Saturday , May 26 2018
Home / مضامین / مسلمانوں کی کوتاہیاں

مسلمانوں کی کوتاہیاں

 

نفیسہ خان
ان دنوں ملت محمدؐیہ کا شمار مظلوم اور غیر اقوام ظالم کے روپ میں ہمارے سامنے آرہے ہیں، دنیا ان پر مظالم توڑ رہی ہے، قاتلانہ حملے ہورہے ہیں اور بربریت و حیوانیت کے تمام ریکارڈ توڑے جارہے ہیں۔ ان کی عورتوں کی عزت، عفت ، عصمت و ناموس سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ان کی املاک و دوکانات کو راکھ کا ڈھیر بناکر ان کے روٹی روزگار اور کمائی کے ذرائع تباہ و تاراج کئے جارہے ہیں، انہیں ہندوستان کی سرزمین پر بھی ناانصافی کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔ انہیں 12% ریزرویشن ( تحفظات ) نہ دے کر سرکاری نوکریوں اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ان کی ترقی کے تمام راستے دانستہ طور پر مسدود کردیئے گئے ہیں۔ ان تمام باتوں میں بہت حد تک سچائی ہے۔ مسلمان معاشی تنگدستی کی بناء پر خانگی اسکول و کالجوں میں تعلیم سے محروم ہیں۔ حالانکہ غریب طلباء کیلئے اسکالر شپ مل رہی ہے سب خانگی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیںکیونکہ سرکاری اسکول و کالجوں میں تعلیمی معیار گھٹیا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر مضمون کے ٹیچر یا لیکچرر کا کئی برسوں سے تقرر ہو ہی نہیں رہا ہے۔ ودیا والینٹرس بہت کم معاوضہ پر اتنا ہی پڑھاتے ہیں جتنا ان کا تعلیمی تجربہ و قابلیت ہے یا جتنا ان کا معاوضہ ہے۔ اس کے برعکس سرکاریتدریسی عملہ اب ہزاروں سے تجاوز کرکے لاکھوں میں کمانے لگا ہے پھر بھی طلباء سے انصاف نہیں کرتے ہیں۔ اکثر طالب علم خصوصاً لڑکے اور وہ بھی مسلمان لڑکے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں پچھر گئے ہیں قابلیت کے فقدان کی وجہ سے انہیں خاطر خواہ نوکریاں بھی نہیں ملتیں اور اب لڑکے شہر کے ہر محلے کی سڑکوں، گلی کوچوں کی نکڑوں پر گروپ کی شکل میں یا تو کسی گھر کے سامنے چبوتروں پر یا بند دوکانوں کی سیڑھیوں پر یا اسٹانڈ پر اپنی موٹر سیکلیں چڑھا کر ان پر بیٹھ کر رات کے دو ڈھائی بجے تک اسمارٹ فون دیکھتے ہوئے اس پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہنسی مذاق، ٹھٹھولی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیا یہ سب یتیم و یسیر ہیں، ان کے ماں باپ یا متعلقین نہیں ہیں۔ جی نہیں ایسا بالکل نہیں ہے تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ایسے لڑکے ان محلوں میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے۔ ماں باپ باز پرس نہیں کرسکتے وہ مجبور، بے بس اور گنگ کیوں ہوگئے ہیں۔؟
شاید اس لئے کہ لڑکوںکی خودسری، بدزبانی اور خودکشی کرلینے کی دھمکی نے انہیں نصیحتیں و فضیحتیں کرنے سے روک رکھا ہے اور ہماری ملت کا حال یہ ہوگیا یہ کہ اپنی ہر غلطی کا الزام دوسروں پر دھر کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ہم کو دوسروں سے گلہ رہتاہے خواہ وہ رشتے دار ہوں، پاس پڑوسی ہوں یا حکمراں یعنی حکومت ہو۔ حکومتوں سے گلہ کرتے ہمیں ستر سال گذر گئے کہ مسلمانوں کیلئے اور ان کی پیاری زبان اردو کیلئے کچھ نہیں کیا جارہا ہے لیکن ہمیں اپنی کوتاہیوں پر بھی تو نظر ڈالنی چاہیئے کہ اپنا حق، اپنی تعلیم ، اپنا روزگار حاصل کرنے کیلئے ہم کیا کررہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم نہ سہی کم از کم کونسا ہنر یا کونسی فنی تربیت حاصل کرنے کی تگ و دو کررہے ہیں، مادیت پسندی زندگی کی اساس بن گئی ہے، مسلمانوں کی بدتر معاشی و تعلیمی پسماندگی کی اصل وجہ آخر کیا ہے۔؟

صرف حکومت اس کی ذمہ دار نہیں کہ ہم کشکول لئے اس کی دہلیز پر کھڑے رہیں کہ کب نظرِ کرم ہو اور آپ کاکشکول بھرے۔ کبھی آپ نے کبھی پارسی قوم کو اقلیت میں رہ کر تحفظات کا مطالبہ کرتے دیکھا یا سنا ہے۔ ؟ ہمیں تحفظات و اپنے حق کیلئے مطالبہ بھی کرنا چاہیئے کوشش بھی جاری رکھنی چاہیئے مگر اسی آس و اُمید پر مستقبل خراب کرلینے سے احتراز کرنا ہوگا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ آجائے تو روزے رہیں نہ رہیں کام پر یا آفس کو دیر سے پہنچنے پر باز پرس نہ ہو کیونکہ سحری و نماز کی ادائیگی تک چھ بج جاتے ہیں۔ ہمارا ذاتی کاروبار یا دوکان ہو تو ہم افطار بھی رہیں کرتے گے اور اگر سچا پنجوقتہ نمازی ہو تو دوکان پر ہی نماز پڑھ لیں گے دو قدم پر مسجد ہو تب بھی وہاں نہیں جائیں گے کہ جاکر آنے تک کہیں گاہک دوسری دوکان نہ دیکھ لے اور آمدنی کم نہ ہوجائے۔ تراویح تو اکثر نے گویا معاف کروالی ہے نہ خود جائیں گے نہ اپنے پاس کام کرنے والوں کو جانے دیں گے لیکن حکومت پر دباؤ بنائے رکھیں گے کہ وہ نہ صرف روزے داروں کو بلکہ تمام مسلمانوں کو ساڑھے چار بجے گھر جانے کی اجازت دے۔ کئی باتوں میں ہماری سوچ بڑی نامعقول سی ہوگئی ہے۔ حکومت نے اجازت دے دی ہم خوش ہوگئے، حکومت نے مشاعرہ کردیا ہم مسرت سے جھوم اُٹھے، گانوں و غزلیات کا پروگرام کردیا نہال ہوگئے، شال پوشی کردی جھوم اُٹھے، لاکھوں روپئے خرچ کے قبرستانوں کی اینٹ و سمنٹ کی پختی دیواریں بناکر حصار بندی کروادی ہم تعریفوں کے پُل باندھنے لگے۔ ارے مسلمانو ! مردے بیچارے کہاں سے راہ رو طلباء کی طرح گھر و ہاسٹلوں کی دیواریں کود کر یا قبریں پھاڑ کر بھاگنے والے ہیں، تحفظ تو زندوں کو چاہیئے، ان کی تعلیم، روزی روٹی و ترقی کو چاہیئے۔ لڑکیوں کو خود مکتفی بنانے کا ہمیں تیقن چاہیئے۔ زیادہ سے زیادہ فنڈس ان کی تعلیم و تدریس و تربیت پر خرچ ہونا چاہیئے۔ ویسے بھی قبرستانوں کی دیواریں توڑ کر قبریں مسمار کرکے اس زمین پر اور اوقافی جائیدادوں پر قابض ہونے والوں میں بھی کلمہ گو افراد کے نام زیادہ ملتے ہیں۔ اب درگاہوں و مساجد کی تزئین نو، رنگ و روغن، قیمتی قالین، جائے نماز، چھتوں سے لٹکتے دیدہ زیب جھومر، جھلملاتے رنگ بہ رنگی قمقمے، پنکھے، واٹر کولر، ایر کولر، قبروں پر نہ صرف یہ کہ مٹھی بھر پھول بلکہ پھولوں کے ساتھ نت نئی وضع کی چادریں، جھنڈے، جھنڈیاں، فاتحہ خوانی کے نام پر بڑی بڑی دیگوں میں سڑکوں پر دعوت عام کیلئے پکوان کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، کیا کسی سرکاری اسکول یا محلے کے کم خرچ خانگی دواخانے میں کوئی کمرہ کوئی ضرورت کا سامان، کوئی مشنری اس کے بدلے میں نہیں دیا جاسکتا۔؟ کیا اس سے ثواب حاصل کرنے میں کمی ہوجائے گی ۔ میں نے غیر مسلم لوگوں کی طرف سے چلائے جانے والے دواخانوں میں وارڈس اور مشینوں پر آویزاں بورڈ پر ان مخیر اشخاص کے نام پڑھے ہیں جنہوں نے غریب غرباء کے دست طلب کیلئے دست خیر بڑھایا ہے۔ صرف ہماری تقاریر و تحریروں سے کچھ نہ ہوگا بلکہ عملی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس معاملے میں نوجوان طبقہ ہوگا تو تیزگام ہوگا، ہم جیسے ضعیف افراد ہوں گے تو سست رفتاری سے ہی سہی مگر ساتھ ضرور دیں گے۔ اس بات کا ہم تیقن دیتے ہیں کہ ہم بھی قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔ ثواب و عبادت و نیکی صرف ایک دن، ایک وقت کا کھانا کھلانے کا نام نہیں، ہر فرد کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ خود کا اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ ہر روز بھرسکے۔ دل سے اسلام کی تعظیم کے ساتھ ارکان کی ادائیگی ہو اور ملت کی بھلائی کیلئے کام کریں، یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ اسلام کے نام پر شور برپا کرنے اور تماشے کرنے سے اللہ تو ناراض ہوتا ہی ہے، جگ ہنسائی الگ ہوتی ہے کہ وقت پر نمازوں کی ادائیگی تو ان سے ہوتی نہیں اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور میلے ٹھیلے سجتے ہیں:

 

کاش سجدے بھی کچھ ادا ہوتے
شور کافی ہوا اذانوں کا
ہمارے جینے کا ایک مقصد ہوتا ہے ہمیں ہر عمل پر فیصلہ کرنے سے پہلے ذہن کو تیار کرنا پڑتا ہے، صرف وقتی جذبات یا فکر و پریشانی ، تناؤ کے زیر سایہ کام کرنے، آگے بڑھنے سے کام بنتے نہیں بلکہ بگڑتے ہیں۔ اب تک سعودی و خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرلینے والوں کے بچے بہت آرام و آسائش پسند ہوگئے ہیں لیکن اب وہاں ان کے متعلقین پر لگائے جانے والے ٹیکس سے سب بوکھلائے ہوئے ہیں۔بے شمار لوگ اپنی بیوی بچوں کو وطن واپس بھیجنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور جن کی نوکریاں ہی برخواست کردی گئیں وہ مزید پریشان حال لوٹ آئے ہیں، ایسے میں اس نوجوان نسل کا کیا ہوگا جو اپنے محلوں کو این آر آئی کالونی (NRI Colonies) کہتے ہوئے تھکتے نہ تھے اور اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو بدتر و حقیر سمجھنے لگے تھے جن کا معیارِ زندگی بدل گیا تھا جو مہنگی موٹر سیکلوں و موٹر کاروں میں رات ڈھلنے تک سڑکوں پر پٹرول پھونکا کرتے تھے، ان گھروں میں پرورش پانے والی لڑکیوں کے پہناوے، بناؤ سنگھار، میک اَپ، بیوٹی پارلر کے اخراجات بھی اب سینکڑوں سے تجاوز کرکے ہزاروں میں ہونے لگے ہیں۔ نہ صرف شہر بلکہ اضلاع میں بھی یہی طور طریق رواج پاگئے ہیں۔ پچھلے دنوں میرے ایک شاگرد کی شادی میں شرکت کیلئے مجھے نلگنڈہ جانے کا اتفاق ہوا، برسوں پہلے بچھڑے لوگ بڑی محبت و تپاک و احترام سے آ آ کر مل رہے تھے، ایسے میں ایک نو دس سال کی لڑکی میرے قریب آتی اور بڑی ڈھٹائی سے اپنی انگلیوں سے چوڑیوں پر انگلیاں دوڑانے لگی اور پھر فوراً مجھ سے یوں گویا ہوئی: ’’ جب سے دیکھ رئیوں سب میڈم۔ میڈم بول کے آپ سے آکر مل رئیں۔ آپ اتنی بڑی میڈم ہوکے آپ کی ساڑی کا رنگ دیکھو اور آپ کی چوڑیوں کا رنگ دیکھو اور چپل بھی الگ رنگ کی ہے بالکل میاچ نہیں کررہی ہے۔‘‘ میں حیران اس کو تکتی رہ گئی جس نے فیروزی رنگ کے جھلملاتے کپڑوں کے ساتھ اسی رنگ کا چوڑیوں کا چمکتا جوڑا اور اسی رنگ کی سینڈل پہن رکھی تھی، کانوں کے بندے اور گلے میں لاکٹ کے نگینے بھی فیروزی تھے، میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان پکڑے اور کہا کہ : ’’ ہاں بیٹا، غلطی ہوگئی آئندہ خیال رکھوں گی۔‘‘ ہماری دوسروں پر گہری نظر ہوتی ہے خوبیوں پر کم لیکن خامیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور تنقید۔ تبصرے سے ہٹ کر برائی بلکہ الزام تراشیوں کو اپنا شیوہ بنالیا ہے ، کبھی ہم اپنی نیکیوں میں اضافہ کی خاطر دوسروں کی عیادت و مزاج پرسی کرتے رہتے ہیں لیکن کبھی وقت نکال کر اپنے بگڑتے مزاج ، عادات و حال چال سے خود کو واقف کیوں نہیں کرپاتے۔

خود کا اور اپنے اطراف کے ماحول کا محاسبہ کرنے سے کیوں کتراتے ہیں۔ اپنے آپ کو خود کے سامنے ایک ملزم بناکر کیوں جوابدہ ہونے پر مجبور نہیں کرتے۔ آخر ہم کس مرض میں مبتلاء ہیں۔ خودغرضی، خود نمائی، جھوٹی اَنا، ان تمام برائیوں کی کوئی دوا تو ہوگی ہی یا ہم ایسے ہی کسی لا علاج مرض میں مبتلاء ہیں کہ نہ تو دوا اثر کرتی ہے نہ مداوا ممکن ہے۔ خوش دلی سے اپنی غلطی کیوں قبول نہیں کرتے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرکے ان کی تلافی کرنے میں کیا برائی ہے، ہم سماج کے اس معاشرے کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عزت دار فرد ہیں، وقت کے دریا میں بے مایاں تنکا بن کر بہنے کی بجائے لہروں و طوفانوں سے ٹکراجانے اور مقابلہ کرنے کی ہمت کیوں نہیں جٹا پائے۔ ہم کو خاندان، سماج، معاشرہ میں اپنی ایک پہچان بناکر نیک نام و کامیاب شخصیت کی تشکیل کرنی ہوگی، ہم میں اتنی اخلاقی جرأت ہو کہ ہر حال میں ہم وہی راستہ اختیار کریں جو ہم کو اور دوسروں کو روشن منزل کا پتہ دے۔ خود غرض بن کر اپنی ذات کی ترقی کی بات نہ سوچیں۔ بالیدہ حساس ذہن اچھے خیالات کی تخلیق کرتا ہے، ملت کی ترقی فرد واحد کام نہیں بلکہ انجمنوں، تنظیموں کو باہمی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس انتشار کا خاتمہ ہوسکے۔ یہاں تو مساجد، عبادت گاہیں، درگاہیں نہ صرف یہ کہ سُنی، شیعہ، میمن، بوہیروں کے خانوں میں بٹی ہوئی ہیں بلکہ ایک ہی مسلک والوں کو بھی مساجد کی انتظامیہ کمیٹی سے اختلافات کا سامنا ہے۔ اب رہا اردو کا دانشور طبقہ جو یونیورسٹی، کالجوں، اقلیتی محکموں کے اونچے عہدوں پر فائز ہیں جن کی ماہانہ آمدنی ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے جن کے کاندھوں پر طلباء کی بہترین تعلیم و تربیت کا اخلاقی فرض و ذمہ داری ہے لیکن ان میں سے بیشتر اساتذہ اس کا حق ادا نہیں کرتے۔ ہر پروفیسر کے اطراف ان کے حمایتی طلباء کا ایک گروپ بن جاتا ہے اور نفرت کے بیج کی آبیاری یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔ حیدرآباد کے ہر مشاعرے، ہر کتاب کی رسم اجراء اور محافل میں اس حلقہ کے مخصوص لوگ آتے ہیں باقی دوسرے بائیکاٹ کرتے ہیں۔ہم آخر کس زعم میں ہیں۔؟ اپنے آپ کو بلند وبالا کیوں سمجھتے ہیں، یہ رعونت یہ اَنا دوسروں سے نخوت اور اپنی بڑائی کا احساس اردو داں طبقہ کیلئے کینسر جیسے مرض سے زیادہ خطرناک بنتا جارہا ہے۔ آپسی تنازعات بڑھتے جارہے ہیں، اردو کی ہر محفل کو سجانے والا یا مشاعرہ کا کنوینر خواہ کوئی ہو جب اردو ادب نواز لوگوں کو شرکت کی عام دعوت بذریعہ اخباردی جارہی ہے تو پھر یہ سمجھ کر کیوں شریک نہیں ہوتے کہ ہمیں ہماری مادری زبان اردو بلارہی ہے۔ غزلوںو گانوں کے پروگرام میں تو بن بلائے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں، کچھ لوگوں سے شکایت ہوسکتی ہے کہ وہ مشاعروں میں اپنے ذاتی مفادکو مدنظر رکھ کر شعراء کو مدعو کرتے ہیں ان کو معقول معاوضہ نہیں دیتے خصوصاً میز بان شعراء کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ شعراء حضرات مدعوئین میں اسٹیج پر نہ بیٹھ کر سامعین میں بیٹھیں اور بیرونی ریاست سے آنے والے شعراء اور خصوصاً غیر مسلم شعراء کو داد وتحسین دیں۔ ہم اتنے کوتاہ دل اور اتنے تنگ نظر و تنگ ذہنیت کے حامل کیوں ہوگئے ہیں کہ دوسروں کو اسٹیج پر دیکھ کر خوش بھی نہیں ہوسکتے اور یہ کہیں کہ ہم تو اردو کے پاسباں ہیں ہم کو ادباء و شعراء کو جوڑنے کا کام کرنا چاہیئے۔ خود سری کا تدارک بہت ضروری ہے ۔
ان دنوں اردوکی محفلوں میں 60۔ 70 سے زیادہ عمر کے لوگ ہی نظر آتے ہیں جو اپنی زندگی وظیفے اور دواؤں کے سہارے گذار رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی ہفتے میں ایک دو دن گھر و محلہ کے بچوں کو اردو پڑھا سکتے ہیں۔ مساجد میں جہاں بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام ہے وہاں اردو کیلئے ٹیچر کو رکھا جاسکتا ہے لیکن مساجد کمیٹی کے ارکان میں بھی ہمیشہ ٹھنی رہتی ہے اورمصلیوں کی بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ نماز پڑھی، سلام پھیرا اور چپ چاپ مسجد سے باہر نکل کر آتے ہیں۔ غیر ضروری جھمیلوں سے حتی الامکان دامن بچاکر نکل جاتے ہیں اور ہم ہمیشہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ:
تم زباں رکھ کے جوگونگے بنے بیٹھے ہو
چھن گئی طاقت گفتار تو پھر کیا ہوگا؟
’’سیاست ‘ اخبار کی طرح دوسرے اردو اخبارات اور ادارے بھی ہر محلے میںاردو کی تعلیم و تریج کے سنٹر قائم کریں تاکہ ارو لکھنے پڑھنے کی دلچسپی پیدا ہو۔ اب اردو صرف سننے سنانے کی زبان بن کررہ گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT