Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے تحفظات ناگزیر

مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے تحفظات ناگزیر

نظام آباد:8 ؍ اپریل (محمد جاوید علی)روزنامہ سیاست کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے شروع کردہ مہم کا سلسلہ ضلع نظام آباد میں جاری ہے۔ ضلع کے کسی نہ کسی مقام پر مسلمانوں کی جانب سے تحفظات کی فراہمی کیلئے تحریک کو جاری کھے ہوئے ہیں خاص طور سے نظام آباد شہر میں جمعہ کے روز ریزرویشن ایکشن کمیٹی و میناریٹی سب پلان کی جانب سے جمعہ کے دن دستخطی مہم چلائی جارہی ہے۔ بعد نماز جمعہ مسجد کے روبرو ٹھہر کر مسلمانوں کو حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کروانے کے علاوہ حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے دستخط حاصل کئے جارہے ہیں آج بعد نماز جمعہ مسجد عرفات احمدپورہ کالونی ڈیویژن نمبر 28 ریزرویشن ایکشن کمیٹی و مینارٹی سب پلان کے کنونیر وویلفیر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر کی قیادت میں ناظم جماعت اسلامی ہند احمد عبدالعظیم، صدر ضلع کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ سمیر احمد، ایم پی جے کے سابق صدر شیخ حسین، حافظ محمد عبدالعلی صدر سیوا دل کے علاوہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے قائدین ڈاکٹر احتشام، محمد شکیل، محمد نجیب الدین، واسع احمد، انصاری، عبدالستار قریشی، سینئر سٹیزنس ویلفیر سوسائٹی کے ذمہ داران فیاض الدین، شیخ علی، محمد انور اللہ، تلگودیشم کے الیاس ہزاری، محمد خلیل، سرفراز احمد، مسلم لیگ کے ضلع سکریٹری شرجیل پرویز،ایس آئی او کے نوجوانوں نے دستخطی مہم میں شرکت کی اس موقع پر ان افراد نے مصلیان کو واقف کراتے ہوئے بتایا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے انتخابات میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اندرون چار ماہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن 22 ماہ کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی ابھی تک مسلمانوں کو تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو حکومت کے وعدوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ عمل کی ضرورت ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ اس تحریک کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی تو تحفظات تحریک کا امڈتا ہوا سیلاب تلنگانہ سرکار کوڈبودیاگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملازمین کی بھرتی کیلئے وقفہ وقفہ سے اعلامیہ جاری کررہی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو زبردست نقصانات پیش آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تحفظات کی فراہمی کے بعد ہی ملازمین کے بھرتی کے عمل کو شروع کریں تحفظات کی فراہمی کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مسٹر انور خان نے کہا کہ پچھلے 50 سال سے تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا ہے اور اقلیتوں کیلئے کئے گئے اعلانات کو فراموش کیا گیا لیکن اس مرتبہ مسلمان باشعور ہوچکے ہیں اور چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو تحفظات کے اعلان کو فراموش کرنے اور سدھیر کمیٹی کے نام پر وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ تحریک شعلہ بن کر اٹھے گی ۔ مسلمانوں کی سیاسی، معاشی ، تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے اور مسلمانوں کی جانب سے گذشتہ چھ ماہ سے کئے جانے والی تحریک پر چیف منسٹر کو فوری بی سی کمیشن کا قیام کرنا ضروری ہے اور بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات فراہم کیا گیا تو بہتر ہوگاورنہ یہ تحریک تحفظات کی فراہمی تک اپنے پروگرام کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان یہ تحریک سے وابستہ ہوتے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT