Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچایا جائے گا : چندرا بابو

مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچایا جائے گا : چندرا بابو

سوریہ نمسکار پر عمل کا دباؤ نہیں ، مقتول موذن کے ایکس گریشیا میں اضافہ ، چیف منسٹر اے پی کا تیقن
حیدرآباد ۔ /7 فبروری (سیاست نیوز) قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مسلمانوں کیلئے بھی ’’سوریہ نمسکار‘‘ کو لازمی قرار دینا ان کا کوئی مقصد و منشاء اور ارادہ ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ صرف اور صرف صحت کی برقراری و بہتری کو پیش نظر رکھتے ہوئے سوریہ نمسکار ہر کوئی کریں تو فائدہ بخش ثابت ہونے کا اظہار کیا گیا تھا ۔ مسلمانوں کیلئے بھی سوریہ نمسکار لازمی قرار دینے سے متعلق حکومت کے کئے ہوئے فیصلہ کی اطلاعات پر مسلمانوں میں کافی تشویش کا اظہار پایا جارہا تھا ۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں صدرنشین آندھراپردیش قانون ساز کونسل جناب این محمد فاروق اور رکن آندھراپردیش قانون ساز کونسل و جنرل سکریٹری قومی تلگودیشم پارٹی جناب محمد احمد شریف نے اس تشویش سے چندرا بابونائیڈو کو واقف کروایا تھا ۔ اس کے علاوہ گزشتہ دن آندھراپردیش مجلس علماء و ائمہ و موذنین کے ایک وفد نے چیف منسٹر سے ملاقات کرکے اس مسئلہ پر توجہ مبذول کروائے ، ایک تفصیلی یادداشت پیش کی ۔ اس موقعہ پر چیف منسٹر نے وفد سے مذکورہ وضاحت کی اور کہا کہ تمام مذاہب کے جذبات ، احساسات اور عقائد کا احترام کرنا ہمیشہ ان کا اہم مقصد ہوتا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری بھی ان کی اولین ترجیح رہتی ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے واضح طور پر کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے ساتھ ساتھ جذبات و احساسات کو ہرگز ٹھیس پہونچنے نہیں دیں گے ۔ کیونکہ تلگودیشم ہمیشہ سیکولر پارٹی رہی ہے اور آئندہ بھی سیکولر پارٹی ہی رہے گی ۔ چیف منسٹر نے اے پی مجلس علماء و ائمہ مودنین کے وفد کو اس بات کا بھی تیقن دیا کہ گزشتہ دنوں راجمندری (راجہ مہیندر اور ) کی ایک مسجد کے موذن جناب محمد فاروق کے پیش آئے قتل واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کے افراد خاندان کی ہر لحاظ سے مالی مدد کی جائے گی اور کہا کہ قبل ازیں اعلان کردہ ایکس گریشیاء رقم 5 لاکھ روپئے میں اضافہ کرکے دس لاکھ روپئے فراہم کرنے کے مسلمانوں کی جانب سے کئے گئے مطالبہ کو حکومت نے قبول کرلیا اور عہدیداروں کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر دس لاکھ روپئے کی رقم جاری کریں ۔ علاوہ ازیں تمام مساجد میں سی سی ٹی ویز کی تنصیب عمل میں لانے کے مطالبہ سے بھی اتفاق کرکے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مساجد میں سی سی ٹی ویز کیمرے نصب کئے جائیں گے ۔ مرکزی حکومت کے مدرسہ بورڈ قائم کرنے سے متعلق کئے ہوئے فیصلہ پر پائے جانے والے سخت اعتراض سے چیف منسٹر کو مذکورہ وفد نے واقف کروایا اور مرکزی حکومت کے مدرسہ بورڈ قائم کرنے کے فیصلہ کو ریاست آندھراپردیش میں روبہ عمل نہ لانے کی مسٹر چندرا بابو نائیڈو سے خواہش کی ۔ جس پر چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر تفصیلی غور و خوص کرنے کے بعد ہی ضروری فیصلہ کرنے کا تیقن دیا ۔ مذکورہ وفد کی قیادت جناب محمد احمد شریف ، ایم ایل سی و گورنمنٹ وہپ آندھراپردیش قانون ساز کونسل ، جناب شیخ منیر احمد ، کنوینر آندھراپردیش مسلم جوئنٹ ایکشن کمیٹی نے کی ۔ جبکہ راجمندری کے مسلمانوں نورانی مسجد کمیٹی کے ارکان و سابق ڈائرکٹر ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن مسٹر شیخ سبحان ، محمد قادر خان ، کوآپشن ممبر محمد چاند پاشاہ ، محمد حبیب اللہ خان نے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو ، ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر این چنا راجپا اور جنرل سکریٹری قومی تلگودیشم پارٹی و ایم ایل سی جناب محمد احمد شریف سے اظہار تشکر کیا ۔

TOPPOPULARRECENT