Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / مسلمانوں کے لیے چیف منسٹر کے اعلانات

مسلمانوں کے لیے چیف منسٹر کے اعلانات

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سیوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
مسلمانوں کے لیے چیف منسٹر کے اعلانات
تلنگانہ کی ماضی قریب کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست پر جب کبھی کسی پارٹی کی حکمرانی ہوتی تو مقامی جماعت پانچ سال تک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ۔ اس کی وجہ سے مقامی جماعت کے قائدین کو حکمرانوں کے تلوے چاٹنے کا موقع ملتا ۔ مسلمانوں کے نام پر حکمرانوں سے اپنی سیاسی تجوریوں کو بھرتے ہوئے اپنے ووٹرس کے حق میں کئی مسائل ہی مسائل چھوڑتے چلے گئے ۔ شہر میں اس قدر عوامی مسائل کا بحران پیدا ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کی ضرورتوں اور مسائل کی کشتی بار بار متلاطم پانی میں ڈولتی رہی ہے ۔ اس مرتبہ بھی جماعت نے حکمران پارٹی سے مل کر فرینڈلی اپوزیشن کا رول ادا کرتے ہوئے حکومت کے موافق مسلم فیصلوں ، اسکیمات اور منصوبوں کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ اسی طرح عوام کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ حکومت کے یہ منصوبے اور فیصلے بھی ماضی کے اعلانات کی طرح سیاسی مفاد پرستی کی نذر ہوجائیں گے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو شاید آنے والے اسمبلی انتخابات میں حریف پارٹیوں سے شدید خطرہ کا احساس ہونے لگا ہے ۔ اسی لیے وہ شہر کے شاطروں کے مکروہ کھیل کی پرواہ کئے بغیر مسلمانوں کے حق میں اعلانات کو اپنے سیاسی بقاء کی ایک اہم کڑی محسوس کرنے لگے ہیں ۔ مسلمانوں کی ترقی کے غم میں مبتلا یہ دو نمبری ماہرین مفاد پرست ، دانشورانہ اعتبار سے بدعنوان ہیں ۔ ریاستی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو کم از کم اپنی پارٹی کی اصول پسندی اور پالیسی سازی کے حوالے سے ’ اصول پسندی ‘ سے کام لینے کی ضرورت تھی ۔ مسلمانوں کی خاطر سیاسی دوستانہ تخمیناً لگاکر وہ سمجھ رہے ہیں کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے حق میں آئی ٹی کوآریڈور اور اسلامک سنٹر کے لیے 10 ایکڑ کا اعلان کرنے سے فائدہ ہوگا ۔ چیف منسٹر نے اپنے فیصلوں کے ذریعہ قرض کی صورت میں مقامی جماعت کو اپنا سیاسی کاروبار چلانے کے لیے کچھ راہ داری فراہم کردی ہے ۔ اسمبلی میں حکمراں پارٹی اور فرینڈلی اپوزیشن نے ایک دوسرے کا نقطہ نظر برداشت کیا ہے تو بے شک ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے مخالف تقاریر بھی کی گئی ہیں لیکن اسمبلی کے باہر ایک دوسرے کے دوست ہونے کا مطلب اپنے ووٹروں کو دھوکہ دینا ہوتا ہے اور یہ دھوکہ کی سیاست کی کم از کم چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے توقع نہیں کی جاسکتی ۔ ان کے سیاسی وعدے 12 فیصد تحفظات کو پورا کرنے میں تاخیر ہورہی ہے تو نئے اعلانات پر عمل آوری کی امید کے ساتھ یہ خوشی بھی مل رہی ہے کہ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ دینے کی پہل کی ہے ۔ یہ اچھی خوشخبری ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کے لیے انفارمیشن ٹکنالوجی کی راہداری قائم کی جارہی ہے ۔ شہر کے تجارتی علاقہ گچی باولی کے کوکہ پیٹ میں حیدرآباد انٹرنیشنل اسلامک کلچرل کنونشن کے لیے بہت کچھ کرنے کے عزائم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران چیف منسٹر نے مسلمانوں کے لیے بہت کچھ کرنے کے عزائم کا اظہار کیا تھا ۔ ان 3 برسوں میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے بہت کچھ نہ سہی کچھ نہ کچھ کرنے کے اعلانات ضرور کئے ہیں ۔ پچھڑے طبقات کی طرز پر مراعات فراہم کرنے کے عزم کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے ریاست کے اقلیتوں میں معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ڈبل بیڈ روم امکنہ اسکیم میں مسلمانوں کو 10 فیصد کوٹہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہر کی ترقی کے لیے اب تک کیے گئے اعلانات خاص کر پرانے شہر کو عالمی سطح کا علاقہ بنانے کی پالیسی کے حصہ کے طور پر چیف منسٹر نے حیدرآباد کی تاریخ کا اہم مرکز چارمینار کو امرتسر کے سنہرے گردوارہ کی طرح ترقی دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ان کا یہ جذبہ قابل قدر ہے مگر اسی چارمینار کے دامن میں چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ برسوں سے رینگ رہا ہے ۔ اب چارمینار کو ترقی دینے کا مرحلہ کب پورا ہوگا ۔ یہ غیر یقینی بات ہے ۔ موسیٰ ندی کو بھی ترقی دینے کا پراجکٹ بنایا جارہا ہے ۔ آیا واقعی چیف منسٹر کا یہ پراجکٹ شروع ہوسکے گا کیوں کہ ماضی کی کئی حکومتوں نے موسیٰ ندی کو ترقی دینے کے لیے کئی پراجکٹ بنائے تھے مگر آج بھی یہ ندی شہر کے ڈرینج سے نکلنے والے بدبودار پانی کو لے کر بہہ رہی ہے ۔ عوام کو ’ مونگیری لال ‘ کے حسین سپینے دکھا کر اندھیر نگری چوپٹ راج کی عملی مثال نہ بن جانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی بجٹ کو چالاک سیاستدانوں کی لالچ و ہوس سے بچا کر رکھنا ہی سب سے اہم بات ہوگی اور عوام کے حق میں کام کرنے کی نیت کارگر ثابت ہوگی ۔ اس شہر کے عوام گذشتہ کئی برس سے ایسے ایسے ہولناک وعدے اور قصے سنتے آرہے ہیں کہ اب مستقبل کے ترقی کے وعدوں سے کبھی ان کے دل خوشی محسوس نہیں کریں گے ۔ انتخابات کے سامنے ہر پارٹی اپنی سمت درست کرنے کی کوشش کرتی ہے اور چیف منسٹر کے ساتھ ساتھ فرینڈلی اپوزیشن مقامی جماعت نے بھی انتخابی مہم چلانے کی پلاننگ کرلی ہے اور عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کی حکمت عملی طئے ہوچکی ہے ۔ ایسے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اپنی حکومت کی پائیداری کے لیے عوام کے صبر کو آزمانہ نہیں چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT