مسلمانوں کے سَر پر ٹوپی عقیدت و احترام کی علامت

بیٹی کو ہندو ماں کا دِل کو چھولینے والا خوبصورت جواب ، سوشیل میڈیا پر چرچے

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے موجودہ ماحول میں جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سیاست کرنے والے سرگرم ہیں، محبت، اُخوت، عقیدت و احترام کا درس دینے والے ہندو بھی موجود ہیں۔ ایک دل کو چھولینے والے واقعہ میں ہندو ماں اور بیٹی کے درمیان مسلمانوں کے سَر پر ٹوپی سے متعلق ہونے والے سوال و جواب اور مکالے سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔ ’’آخر مسلمان ٹوپی کیوں پہنتے ہیں؟‘‘ پر ایک معصوم لڑکی نے اپنی ماں سے سوال کیا تو ماں نے نہایت ہی نرمی و خوبصورتی کے ساتھ اپنی ننھی منی گڑیا کو سمجھایا کہ ’’کیا تم نے مجھے نہیں دیکھا جب کبھی میں مندر جاتی ہوں تو میرا سَر ڈوپٹے سے ڈھکا ہوتا ہے؟ یا جب کبھی ہمارے گھر بزرگ مہمان آتے ہیں؟ یا جب میں تمہارے دادا دادی کے پیر چھوتی ہوں تو سَر پر ڈوپٹہ ہوتا ہے، یہ عقیدت و احترام کی علامت ہے میری ننھی گڑیا…‘‘۔ ماں اور بیٹی کے درمیان ہوئی اس گفتگو کو میگھنا اٹھوانی نامی ساتھی مسافر نے پوسٹ کیا ہے جو سفر کے دوران ماں اور بیٹی کے درمیان ہونے والی بات چیت کی چشم دید گواہ ہیں۔ یہ میگھنا اٹھوانی نے جب یہ واقعہ پوسٹ کیا تو اس کو 855 مرتبہ شیئر کیا گیا اور فیس بُک یوزر وینو میتھو نے یہی متن 17 جولائی کو اپنے پیچ پر پوسٹ کیا تو اس وقت تک تقریباً 26,000 مرتبہ شیئر ہوچکا تھا جہاں 57,000 فیس بُک یوزرس نے پوسٹ کو لائیک کیا۔ میگھنا اٹھوانی نے لکھا کہ آج جب میں دہلی میں اوپیرا پول کے ذریعہ سفر کررہی تھی، میں گاڑی میں بیٹھنے والی پہلی مسافر تھی، اس کے بعد ایک نوجوان خاتون اپنی چھوٹی ننھی منی بیٹی کے ساتھ سفر میں شامل ہوئی۔ ایک کیلومیٹر کی مسافت کے بعد ایک مسلم نوجوان ہمارے سامنے والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے۔ اس مسلم نوجوان نے اپنی روایتی سفید ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اسے دیکھ کر معصوم لڑکی میں تجسس پیدا ہوا اور ماں سے پوچھا کہ آخر یہ انکل شام کے وقت ٹوپی کیوں پہنے ہیں جبکہ باہر دھوپ نہیں ہے۔ کار میں ریڈیو بج رہا تھا اور مسلم نوجوان کار ڈرائیور سے بات چیت میں مصروف تھا اور میں کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ معصوم لڑکی کے سوال نے میری توجہ کتاب سے ہٹا دی اور اسی وقت مسلم نوجوان اور ڈرائیور کی بات چیت بھی بند ہوگئی اور ڈرائیور نے ریڈیو کی آواز کم کردی۔ میں نے سوچا کہ میں خود بچی کو اس ٹوپی کے بارے میں کچھ بتاؤں لیکن اس معصوم بچی کی ماں جواب دینے کیلئے پہلے ہی تیار تھی۔ اس نے اپنی ننھی گڑیا کو خوبصورتی سے سمجھایا کہ میرے سَر پر ڈوپٹہ مندر جاتے وقت یا بزرگوں کے سامنے ہونے پر عقیدت و احترام کی علامت ہوتی ہے لیکن لڑکی فوری طور پر یہ سمجھ نہیں سکی، اس نے ایک اور سوال کیا اور کہا کہ ’’یہ بھیّا کس کا احترام کررہے ہیں جبکہ یہاں کوئی مندر نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کے پیر چھو رہے ہیں اور نہ ہی اس کار میں بزرگ لوگ بیٹھے ہیں تو آخر وہ کس کی عزت و احترام کررہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معصوم کی ماں اپنی بیٹی کے دوسرے سوال کا جواب بھی دینے کے لئے پوری طرح تیار تھی، اس نے پرسکون طور پر جواب دیا کہ اس مسلم نوجوان کے والدین نے اسے سکھایا ہے کہ وہ جس کسی سے بھی ملے ، ان کا احترام کرے اور اپنی عقیدت کا اظہار کرے۔ جس طرح میں تمہیں مہمانوں کو ’نمستے‘ کرنے کیلئے سکھاتی رہتی ہوں۔ ہم میں سے کوئی بھی اس طرح کے جواب کی توقع نہیں کرسکتا تھا۔ اس مسلم نوجوان کو بھی ایسی توقع نہیں تھی لیکن ہمارے اطراف رہنے والے لوگوں کے تعلق سے عام آدمی اچھا سوچتے اور سمجھتے ہیں تو پھر ہمارے سیاست داں ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنے میں ناکام ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT