Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمان ، عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے شادیوں میں اسلامی طرز اختیار کریں

مسلمان ، عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے شادیوں میں اسلامی طرز اختیار کریں

حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( دکن نیوز ) : جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے علماء و مشائخین اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تمام مسلم شادیوں کا بائیکاٹ کریں جن میں بے جا رسومات ، جہیز کے مطالبات اور اسراف کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام غیر اسلامی رسم و رواج اور فرسودہ روایات کے خلاف آج ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے کیو

حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( دکن نیوز ) : جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے علماء و مشائخین اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تمام مسلم شادیوں کا بائیکاٹ کریں جن میں بے جا رسومات ، جہیز کے مطالبات اور اسراف کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام غیر اسلامی رسم و رواج اور فرسودہ روایات کے خلاف آج ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے کیوں کہ مسلم دشمن طاقتیں چاہتی ہیں کہ اس طرح کی تقاریب میں ہماری معیشت برباد ہوجائے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنی عظمت رفتہ کو واپس لانا چاہتے ہوں تو انہیں اپنی شادیوں کو اسلامی طرز کی بنانا ہوگا ۔ جناب زاہد علی خاں کل کریم نگر شہر کے ایس بی ایس فنکشن ہال ، کشمیر گڈہ کریم نگر میں ادارہ سیاست اور میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے تعاون سے مسلم بہبود کمیٹی ضلع کریم نگر کے زیر اہتمام منعقدہ دوبدو ملاقات پروگرام میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں انقلاب لانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ لیکن عزائم پختہ اور ارادے مضبوط ہوں تو اس تحریک کو روبہ عمل لایا جاسکتا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ رسم و رواج کو مٹانے اور اسراف و فضول خرچی کو ختم کرنے میں مسلم خواتین اپنا تاریخ ساز اور نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں کیوں کہ 80 فیصد رسومات لڑکوں کی ماؤں کے نام نہاد ارمانوں پر منحصر ہوتی ہیں ۔ اس لیے خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی خوشحال زندگی کے لیے اپنے نام نہاد ارمانوں کو قربان کردیں ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں کی جائیدادیں چھین لی گئیں اور ملازمت کے دروازے بند کردئیے گئے اور کاروبار کے امکانات ختم ہوگئے ۔ اس لیے تعلیم ہی وہ دولت ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا اور زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ہی وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں آج لڑکیوں کی شادیاں کرنا والدین کے لیے انتہائی مشکل ہوچکا ہے ۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو لڑکے والوں کی شرائط اور ان کے مطالبات کو پورا نہیں کرسکتے جس کے نتیجہ میں صرف پرانے شہر حیدرآباد میں 30 ہزار سے زائد مسلم لڑکیوں کی شادیاں ابھی تک طئے پا نہ سکی ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ سیاست کی جانب سے مستحق طلباء و طالبات کو ہر سال اسکالر شپ دئیے جارہے ہیں اسی طرح دوبدو ملاقات پروگرام کے ذریعہ رشتہ طئے کرنے کا وسیع و جامع پروگرام نہ صرف شہر بلکہ اضلاع میں بھی منعقد ہورہا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے ذریعہ اب تک تقریباً 5000 رشتے طئے پاچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کینسر کے مریضوں کی امداد ، لاوارث مسلم لاشوں کی تدفین ، مسابقتی امتحانات کے لیے کوچنگ کا انتظام اور کئی فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ مسلم شادیوں میں بعض ایسے گھناونے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ کلیجہ کانپ اٹھتا ہے ۔ آتش بازی ، گانابجانا اور طرح طرح کے خرافات سے ہمارا معاشرہ ذلت و رسوائی سے دوچار ہے ۔ جب تک ہم اسلامی طرز حیات کو اختیار نہیں کرتے نہ ہماری شادیاں خوشگوار ہوں گی اور نہ ہی ہمارے بچوں کی زندگیوں میں حقیقی سکون اور مسرتیں پیدا ہوں گی ۔ انہوں نے دوبدو ملاقات پروگرام کی عالمگیر مقبولیت کی ستائش کی اور کہا کہ امریکہ ، برطانیہ ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں دوبدو ملاقات پروگرام منعقد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ ان کوششوں سے ملت اسلامیہ کے انداز فکر میں مثبت تبدیلی آئے گی اور ہم فضول خرچی اور اسراف کے بغیر اپنی شادیوں کا اہتمام کرپائیں گے ۔ انہوں نے اہلیان کریم نگر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست تلنگانہ کا ایک ایسا شہر ہے جہاں تعلیم یافتہ مسلمان بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اس لیے انہیں امید ہے کہ اہلیان کریم نگر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے پوری ریاست کی رہنمائی کریں گے ۔ جناب سید احمد محی الدین صدر مسلم بہبود کمیٹی نے صدارت کی ۔ مولانا مفتی برکت اللہ قاسمی نے کہا کہ جس نکاح میں جہیز و گھوڑے جوڑے کی مانگ ہو وہ نکاح حرام ہے ۔ لڑکے والوں کی جانب سے لڑکی سے دولت ، زیور اور مال و اسباب کا مطالبہ کرنا بھیک مانگنے کے مترادف ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کے پاس ناقابل معافی ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح قابل تقلید ہے ۔ انہوں نے اس بات کی مذمت کی کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شادی میں مہمانوں کے ہجوم سے ان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا جو کہ سراسر مہمل بات ہے ۔ انہوں نے مسلم خواتین سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ معاشرہ کو اس برائی سے بچانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں ۔ جناب عابد صدیقی صدرا یم ڈی ایف نے کہا کہ کم سے کم اخراجات والی شادی بابرکت اور کامیاب ثابت ہوتی ہے اور اسراف والی شادیاں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرہ میں منافقت پیدا ہوچکی ہے ایک طرف تو ہم مذہبی ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں تو دوسری طرف اپنی زندگی کے معاملات میں ہم اسلامی تعلیمات کے عین خلاف عمل کرتے ہیں ۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہر ضلع میں جہیز ، غیر اسلامی رسومات اور بے جا اسراف کے خلاف ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں جو اس نوعیت کی شادیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کا بائیکاٹ کریں ۔ مولانا مفتی محمد ندیم الدین صدیقی نے کہا کہ اگر مسلمان شادی بیاہ میں اپنی دولت برباد کرنے کے بجائے ملت اسلامیہ کی تعمیر نو میں اپنا سرمایہ مشغول کریں تو یہ سب سے بڑی خدمت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کا کوئی خیال نہیں ہے ۔ انہوں نے نکاح کو عبادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عبادت میں نام و نمود کے بجائے اللہ کے اجر و انعام کا خیال رکھنا چاہیے ۔ جناب سید محی الدین صدر مسلم بہبود کمیٹی ضلع کریم نگر نے ابتداء میں خیر مقدم کیا اور کہا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں مسلمان قدیم رواجوں کو اپنا رہے ہیں ۔ ہمارے شادی بیاہ کے معاملات خود ہمارے لیے خوشی کا باعث بننے کے بجائے رنج و غم کا باعث بنتے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ سیاست اور جناب زاہد علی خاں کی تحریک نے مسلمانوں میں شعور پیدا کیا ہے ۔ چنانچہ کریم نگر میں منعقدہ یہ دوبدو ملاقات پروگرام ان کے جذبہ اور ان کی وابستگی کا ایک حصہ ہے ۔ جناب ریاض علی رضوی جوائنٹ سکریٹری کمیٹی نے نہایت عمدگی سے کارروائی چلائی ۔ قاری احمد شاہ قادری کی قرات کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیا ۔ اسکول کی طالبات نے دوبدو ملاقات پروگرام پر ایک دلچسپ گیت سنایا ۔ محمد مجاہد عادل رپورٹر جگتیال نے دوبدو پروگرام پر نظم سناکر خوب داد حاصل کی ۔ اس پروگرام میں مسرس سید ضمیر الدین احمد ، عرفان الحق ، سید امام الدین ، محمد عبداللہ اسد ، محسن محی الدین ، سید منصور علی توکلی ، سید مخدوم علی ، سلیم فاروقی ، محمد شاہد ، غلام صمدانی ، سید عاطف الدین اور شہر کریم نگر کے معززین کے علاوہ والدین اور سرپرستوں و خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی ۔ مینارٹیز ڈیولپمنٹ فورم حیدرآباد کے ایم اے قدیر نائب صدر ، خواجہ معین الدین جنرل سکریٹری ، احمد صدیقی مکیش آرگنائزنگ سکریٹری ، اور محمد نصر اللہ خاں پبلسٹی سکریٹری نے اس پروگرام میں بحیثیت مہمانان اعزازی شریک ہوئے ۔ صدر قاضی کریم نگر منقبت شاہ خان نے شکریہ ادا کیا ۔ اس پروگرام میں لڑکوں کے 85 اور لڑکیوں کے 281 نئے رجسٹریشن کروائے گئے ۔ سید محی الدین نے پروگرام کے بعد بتایا کہ پہلے دوبدو پروگرام کے بعد مسلم بہبود کمیٹی کی کوششوں سے 22 لڑکیوں اور 27 لڑکوں کی شادیاں انجام پائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT