Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے تحفظ کیلئے نام نہاد قیامت کے دعوئے ٹائیں ٹائیں فش

مسلمانوں کے تحفظ کیلئے نام نہاد قیامت کے دعوئے ٹائیں ٹائیں فش

حکومت کے ساتھ نرم رویہ اور جلسہ میں مگرمچھ کے آنسو بہانے کی کوشش، انکاؤنٹر پر مجہول موقف سے اُلجھن

حکومت کے ساتھ نرم رویہ اور جلسہ میں مگرمچھ کے آنسو بہانے کی کوشش، انکاؤنٹر پر مجہول موقف سے اُلجھن
حیدرآباد ۔ 13 اپریل ۔ (سیاست نیوز) حکومت کی نظروں میں نظریں ڈال کر گفتگو کرنے والوں کے تیور جب بدل جاتے ہیں تو میدانوں میں لڑی جانے والی جنگوں کی ایوانوں میں شکست ہوجاتی ہے ۔ مسلم نوجوان جوکہ بے قصور ثابت ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا انکاؤنٹر کردیا جانا بظاہر چند نوجوانوں کو ہلاک کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے ذریعہ مہلوکین اُمت کو ایک پیغام دیتے ہیں کہ انھوں نے خوابیدہ امت کو بیدار کرنے کیلئے نذرانۂ جان پیش کیا ہے اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے کے بجائے اُمت کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہوئے آنے والے خطرات سے واقف کروایا جائے لیکن اُمت کی بیداری کی ذمہ داری جن کندھوں پر عائدہوتی ہے ان میں جب یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اُمت کے نوجوانوں کی یادداشت بہت کمزور ہے تو یہ خون تو رائیگاں جائیگا ہی لیکن آنے والے خطرات میں بھی اضافہ ہی ہوتا جائے گا ۔ شہر کے اطراف میں یاشہر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی انکاؤنٹر میں اموات کا سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ سعیدآباد میںاس کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن ان انکاؤنٹرس میں کسی ایک انکاؤنٹر میں بھی پولیس عہدیدار سلاخوں کے پیچھے نہیں گئے ۔ عشرت جہاں کا گجرات میں قتل ہو یا قتیل صدیقی کی جیل میں موت ، سہراب الدین کی انکاؤنٹر میں ہلاکت ہو یا پھر کوثر بی کا پولیس کی جانب سے قتل کسی بھی معاملہ میں کسی بھی مسلم قائد نے انہیں انصاف دلانے کیلئے عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا بلکہ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملہ کو سہراب کے بھائی رباب الدین نے سپریم کورٹ لے جاتے ہوئے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو جیل پہنچائے ۔عشرت جہاں کے معاملہ میں ان کے افراد خاندان بالخصوص والدہ شمیم بانو اور بہن مسرت جہاں نے عدالتوں کے چکر کاٹے لیکن جن کندھوں پر ذمہ داریاں تھیں وہ تو صرف ان اموات کا سیاسی استحصال کرتے ہوئے اور کلمہ کے رشتہ کی دہائی دیتے رہ گئے ۔ خیر یہ معاملات تو گجرات کے ہیں لیکن ریاست آندھراپردیش میں جہاں دعوؤں کے مطابق طاقتور قیادت موجود ہے مگر ہر انکاؤنٹر کے بعد صرف ضابطہ کی کارروائی ہوئی اور پھر انتخابات میں ان اموات کا تذکرہ کرتے ہوئے دہائی دئی گئی ۔ جو لوگ ضابطہ کی کارروائی کررہے ہیں کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ ان کی نمائندگیوں پر کتنے عہدیداروں کو جیل پہنچادیا۔اسی طرح مظلوم شمیم بانو اور مسرت جہاں بھی کوئی رکنیت نہیں رکھتے تھے لیکن انھوں نے بھی آئی پی ایس عہدیداروں کی وردی اتروائی ۔ ریاست آندھراپردیش میں ہوئے پولیس مظالم کے خلاف بالخصوص انکاؤنٹرس کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کرتے ہوئے تحریک چلانے والے مشترکہ مجلس عمل کا 14 اپریل کو خلوت میں جلسہ منعقد ہورہا ہے لیکن اس جلسہ میں روایات سے مزید انحراف کئے جانے کا امکان ہے اور کہا جارہا ہے کہ قائدین حکومت کیخلاف نرم دھمکی آمیز رویہ اختیار کریں گے اور ملت اسلامیہ کو حکومت و پولیس سے مزید خوفزدہ کرتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ گجرات میں ہوئے انکاؤنٹرس کے معاملہ میں جدوجہد کرنے والوں کو کچھ حد تک کامیابی ملی اور پولیس عہدیدار جیل پہنچے لیکن آندھراپردیش میں ہوئے انکاؤنٹرس کے معاملات میں جدوجہد کرنے والوں کو صدرنشینی اور کمیشن کی رکنیت حاصل ہوئی نہ کہ پولیس عہدیداروں کو جیل میں بند کیا گیا ۔ آج ہورہے جلسہ کو نہ صرف مرکز سیاسی سے دور رکھا گیا بلکہ ریاست کے ایوان اسمبلی میں جماعت کے قائد مقننہ بھی نہیں ہیں ۔ ذرائع کے بموجب قائدین کی جانب سے ریاستی و مرکزی حکومت پر سخت تنقید سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔

TOPPOPULARRECENT