Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے بی سی ای زمرہ میں شامل 14 طبقات کو سنٹرل لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ

مسلمانوں کے بی سی ای زمرہ میں شامل 14 طبقات کو سنٹرل لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ

نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس سے جمعیتہ العلماء اور کانگریس پارٹی کی نمائندگی

نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس سے جمعیتہ العلماء اور کانگریس پارٹی کی نمائندگی
حیدرآباد۔/10اپریل،( سیاست نیوز) جمعیتہ العلماء اور کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کے بی سی ای زمرہ میں شامل 14طبقات کو سنٹرل لسٹ میں شامل کرنے کیلئے نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس سے نمائندگی کی ہے۔ جمعیتہ العلماء کے جنرل سکریٹری پیر صابر احمد اور کانگریس کے قائد خلیق الرحمن نے علحدہ علحدہ طور پر کمیشن سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی اور مسلمانوں کو تحفظات کے حق میں اپنے دلائل پیش کئے۔ دونوں کی جانب سے کمیشن کو تفصیلی یادداشت پیش کی گئی۔ جمعیتہ العلماء نے بی سی کمیشن کی سماعت کے جواز پر سوال اٹھایا کیونکہ بی سی کمیشن کے موجودہ صدر نشین اس وقت ہائی کورٹ کی بنچ میں شامل تھے جس نے مسلم تحفظات کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ جمعیتہ العلماء کے جنرل سکریٹری نے کمیشن سے اس بات کا جائزہ لینے کی اپیل کی کہ آیا مخالف تحفظات شخصیت کی صدارت میں کی جانے والی سماعت کس حد تک مناسب ہے۔ کانگریسی قائد خلیق الرحمن نے بی سی ای زمرہ میں شامل طبقات کے علاوہ شیخ طبقہ کو سنٹرل لسٹ میں شامل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام طبقات سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں اور شیخ طبقہ کو مرکزی لسٹ میں شمولیت کے ذریعہ اس طبقہ کی ترقی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس کو بی سی ای زمرہ میں شامل کئے گئے طبقات کے سماجی اور معاشی موقف کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پی ایس کرشنن رپورٹ کی بنیاد پر ہی 2007ء میں مسلمانوں کے 14 طبقات کو تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان طبقات کی پسماندگی کا جائزہ لینے کا عمل مکمل ہوچکا ہے لہذا قومی کمیشن کو از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پر بحث اس بات پر نہ ہو کہ کون بی سی زمرہ میں شمولیت کا حق رکھتا ہے۔مسلمانوں کے 14طبقات کی پسماندگی کے بارے میں متحدہ آندھرا پردیش میں جامع سروے کیا گیا تھا جسے قومی کمیشن کو قبول کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں سے مسلمانوں کے مذکورہ طبقات کو تحفظات کی فراہمی جاری ہے لہذا مرکزی کمیشن کو بی سی زمرہ میں ان طبقات کو شامل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تحفظات کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان میں مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی مخالفت کی گئی جبکہ کسی نے بھی مسلمانوں کے ان طبقات کی پسماندگی سے انکار نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT