال 2017 منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران نائب وزیراعلی ریاست تلنگانہ الحاج محمدمحمود علی ان خیالات کا اظہا رکررہے تھے۔ مشیر حکومت تلنگانہ برائے اقلیتی امور جناب اے کے خان‘ سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب سید عمر جلیل اے آئی ایس ‘ سکریٹری اُردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔ جنا ب اسلم فروشوری نے کارروائی چلائی ۔اس موقع پر اُردو اکیڈیمی کی جانب سے سال کے مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈیافتہ ڈاکٹر حیدرخان کو جناب محمد محمودعلی اور دیگر مہمانوں کے ہاتھوں تہنیت پیش کی گئی۔اس کے علاوہ حیدرآباد سے طب یونانی ‘ یونیورسٹی سطح کے علاوہ اسکول اورکالج سطح کے اساتذہ اور طلبہ میںبھی اُردو اکیڈیمی کے ایوارڈز کی تقسیم عمل میںلائی گئی۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ تلنگانہ کی عوام کے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ ہمیںایک سکیولر ذہن کے حامل چیف منسٹر ملے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کے سی آر نے 14سالہ تلنگانہ تحریک میںاُردو زبان اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو بارہاتذکرہ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیاتھا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میںلانے کاکام کیاجائے گا۔

جناب محمودعلی نے کہاکہ تلنگانہ میں ساٹھ سال غیر علاقائی حکمرانوں نے حکومت کی جو نہ تو ہماری تہذیب سے واقف تھے او رنہ ہی ہماری زبان کو وہ سمجھتے تھے جس کے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ چار سو سال حکمرانی کرنے کے بعدبھی آج ہم ملک کی سب سے پسماندہ قوم بنے ہوئے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ یہ بات کسی او رمسلمان نے نہیں کہی ہے بلکہ حکومت ہند کے قائم کردہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کا انکشاف ہے ۔نائب وزیر اعلی نے کہاکہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس پسماندگی کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ بیجا اسراف ‘ بے وقت کا سونا ‘ راتوں میںوقت خرابی کرنا ہماری عادت بن گئی ہے جس کی وجہہ سے ہم تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پر مسلمانوں کو سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں سے بیدخل کردیاگیا وہیں پر ہم جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں کے اسیر بن گئے۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی جیلوں میںقید تیس سے چالیس فیصد قیدیوں کی تعداد مسلمانوں کی ہے ۔ ہمیںان حالات کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اگر مسلمان قوم تبدیلی کا ارادہ کرلیتی ہے تو یقینا انہیںاس تبدیلی سے کوئی نہیںروک سکتا ۔ بشرطیکہ ہمیں شادیوں میںبیجا اسراف اور بے وقت کی زندگی سے اجتناب کے ذریعہ اس کی شروعات کرنے کی ضرورت ہے ۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو اس بات پر سنجیدہ ہیںکہ ریاست میںمسلمانوں کا موقف دیگر ترقی یافتہ قوموں کی طرح ہو۔ تعلیم اور روزگار کے شعبوں میںدیگر قوموں کی طرح مسلم اقلیت بھی آگے بڑھے ۔ اس کے لئے حکومت کی جانب اصلاحات بھی لائے جارہے ہیں اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی تبدیلیوں سے استفادہ اٹھاتے ہوئے اپنے ماضی کے موقف کو بحال کریں۔جناب محمودعلی نے کہاکہ تلنگانہ کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ نظامیہ جہا ںپر تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے روزگار کی ضمانت نہیںتھی اور جس کا پچھلے ساٹھ سالوں میںکسی چیف منسٹر نے دورہ تک نہیںکیا‘ مگر ہماری چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے نہ صرف دورہ کیابلکہ وہاں پر آڈیٹوریم قائم کرنے کے لئے 14 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میںلائی اور اس کے علاوہ جامعہ نظامیہ کی سند کو مصدقہ قراردیتے ہوئے اعلی تعلیم او ر ملازمت کے لئے اس کو مستند بھی قراردیا ۔انہوں نے کہاکہ محض تین سال کے عرصے میں204اقلیتی اقامتی اسکولس کا کارنامہ پورے ملک میںسوائے کے سی آر کی حکومت کے کسی اور نے نہیںکیا ہے ۔

 

 

انہو ںنے مزیدکہاکہ آنے والے دنوں میں ان اسکولس کی تعداد پانچ سو تک ہوجائے گی اور اس کے لئے لامحدود بجٹ بھی جاری کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جس قوم کی تعلیمی پسماندگی کا دور کردیاجاتا ہے وہ قوم کبھی زوال پذیر نہیںہوتی او رمسلمانوں کے متعلق چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی بھی یہی سونچ وفکر ہے۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ 67اُردو مترجم کے تقرر کا اعلان معمولی بات نہیںہے ‘ پچھلے ساٹھ سالوں میں کسی بھی حکومت نے اُردو کی ترقی اور ترویج کے لئے اتنا بڑا فیصلہ او رقدم نہیںاٹھایا ہے ۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ سابق میں اُردو کی درخواستیں اور اُردو اخبارات سرکاری محکموں میںندارد تھے اور مسلمانوں کے بیشتر بنیادی مسائل اُردو اخبارت میں ہی شائع ہوتے ہیںمگر چیف منسٹر کے اُردو مترجموں کے تقررکے فیصلے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوجائیں گے ۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ تلگوکانفرنس کے طرز پر حیدرآباد میںبہت جلد بین الاقوامی اُردوکانفرنس کا بھی انعقا دعمل میںلایا جائے گا جس میںدنیا بھر کے اُردو کی خدمت کرنے والی شخصیتوں کو مدعو کرنے کا کام کیاجائے گا۔
جناب محمودعلی نے چیف منسٹر کی اقلیتوں سے ہمدردی او روالہانہ محبت کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی کسی بھی ریاست کا نائب وزیراعلی اور وزیر مال کا عہدہ مسلمان کے پاس نہیںہے او ریہ کام ٹی آ رایس سربراہ کے چندرشیکھر رائو نے ہی کیا ہے تاکہ ساٹھ سالوں سے مایوسی کا شکار مسلمانوں کے احساس کمتری کو دور کیاجاسکے۔ انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ‘ طلبہ ‘ ماہرین طب اور دیگر شعبوں کے ماہرین کو مبارکباد بھی پیش کی اور اُردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو قابل ستائش قراردیا۔ جناب اے کے خان نے خطاب کرتے ہوئے اُردو کے متعلق چیف منسٹر کے اقدامات کو قابل فخرقراردیتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد اُردو زبان کو بنیادی سطح سے فروغ دینا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تقررات کے بعد اُردو کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والوں میںایک نیا حوصلہ پیدا ہوجائے گا۔ انہو ںنے کہاکہ ٹی ایس پی یس اور یونین پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات بھی اُردو زبان میںمنعقد ہونگے اور چیف منسٹر کے سی آر کی نمائندگی پر این ای ای ٹی 2018کے امتحانات بھی اُردو زبان میںلئے جائیں گے۔پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں مہمانو ںکے استقبال کے لئے ‘ ایوارڈ یافتگان کی تفصیلات اور اُردو اکیڈیمی کی کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے اُردو کی ترقی وترویج کے لئے حکومت کے اقدامات کی ستائش بھی کی۔بعدازاں شام غزل کا اہتمام عمل میںآیا جس میںممبئی سے ائی غزل کی ممتاز گلوکارہ پرتبھا سنگھ بھاکیل اور جئے پور کے جناب محمد وکیل احمد نے طبلے او رساز دل کو چھولینے والی غزلیں پیش کی ۔ چومحلہ پیالس کو وسیع وعریض میدان شائقین غزل کی کثیرتعداد سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

TOPPOPULARRECENT