Thursday , January 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / مسلمان لڑکی کا مندر میں غیر مسلم سے شادی کرنا

مسلمان لڑکی کا مندر میں غیر مسلم سے شادی کرنا

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلم لڑ کی سے زندگی میں ایک بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی وہ یہ کہ اس نے کچھ نادانی اورجوانی کے اندھے جوش میں ایک غیر مسلم لڑکے سے آریہ سماج مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق اپنا نام ’’گیتا‘‘ درج کرتے ہوئے شادی کی گئی۔ چند ماہ اس کے ساتھ رہنے کے بعد اب وہ اپنے عمل پر سخت نادم ہوکر تائب ہوگئی ہے اور اپنے والدین کے پاس آگئی ہے۔ مسلم پرسنل لا کے مطابق اس شادی کا کیا حکم ہے۔ ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی ہونے کی بناء چونکہ دستاویز اسی طرح تیار ہوچکے ہیں۔ اس کو کالعدم کرنے کے لئے شرعی فیصلہ مقصود ہے ۔ دو ماہ سے وہ لڑکی اپنے والدین کے پاس مقیم ہے۔ اس کا نکاح اب کسی مسلم لڑکے سے کیا جائے تو شرعاً کیا حکم ہے۔

جواب : صورت مسئول عنہا میں اسلامی قانون کی رُو سے ایک مسلمان مرد مسلم اور اہل کتاب عورت سے نکاح کرنے کا شرعاً مجاز ہے لیکن مسلم خاتون کا نکاح سوائے مسلم مرد کے کسی اور سے منعقد نہیں ہوتا یعنی مسلم خاتون کا نکاح نہ اہل کتاب مرد سے ہوسکتا ہے نہ ہی کسی غیر مسلم سے۔ البتہ مسلم لڑکی اگر مرتدہ ہوکر غیر مسلم مرد سے شادی کرلی تھی اور اب غیر اسلامی عقائد و نظریات سے تائب ہوکر پھر اسلام قبول کرلی ہے تو اس کا رشتہ نکاح غیر مسلم سے منقطع ہوچکا ہے ۔ تاریخ علحدگی سے تین حیض کی مدت گزار کر وہ کسی مسلم لڑکے سے نکاح کرلینے کی شرعاً مجاز ہے : وان اسلم احد الزوجین فی دارالحرب فان الفرقۃ تقف علی مضی ثلاث حیض… (تاتار خانیہ ج ۳ ص ۱۸۲ )

میری اجازت کے بغیر گھر آئی تو طلاق
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ فرید حسین نے ایک مرتبہ غصہ کی حالت میں جبکہ بیوی سے کسی بات پر تکرار ہورہی تھی، یہ کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر اگر میرے گھر آئے گی تو تجھ پر طلاق ، طلاق ، طلاق ہے۔ شیخ فرید حیسن کی بیوی عظیمہ دوسرے دن اس کی اجازت کے بغیر گھر میں آگئی۔ اب ہر دو نادم ہیں تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں جس وقت شرط پائی گئی یعنی شیخ فرید حسین کی زوجہ عظیمہ اپنے شوہر کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہوئی اسی وقت تین طلاق واقع ہوکر تعلق زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ جیسا کہ قدوری ص ۱۷۳ ۔ ۱۷۴میں ہے : واذا اضافہ الٰی شرط وقع عقیب الشرط۔ اب بلا تحلیل آپس میں دونوں کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ کنزالدقائق کتاب الطلاق میں ہے: و ینکح مبانتہ فی العدۃ و بعد ھا لا المبانۃ بالثلاث … حتی یطأھا غیرۂ … بنکاح صحیح و تمضی عدتہ۔
سود کا لینا اور دینا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی کے لئے سود سے رقم لینا کوئی حرج نہیں۔ کیا سود دینے اور لینے والے برابر کے شریک ہیں ؟ اس اہم سوال کا جواب شائع فرمائیے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں سود نص قطعی سے حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: أحل اﷲ البیع و حرم الربٰو {سورۃالبقرہ} سود لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT