Thursday , February 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کو دُور کرنے کیلئے سب پلان پر زور

مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کو دُور کرنے کیلئے سب پلان پر زور

تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ، سید عزیز پاشاہ کا تنظیم انصاف کے دہلی میں احتجاج سے خطاب
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت تبدیل ہونے کے بعد ملک میں اقلیتوں کی حالت مزیدخراب ہوئی ہے۔ شہری حدود میں زندگی بسر کرنے والے پسماندہ طبقات کے بشمول اقلیتوں کی آمدنی میںبڑی گرواٹ پیش آئی ہے۔جبکہ شہری حدود میںمقیم دلتوں کی آمدنی 28فیصد ہے تو قبائیلوں کی 19.5فیصد جبکہ مسلم اقلیت 2.7فیصد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اقلیتوں کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کا واحدراستہ سب پلان کا اعلان ہے او رمرکزی حکومت کو چاہئے وہ سچر کمیٹی او رجسٹس رگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کرتے ہوئے اقلیتوں کی گرتی حالت میں سدھار لانا ان کا جمہوری حق بھی ہے۔ تنظیم انصاف کے قومی صدر وسابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وہ دہلی کے پارلیمنٹ ہاوز کے روبرو کل ہند تنظیم انصاف کے زیراہتمام منعقدہ احتجاجی دھرنے سے مخاطب تھے جس میں انصاف کے قومی نائب صدر جنا ب شمیم فیضی‘ پروفیسر ایس شیروانی‘ ڈاکٹر اے اے ایو ب علی خان‘ محترمہ راہلیہ پروین‘ جنرل سکریٹری انصاف تلنگانہ منیر پٹیل کے علاوہ ملک کی چودہ ریاستوں کے مندوبین نے بھی اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کی ۔اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جنا ب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ مرکز میںبی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد قومی سطح پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میںاحساس عدم تحفظ کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے حالیہ دنوں میںراجستھان کے الور میںڈیری فارم کسان عمر خان کے بے رحمی کے ساتھ ہوئے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ گائو رکھشا اور کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں بے قصور مسلمانوں کے قتل عام کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیںلے رہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر چھ ماہ کے اندر پولیس گرفتار نوجوانوں کے خلاف چارچ شیٹ داخل نہیںکرتی ہے تو محروس نوجوانوں کو رہاکردینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ قومی سطح پر اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو بھی دورکرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت کے تحت ملک بھر میںاقلیتوں کے لئے تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دلت اگر مسلمان ہے یا پھر عیسائی ہے تو اس کو تحفظات کے زمرے سے باہر کردیاجارہا ہے جبکہ تحفظات اس کا جمہوری حق ہے مگر مذہب کی عینک سے حکومت مذکورہ لوگوں کے ساتھ برتائو کررہی ہے جس کی وجہہ سے وہ تحفظات کے ثمرات سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر تحفظات کی فراہمی کے بجائے مغربی بنگال اور کیرالا کے طرز پرحکومت کو چاہئے پیشہ وارانہ خطوط پر تحفظات فراہم کرتے ہوئے مسلم اقلیت کے اندربڑھتے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کیا جائے۔احتجاجی دھرنے میںموجود انصا ف کے تمام قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے اقلیتوں او ر دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT