Thursday , November 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمان اپنی زندگی کو اسلام کا نمونہ بنائیں

مسلمان اپنی زندگی کو اسلام کا نمونہ بنائیں

کریم نگر میں جلسہ شہادتِ حسین؄ سے جناب مشتاق ملک کا خطاب
کریم نگر /25 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ماہ محرم الحرام سنہ 61 ہجری میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 55 سال کے قریب تھی، اس وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ خلفائے راشدین کا دور گزر چکا تھا، دس لاکھ مربع میل میں اسلامی پرچم لہرا رہا تھا اور ہر طرف امن و امان تھا۔ مسلمانوں کا بحری بیڑا سری لنکا تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں پہنچ چکا تھا۔ ان خیالات کا اظہار جناب مشتاق ملک نے  کریم نگر میں منعقدہ جلسہ سے ’’شہادت امام حسین اور اور آج کا مسلمان‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے حضرت امام حسین کی عظمت اور مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی خواتین کا سردار اور حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو نوجوانان جنت کا سردار قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ حضرت امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کو حرام قرار دیا تھا تو اس سے کوئی دنیوی اقتدار مقصود نہیں تھا۔ آپ کو یزید کی ظلم و جبر والی حکمرانی پر اعتراض تھا۔ یزید ایک بدکردار حکمراں تھا، اس لئے حضرت امام حسین نے اس کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور اس کی حکمرانی کو قبول نہیں کیا۔ جناب مشتاق ملک نے واقعہ کربلا کو حق و باطل کی جنگ قرار دیا اور کہا کہ حضرت امام حسین نے بے سروسامانی کے باوجود باطل کے سامنے سر جھکانے کی بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ آپ نے اسلام کی حفاظت کا درس دیتے ہوئے عظیم قربانی پیش کی، آپ کی زندگی مسلمانوں کے لئے تاقیام قیامت مشعل راہ ہے۔ حضرت امام حسین نے ظالم یزید کی حکمرانی کی مخالفت کرکے ایک تاریخ مرتب کی اور یہ پیغام دیا کہ کسی بھی باطل طاقت کے سامنے سر جھکانے کی بجائے سر کٹا دینا بہتر ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اہل بیت سے دل و جان سے محبت کریں اور اپنی زندگی کے لئے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت و کردار کو نمونہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ یزید کی فوج تمام تر عصری ہتھیاروں سے لیس تھی، اس فوج کے خلاف صرف 72 جاں نثار ڈٹ گئے اور جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا، جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گی، کیونکہ اس جنگ میں شیر خوار بچے بھی شہید ہوئے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر پڑھا کہ ’’قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘۔ جناب مشتاق ملک نے مسلمانوں کو آپشی اتحاد کا مشورہ دیا اور کہا کہ مسلمان اپنے دینی معاملات کا جائزہ لیں، کیونکہ ہم کو میدان حشر میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انھوں نے مسلمانوں کو شادی میں بے جا رسم و رواج کو ترک کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی شادی اس طرح ہوتی تھی کہ ایک دوسرے کو خبر تک نہیں ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ شادی کوئی دکھاوے کی چیز نہیں ہے یا بڑی بڑی شخصیتوں کو بلانے یا جشن منانے کی چیز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ شادی کے موقع پر 30 فیصد کھانا بیکار جاتا ہے، جب کہ شادی کے لئے قرض حاصل کرکے لوگ برسوں پریشان رہتے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ سیاست کی تحریک ’’ایک کھانا ایک میٹھا‘‘ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اس تحریک میں شامل ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں سے اس تحریک کو عام کرنے کی اپیل کی۔ قبل ازیں قاری شیخ کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ جناب طیب پاشاہ قادری نے نعت شریف پیش کی، جناب ظہور خالد نے جلسہ کی کارروائی چلائی۔ جناب محمد مظہر الدین نے جلسہ کی صدارت کی۔ اس موقع پر مسرز عابد حسین، محمد اختر علی، محمد عبد الصمد اور دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT