Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / مسلمانوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ کوشش

مسلمانوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ کوشش

ہر قدم پر خوشبوؤں کا تھا معطر سلسلہ
چلتے چلتے یہ مہک حسنِ چمن تک لے گئی
مسلمانوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ کوشش
تلنگانہ کی 3.5 کروڑ آبادی میں 12.5 فیصد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا انتخابی وعدہ پورا کرنے کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے بالآخر قدم اٹھایا جائے ۔ بی سی کمیشن کے قیام کے بعد یہ توقع تو پیدا ہوگئی کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو قانونی پیچیدگیوں کے بغیر تحفظات دیئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات کی پالیسی کو قانونی شکل دینے اور اسے زیادہ سے زیادہ کارکرد بناکر بی سی طبقات کیلئے بہبودی پروگرام پر عمل آوری کا منصوبہ بنایا ہے ۔ حکومت کو آئندہ انتخابات تک اپنے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنانا  ضروری ہے ۔ تلنگانہ میں بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ دیرینہ ہے ۔ انتخابات کے وقت جو سیاستداں ’’ضرورت مند ‘‘ بن کر عوام سے وعدے کرتا ہے ، اقتدار حاصل ہونے کے بعد یہ ضرورت ختم ہوتی ہے اور حکمراں خود کو احسان فراموش کی تعریف میں کھڑا کرلیتا ہے ۔ یہاں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا معاملہ الگ ہے ، ان کا وعدہ اور عمل دیر سے ہی صحیح مسلمانوں کے حق میں منفعت بخش ثابت ہونے کی توقع کی جاتی ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ریاست کے مسلمانوں سے بے وفائی کے بعد انتخابی سامنا کرنے کی چنداں حاجت پائی نہیں جاتی۔ سیاسی فیلڈنگ کو مضبوط کرنے کی ماہرانہ عادت نہ صرف انہیں سیاسی حلقوں میں ایک عرصہ تک مقبول بنائے رکھے گی بلکہ ان کی پارٹی کا ووٹ بینک بھی محفوظ رہے گا ۔چیف منسٹر نے اپنے انتخابی وعدہ اور اپنی وفا کا یقین دلانے کیلئے بی سی کمیشن کے قیام کی راہ ہموار کی ہے ۔ یہ کمیشن جامع سروے کے بعد اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا ۔ ریاست میں بی سی طبقات کی معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ترقی دینے کی تجاویز پیش کرے گا ۔ اگرچیکہ 12 اگست کو انکوائری کمیشن نے اپنی رپو رٹ پیش کر کے کوٹہ کی سفارش کی ہے ۔ ٹاملناڈو کے خطوط پر ایک خصوصی قانون بنانے اور اس مقصد کیلئے مستقبل قریب میں جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ تلنگانہ میں بی سی کمیشن نہیں تھا جس کے ذریعہ بی سی ای کوٹہ کے تحت مسلمانوں کیلئے 12 فیصد کوٹہ منظور کیا جاسکے ۔ حکومت کو اپنے وعدہ کی تکمیل کی راہ میں سیاسی مشکلات کا اندازہ ضرور ہے۔ ویسے حکومت کو جو اختیار حاصل ہے ، اس پر شریفانہ انداز میں عمل کیا جائے تو سیاسی مشکلات بھی دور ہوسکتی ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ کسی بھی اچھی کوشش کو ناکام بنانے والی طاقتیں بھی سرگرم رہتی ہیں۔ کسی درخت کی چھاؤں سے استفادہ کرنے کی بجائے اس کی جڑیں کمزور کرنے کی فراق میں رہتی ہیں اور خود غرضی کے خنجر سے مسلمانوں کے حق میں بننے والی پالیسیوں کو گھائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چیف منسٹر نے اگر تہیہ کرلیا ہے تو کوئی طاقت ان کی راہ کاٹ نہیں سکے گی ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کو اس وقت ترقی کی شدید  ضرورت ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب فرقہ پرستوں کی سازشیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، تلنگانہ کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ہر محاذ پر ان کی رہنمائی کرنا حکمراں قیادت کی ذمہ داری ہے ۔ مسلمانوں نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کر کے نئی ریاست کے قیام سے چراغ جلاکر اپنا مستقبل روشن کرنے کا خواب دیکھا تھا ۔ حکومت میں آنے کے بعد ٹی آر ایس نے کوٹہ پر جس طرح کی خاموشی اختیار کرلی تھی ، اس کو نوٹ کرتے ہوئے یہی ریاست میں حصول تحفظات کی تحریک شروع کی گئی ۔ ہماری اس تحریک کا مثبت اثر یہ ہوا کہ حکومت نے بی سی کمیشن کے قیام پر فوری توجہ دینے کیلئے مجبور ہوگئی ۔ غداروں نے ہر کام کا سہرا اپنے سر لینے کی عادت بنالی ہے ، اسی لئے وہ دوسروں کا سہارا ہرگز نہیں بن سکتے۔ ہماری بھلائی کو ہائی جیک کر کے جس ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ، وہ ان کی مزاج کا مظہر ہے ۔ یہ وہ ہیں جو صرف چارہ کھاسکتے ہیں، چارہ گر نہیں۔ اب تحفظات کے بارے میں حکومت کی ہر کوشش کے بعد مسلمانوں کے حق میں چند فیصلے سامنے آئیں گے تو انہیں بھی اُچٹ لینے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہیں اپنی کرتوتوں کی تعریف و توصیف کے گھوڑوں پر ضمیر کی بارات  لے جانے دیجئے ۔ ہم مسلمانوں کیلئے اجتماعی رہنمائی اور فکر کے دامن کو وسیع اور مضبوط بنانے میں یوں ہی مصروف بہ عمل رہیں گے ۔ وہ لوگ اپنی روپوش غداری کی سند تقسیم کرتے کرتے ایک دن ہار مان لیں گے ۔ اب تک اپنی  بے تکی دلیلوں کی چادر سے کمزوریوں پر  پردہ ڈالتے آرہے تھے مگر چیف منسٹر و ان کا وعدہ یاد دلانے میں ہم نے جو رول ادا کیا ہے ، اس کے بہت جلد مثبت نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT