Tuesday , August 14 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمان اور دیگر طبقات کو دھوکہ، کانگریس رکن راجیہ سبھا ایم اے خاں کا بیان

مسلمان اور دیگر طبقات کو دھوکہ، کانگریس رکن راجیہ سبھا ایم اے خاں کا بیان

حیدرآباد ۔ 17 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے ٹی آر ایس کے ارکان راجیہ سبھا کی جانب سے راجیہ سبھا میں 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کوئی احتجاج نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کیشوراؤ صرف ارکان لوک سبھا کے ساتھ تصویرکشی میں نظرآنے کا دعویٰ کیا۔ ایم اے خان نے کہا کہ ٹی آر ایس مسلم اور ایس ٹی تحفظات کیلئے احتجاج نہیں کررہی ہے بلکہ تحفظات میں توسیع کے اختیارات ریاستوں کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کو دھوکہ دے رہی ہے جبکہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور قبائیلی تحفظات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ 10 ماہ قبل مسلمانوں کو 12 فیصد اور قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات کے بل اسمبلی اور کونسل میں منظور کرکے مرکزی حکومت کو روانہ کی گئی 4 سال تک وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنے والی ٹی آر ایس اپنے انتخابی وعدے اور اسمبلی میں منظور کردہ بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کرنے کے بجائے صرف لوک سبھا میں احتجاج کررہی ہے۔ احتجاج تلنگانہ کیلئے نہیں ہورہا ہے بلکہ سارے ملک کیلئے صرف ٹی آر ایس احتجاج کررہی ہے۔ انہیں دوسرے ریاستوں کے ارکان پارلیمنٹ سے کوئی تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی ٹی آر ایس اس مسئلہ پر دوسری جماعتوں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کو دھوکہ دینے کیلئے بی جے پی سے میچ فکسنگ کرتے ہوئے ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا کیشوراؤ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں مسلم اور قبائیلی طبقات تحفظات کے مسئلہ پر صدرنشین راجیہ سبھا کو نوٹس دینے کا مشورہ دیا اور کانگریس کی جانب سے مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا مگر ٹی آر ایس نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا نہ ہی نوٹس دی اور نہ راجیہ سبھا میں کسی قسم کا کوئی احتجاج کیا گیا جبکہ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کے تین ارکان ہیں دوسرے دو ارکان بہت کم راجیہ سبھا کو پہنچتے ہیں مگر وہ بھی خاموش ہیں اسی سے اندازہ ہوتا ہیکہ ٹی آر ایس کو مسلم اور قبائیلی تحفظات سے کتنی ہمدردی ہے اور وہ اس مسئلہ کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT