Monday , December 11 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کی غربت کا سبب عصری علوم سے دوری

مسلمانوں کی غربت کا سبب عصری علوم سے دوری

ظفر آغا
کس کس بات کا گلا کیجئے اور کس کس چیز پر آنسو بہایئے، عجیب عالم ہے ہندوستانی مسلمانوں کا، ہر روز ایک نیا المیہ سامنے آتا ہے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں، پہلے تو 2006 میں سچر کمیٹی رپورٹ سے یہ پتہ چلا کہ ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی آبادی والی قوم مسلمان ا س ملک کی سب سے پسماندہ قوم ہے۔دوسرے معنوں میں آج کا مسلمان کم از کم معاشی اور تعلیمی میدانوں میں اب دلت سے بھی پچھڑ چکا ہے۔ ابھی سچرکمیٹی رپورٹ پر غور ہورہا تھا کہ پھر یہ اعداد شمار سامنے آئے کہ ہندوستانی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں مسلمانوں کا تناسب و تعداد سب سے زیادہ ہے اور ابھی 2011 کے جو مردم شماری کے اعداد و شمار آئے ہیں ان کی بناء پر مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملک میں بھیک مانگنے والوں میں مسلم بھیک منگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک تازہ ترین خبر کے مطابق ہندوستان کے ’’ کُل 3,70,00 فقیروں میں سے تقریباً ایک چوتھائی فقیر مسلمان ہیں‘‘ یعنی اعداد و شمار اور سرکاری رپورٹس کے مطابق ہندوستانی مسلمان اس ملک کی آزادی کے 70برس بعد بھی سب سے جاہل، سب سے زیادہ مجرم اور سب سے زیادہ غریب و بھیک منگی قوم ہے۔ اب ان حالات پر بھی سر نہ پیٹا جائے اور آنسو نہ بہائے جائیں توپھر کیا کیا جائے۔

لیکن سر پیٹنے اور آنسو بہانے سے قوموں کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو آنسو پونچھ کر آگے بڑھنے کی جستجو کرتی ہیں۔ اس لئے آیئے آنسو پونچھیں اور کچھ جستجو کریں کہ کس طرح مسلمان زوال سے نکل کر عروج کی طرف بڑھیں۔ یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن کوشش تو درکار ہے۔ اس کوشش میں سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلمان اس نوبت کو کیسے پہنچا، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی ذمہ دار خود قومیں ہوتی ہیں، دوسرے نہیں۔ دوسرے اپنی حریف قوموں کی کمزوریوں کا فائدہ ضرور اُٹھاتے ہیں۔ اس پس منظر میں پچھلے دیڑھ دو سو برس کے ہندوستانی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو مسلم زوال کی ایک عجیب و غریب داستان اُبھر کر سامنے آتی ہے اور وہ داستان کچھ یوں ہے۔ انگریزوں کی اس ملک میں آمد سے قبل  مسلمان اس ملک میں اقلیت ہونے کے باوجود اس ملک کا نہ صرف حاکم ہے بلکہ وہ اس ملک کی سب سے ذی علم اور ذی حیثیت قوم بھی ہے۔ بس انیسویں صدی بلکہ  1757 میں بنگال میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کی لارڈ کلائیو کے ہاتھوں شکست کے بعد سے 100برس یعنی 1857 تک مسلمانوں کے ہاتھ سے نہ صرف اقتدار نکل جاتا ہے بلکہ اب وہ آہستہ آہستہ جدید تعلیم، جدید معیشت اور جدید سیاست میں بھی پچھڑتا چلا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ہندوستان کی نمبر ون قوم جب اس زبردست زوال کا شکار ہوتی ہے تو جلد ہی ہندوستانی مسلمانوں میں ایک بے چینی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے زوال کے اسباب تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔1860 کی دہائی میں ہندوستانی مسلمانوں میں دو نظریہ خیال پیدا ہوتے ہیں۔ ان دو نظریہ خیال کے مراکز اس وقت جو قائم ہوئے تھے وہ دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ۔ دارالعلوم دیوبند ایک دینی مرکز تھا وہاں یہ خیال پیدا ہوا کہ دراصل مسلمان آہستہ آہستہ بنیادی اسلام سے ہٹ کر سُنی اور شیعہ مسلک کی جانب بھٹک گیا جس کے سبب قوم سے اسلامی روح ختم ہوتی گئی اور پھر مسلمان انگریزوں کا سامنا نہیں کرسکا اور1857 میں ہار کر پوری طرح زوال کا شکار ہوگیا۔ اب اس زوال سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ مسلمان واپس بنیادی اسلام کی طرف جائے، یہ وہ نظریہ فکر تھا جو عالم اسلام میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر مراکز مثلاً آج کے سعودی عرب میں الوہاب کی قیادت میں وہابی یا سلفی نظریہ کی شکل میں اُبھررہا تھا، الغرض دیوبند کا خیال تھا کہ انگریزوں سے شکست کے بعد مسلم زوال سے بچنے کا طریقہ دینی اصلاح ہے اور اصل یعنی بنیادی دین پر چلنے سے ہی مسلمان پھر عروج پاسکتا ہے۔

اس کے برخلاف دوسرا نظریہ خیال تھا سرسید احمد خاں کا جس نے علی گڑھ اسکول کی شکل میں جنم لیا۔ سرسید کی فکر کے مطابق انگریزوں کی ہندوستان آمد کے بعد پورے ہندوستان کی شکل ہی بدل گئی تھی کیونکہ انگریز محض اس ملک پر حکومت کرنے نہیں آیا تھا بلکہ وہ تو اپنے ساتھ یوروپ میں 18ویں صدی کا پیدا شدہ سائنسی اور ٹیکنیکل جدید علوم پر مبنی انقلاب بھی لے کر آیا تھا اور ان جدید علوم نے ہمارے ہندوستان کی پالیسی، معاشی اور سماجی دنیا ہی بدل دی تھی۔ اس نئی دنیا کے بالکل نئے تقاضے تھے جو بقول سرسید احمد خاں اصلاح دین نہیں بلکہ اصلاح دنیا یعنی نئی دنیا کو آگے بڑھ کر گلے لگانے سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اسی لئے سرسید کا یہ خیال تھا کہ مسلمان اب اسوقت ہی ترقی کرسکتا ہے کہ جب وہ جدید تعلیم حاصل کریں۔ جدید تعلیم حاصل کرنے کا راستہ انگریزی تھا، اسی لئے انہوں نے جدید نصاب پر مبنی انگریزی میڈیم کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک مسلم اسکول کھولا جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہوا۔

1857کے زوال کے بعد ہندوستانی مسلمان کے پاس اپنی ترقی کے لئے دو راستے تھے، ایک دیوبند کا راستہ اور دوسرا علی گڑھ کا راستہ۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت نے دیوبند کا راستہ اپنایا۔ یعنی مسلمانوں نے انگریزوں کی جدیدیت کو رد کرکے روایتی مدرسوں پر مبنی دینی تعلیم کو فوقیت دی، نتیجہ یہ ہوا کہ 1857 کی سیاسی شکست تھی وہ آہستہ آہستہ تعلیمی، سماجی اور معاشی شکست میں بھی تبدیل ہوتی چلی گئی۔

یعنی 1857 کے بعد مسلمانوں سے پہلی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے زوال کے اسباب غلط سمجھے اور پھر ان کی اکثریت نے ان اسباب سے نپٹنے کا جو راستہ چنا وہ بھی غلط تھا۔ مسلمانوں کو دینی اصلاح کی ضرورت کم اور دنیاوی اصلاح کی ضرورت زیادہ تھی۔ چونکہ مسلم قوم سائنیس و ٹکنالوجی میں یوروپی انقلاب سے قبل عالمی سوپر پاور تھی اس لئے اس نے مغرب کے ہاتھوں شکست کے بعد مغرب کے جدید علوم اور اس سے پیدا شدہ جدیدیت کو رد کردیا۔ دور حاضر میں جو قوم جدید علوم اور جدیدیت سے جس قدر بے بہرہ ہے بس وہ اسی قدر پسماندہ ہے، وہ ہندستانی مسلمان ہوں یا دوسری جگہوں کا مسلمان، ہر جگہ مسلمانوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ جدید علوم اور جدیدیت میں سب سے پسماندہ ہیں تب ہی تو آج ہم ہندوستانی مسلمان اس بات پر آنسو بہارہے ہیں کہ آج ہم سب سے زیادہ کم تعلیم یافتہ ہیں، سب سے زیادہ غریب اور سب سے زیادہ بھیک مانگنے والی قوم ہوچکے ہیں۔

بے شک یہ شرم سے گردن جھکادینے والی باتیں ہیں۔ لیکن اب گردن جھکانے سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ مسلمان نظریاتی سطح پر ایک جنگ چھیڑیں جس کا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ ان کی ترقی کی راہ مدرسوں سے نہیں بلکہ جدید علوم اور جدیدیت کو حاصل کرنے سے ہی نکلے گی، اور اگر ابھی بھی ہم مسلمانوں نے یہ نظریاتی تبدیلی پیدا نہیں کی تو ابھی ہم دوسرے درجہ کے شہری ہیں کب باقاعدہ غلام بن جائیں یہ بھی ناممکن نہیں ہوگا کیونکہ سب سے زیادہ بھیک مانگنے والی قوم غلام ہی ہوتی ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT