Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹرا حکومت کی بدترین عصبیت کا مظاہرہ

مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹرا حکومت کی بدترین عصبیت کا مظاہرہ

ناگپور ۔ 24 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں بی جے پی۔شیوسینا مخلوط حکومت نے اقلیتوں کے خلاف تعصب کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے آج ایوان اسمبلی میں مراہٹہ ریزرویشن بل پیش کردیا جبکہ مسلم تحفطات کیلئے اس نوعیت کا بل پیش کرنے میں غفلت سے کام لیا ۔ ناگپور میں منعقدہ اسمبلی اجلاس کے اختتام سے ایک دن قبل فڈنویس حکومت سے مراہٹہ ریزرویشن

ناگپور ۔ 24 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں بی جے پی۔شیوسینا مخلوط حکومت نے اقلیتوں کے خلاف تعصب کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے آج ایوان اسمبلی میں مراہٹہ ریزرویشن بل پیش کردیا جبکہ مسلم تحفطات کیلئے اس نوعیت کا بل پیش کرنے میں غفلت سے کام لیا ۔ ناگپور میں منعقدہ اسمبلی اجلاس کے اختتام سے ایک دن قبل فڈنویس حکومت سے مراہٹہ ریزرویشن بل پیش کردیا اور اب یہ بل قانون ساز کونسل میں روشناس کروایا جائے گا۔ تاہم نئے اپوزیشن لیڈر (کانگریس) رادھا کرشنا وکاس پٹیل کی زیر قیادت اپوزیشن ارکان نے اچانک نشستوں سے کھڑے ہوکر مسلم تحفظات بل بھی پیش کرنے کا مطالبہ کیا لیکن بی جے پی حکومت نے اس مطالبہ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایوان میں مراہٹہ ریزرویشن بل کو منظور کروایا۔ ایوان میں سینئر این سی پی لیڈر اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ تم لوگ عددی طاقت کے بل بولتے ہوئے آر ایس ایس کے فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل آوری کی کوشش کر رہے ہیں۔ امین پٹیل ، اسلم شیخ اور آصف شیخ (کانگریس) ابو عاصم اعظمی (سماج وادی پارٹی) اور وارثی پٹھان (مجلس) نے مسلم تحفظات کیلئے اس نوعیت کا بل پیش کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جب ان کے مطالبہ کو مسترد کردیا گیا تو ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

کانگریس۔ این سی پی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جاریہ سال ماہ جون میں تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں 16 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں 5 فیصد تحفظات مسلمانوں کیلئے مختص تھے ۔ واضح رہے کہ اس ریاست میں مراہٹہ برادروں کو سیاسی غلبہ حاصل ہے۔ تاہم بمبئی ہائی کورٹ نے مراہٹوں کیلئے ریزرویشن اور مسلمانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں تحفظات کی فراہمی کے خلاف عارضی طور پر حکم التواء جاری کیا تھا جبکہ تعلیمی اداروں میں صرف 5 فیصد مسلم تحفظات کی اجازت دی تھی اور سپریم کورٹ نے اس خصوص میں ہائیکورٹ کے احکامات میں مداخلت سے انکار کردیا تھا ۔ اسمبلی کے اجلاس میں مسلم ریزرویشن بل پیش کرنا ضروری تھا کیونکہ پیشرو حکومت کا جاری کردہ آرڈیننس کی مدت چہارشنبہ کو ختم ہوجائے گی جس کے بعد یہ کارآمد نہیں رہے گا

اور عدالت کے احکامات مسلم ریزرویشن کے حق میں بھی آئیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ قانون سازی کے بغیر وہ ریزرویشن کے مستحق نہیں ہوں گے ۔ تاہم چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے حکومت کے اقدام کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم تحفظات پر ایڈوکیٹ جنرل سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ ریاستی وزیر تعلیم ونود تواڈے نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں چونکہ ہائیکورٹ نے آرڈیننس کے ذریعہ سرکاری نوکریوں میں مسلم تحفظات کی فراہمی کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے باعث حکومت مسلم تحفظات بل پیش کرنے سے قاصر ہے اور چیف منسٹر کے واضح تیقن کے باوجود اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر سیاست کر رہے ہیں۔ دریں اثناء کانگریس رکن اسمبلی آصف شیخ (مالیگاؤں سنٹرل) نے بتایا کہ اسمبلی میں مسلم ریزرویشن بل پیش نہیں کیا گیا تو ہم عدالت سے رجوع ہوں گے ۔ مسٹر آصف شیخ نے مئی 2013 ء میں مسلم ریزرویشن کے مطالبہ پر مالیگاؤں تا ممبئی کے آریا حامیوں کے ساتھ 300 کیلو میٹر طویل پد یاترا کی تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر محمود الرحمن کمیٹی نے مسلم ریزرویشن کے حق میں ریاستی حکومت کو سفارش کی تھی۔
دہلی پر شدید کہر اور بادل کا سایہ
نئی دہلی ۔ 24 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : شہریان دہلی کو آج بھی شدید کہر اور دھند سے گذرنا پڑا ۔ جب کہ تقریبا 70 ٹرینوں کی آمد و رفت اور فضائی خدمات متاثر ہوگئیں ۔ اقل ترین درجہ حرارت 5 ڈگری سلسیس تک پہنچ گیا جو کہ معمول سے بھی بہت کم ہے ۔ پالم رصد گاہ پر صبح 8-30 بجے تک شدید کہر سے واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ جب کہ آسمان پر گھنے بادل چھائے رہے ۔ ٹرین سرویس بالخصوص رانچی ، بھوبنیشور ، گوہاٹی اور کولکتہ سے آنے والی راجدھانی ایکسپریس تاخیر سے چل رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT