Sunday , January 21 2018
Home / ہندوستان / مسلمان ، حرام پیسہ کمانے والے خاندانوں میں شادی نہ کریں: دیو بند

مسلمان ، حرام پیسہ کمانے والے خاندانوں میں شادی نہ کریں: دیو بند

بینک کی ملازمت کے ذریعہ تنخواہ حاصل کرنے والوں سے بھی رشتہ نہ کیا جائے ، دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ
لکھنؤ۔ 4 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حرام کی کمائی کھانے والے خاندانوں میں شادی نہ کریں اور ان سے ہر معاملہ میں رابطہ نہ رکھیں بلکہ رشتہ سے گریز کیا جائے۔ ان کے بجائے ایک پاکیزہ خاندان کو تلاش کریں، خاص کر شادی بیانہ کی بات چل رہی ہے تو خاندان کی کمائی اور پیسے کے حصول کے ذرائع کو معلوم کرنا ضروری ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے یہ فتویٰ اس کے سامنے پیش کئے گئے ایک شخص کے سوال کے جواب میں دیا ہے۔ اپنے سوال میں اس شخص نے کہا کہ اس کے پاس چند خاندانوں کی جانب سے شادی کے لئے رشتے آئے ہیں جن میں سے والد کی کمائی، ہندوستان میں بینک ملازمت سے پوری ہوتی ہے۔ لڑکی کے والد بینک میں ملازمت کرکے تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ خاندان حرام کی رقم سے پروان پایا ہے۔ ایسے خاندان میں شادی کرنا درست ہوگا؟ اس شخص نے دارالعلوم دیوبند کے شعبہ دارالافتاء سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ بینک ملازمت کے ذریعہ حاصل کی جانے والی تنخواہ اور کمائی کے ذریعہ پرورش پانے والے خاندان میں شادی کرنا جائز ہے یا نہیں۔ دارالعلوم دیوبند نے اپنے جواب میں فتویٰ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے خاندان میں شادی کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور یہ ترجیحی عمل نہیں ہے۔ لڑکے یا لڑکی والوں کو صاف ستھرے اور حلال کمائی کھانے والے خاندانوں میں رشتے کرنے چاہئیں۔ شریعت نے ایک وقت ِ مقررہ کے تحت رقم دے کر اس پر منافع کھانے کو ’’ممنوعہ‘‘ قرار دیا ہے۔ایسی تجارت میں بھی سرمایہ کاری کو ’’ممنوعہ ‘‘ قرار دیا ہے جو حرام طریقہ سے کی جاتی ہے۔ یہ اسلام کے اُصولوں کے مغائر ہے۔ جن بینکوں میں ’’سود یا اِنٹریسٹ‘‘کے نام پر کاروبار ہوتا ہے، وہ حرام ہے۔ اسلامی بینک کا کام سود سے پاک بینکنگ نظام سے مربوط ہوتا ہے اور ایسے بینکوں میں ملازمت کرنے والوں سے رشتہ جائز ہے۔

TOPPOPULARRECENT