Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے 14 طبقات پسماندہ ، تحفظات کے مستحق

مسلمانوں کے 14 طبقات پسماندہ ، تحفظات کے مستحق

سماجی ، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات میں توسیع کا مطالبہ : محمد علی شبیر کی نیشنل بیاک ورڈ کمیشن سے نمائندگی

سماجی ، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات میں توسیع کا مطالبہ : محمد علی شبیر کی نیشنل بیاک ورڈ کمیشن سے نمائندگی
حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ان تمام 14طبقات کو بی سی زمرہ کی سنٹرل لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر بی سی ای زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ محمد علی شبیر نے آج اندرا پریہ درشنی آڈیٹوریم باغ عامہ میں نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس کی عوامی سماعت میں حصہ لیا اور مدلل بحث کے ذریعہ اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے بی سی ای زمرہ میں شامل 14 طبقات و گروپس کی پسماندگی سے متعلق تفصیلات پیش کی اور کمیشن کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے یہ طبقات ہر اعتبار سے پسماندہ ہیں اور تحفظات کے مستحق ہیں۔ محمد علی شبیر نے تحفظات اور بی سی ای زمرہ میں شامل 14طبقات کے حق میں قانونی نکات پیش کرنے کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ ایس این پرساد کی خدمات حاصل کی جنہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی اور انہیں تحفظات کی ضرورت کے حق میں سروے رپورٹ اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں بحث کی۔ ممتاز قانون داں ایس این پرساد کی بحث کی کمیشن کے صدرنشین جسٹس بی ایشوریا اور ارکان نے توجہ کے ساتھ سماعت کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آندھرا پردیش کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس نے تفصیلی سروے کی بنیاد پر 14مسلم گروپس کو سماجی، معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ تسلیم کیا تھا۔ سریم کورٹ نے بھی 25مارچ 2010ء کو اپنے فیصلہ میں ان گروپس کو تحفظات کی برقراری کے حق میں فیصلہ دیا لہذا دستور کی دفعہ 141کے تحت مرکزی حکومت بھی تحفظات کی فراہمی کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن طبقات اور گروپس کی بی سی ای زمرہ میں شمولیت کیلئے نشاندہی کی گئی وہ گزشتہ 8برسوں سے تحفظات کے فوائد حاصل کررہے ہیں۔ لہذا مرکزی حکومت کی جانب سے ان گروپس کی مخالفت میں کوئی فیصلہ امتیازی اور یکطرفہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس سے اپیل کی کہ وہ اس رپورٹ اور دستیاب مواد پر اکتفاء کرے جس کی بنیاد پر اے پی کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس نے ان طبقات کو بی سی ای زمرہ میں شمولیت کا اہل قرار دیا تھا۔ محمد علی شبیر نے ان طبقات کی مرکزی بی سی لسٹ میں شمولیت کی اپیل کی اور کہا کہ اس سے یہ پسماندہ طبقات سرکاری ملازمتوں اور دیگر شعبوں میں اپنا مستحقہ حصہ پا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعہ مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے تاہم سپریم کورٹ نے 14 طبقات کو تحفظات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتہ غیر سماجی عناصر کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے پولیس سب انسپکٹر سدیا کا تعلق مسلمانوں کے دودیکلا طبقہ سے ہے جنہیں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بی سی ای زمرہ کے تحت تحفظات حاصل ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ ایس این پرساد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریاست میں 4فیصد مسلم تحفظات کی اجازت دی ہے لہذا اسے قومی سطح پر توسیع دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ سے بی سی کمیشن کے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کمیشن پر زور دیا کہ وہ سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے سلسلہ میں اپنے طور پر رہنمایانہ خطوط وضع کرے۔

TOPPOPULARRECENT