Wednesday , December 19 2018

مسلمان محب وطن ،کچھ نوجوانوں کی داعش سے وابستگی پر تشویش

گوہاٹی، 29 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ ہندوستانی نوجوان بھی دہشت گرد گروپ آئی ایس آئی ایس سے (داعش) متاثر ہوگئے اور اس میں شمولیت اختیار کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیتی ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ الزام عائد بھی کیا کہ پاک

گوہاٹی، 29 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ ہندوستانی نوجوان بھی دہشت گرد گروپ آئی ایس آئی ایس سے (داعش) متاثر ہوگئے اور اس میں شمولیت اختیار کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیتی ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ الزام عائد بھی کیا کہ پاکستان میں سرکاری عناصر ہندوستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف طریقوں سے ہندوستان کو نقصان پہونچانے کی کوششوں کو ختم نہیں کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کل ہی ممبئی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان داعش کی صفوں میں رہنے کے بعد وطن واپس ہوا ہے ۔ اس نوجوان کی واپسی سے ایک دن بعد اظہار خیال کرتے ہوئے راجناتھ نے کہا کہ حالانکہ یہ گروپ ہندوستان کے باہر عراق و شام میں قائم ہوا ہے لیکن ہندوستانی ذیلی بر اعظم اس لعنت سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں ریاستوں کے ڈائرکٹرس جنرل پولیس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ نے کہا کہ یہ بھی ایک تشویش کی بات ہے کہ کچھ ہندوستانی نوجوان آئی ایس آئی ایس کی سمت راغب ہوئی ہے ۔

ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ عارف مجید نامی نوجوان کی گرفتاری اسے ہراساں کرنے کی کارروائی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تمام معاملات کو ایک کے بعد ایک حل کیا جائیگا ۔ وزیر داخلہ کے بموجب حکومت کا ارادہ اسے پریشان کرنا نہیں ہے ۔ عارف سے ممبئی میں این آئی اے کی جانب سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔عارف مجید عراق میں آئی ایس آئی ایس کے ساتھ کچھ وقت گذار کر کل ہی ممبئی واپس ہوا ہے ۔ راجناتھ نے القاعدہ کی جانب سے ذیلی براعظم ہند میں جہاد کیلئے ونگ کے قیام کو خطرہ قرار دیا اور کہا کہ القاعدہ کا ارادہ بنگلہ دیش ‘ آسام ‘ گجرات ‘ جموں و کشمیر اور ملک کے کچھ دیگر حصوں کو اپنی گرفت میں لانا ہے

تاہم ہم ایسا ہونے نہیںدینگے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ہندوستان کے خلاف تخریب کار سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اکثر کہتا رہتا ہے کہ ہندوستان کے خلاف کارروائی میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے لیکن کیا آئی ایس آئی حکومت کا حصہ نہیں ہے ۔ در اصل پاکستان میں سرکاری عناصر ہی ہیں جو ہندوستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے مختلف طریقوں سے ہندوستان کو نقصان پہونچانے کی حکمت عملی کو بند نہیں کیا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بیشتر بیرونی دہشت گرد گروپس سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہندوستان میں کثیر تعداد میں مسلمان رہتے ہیں اس لئے وہ انہیں اپنی صفوں میں شامل کرسکتے ہیں لیکن ہندوستانی مسلمان حب الوطن ہیں اور وہ اپنے مادر وطن کیلئے آزادی کے وقت سے ہی لڑ رہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے لڑنے کیلئے ہمیشہ ہی تیار رہتے ہیں۔ اسی لئے اس طرح کے دہشت گرد گروپس کامیاب نہیں ہوتے ۔ مغربی بنگال کے بردوان میں ہوئے بم دھماکہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ بیرونی دہشت گرد گروپس اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے ہندوستانی سرزمین کا استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گروپس کو ہمیں اپنی پوری طاقت سے روکنے کی ضرورت ہے ۔ وزیرداخلہ نے القاعدہ کی جانب سے پاکستانی بحریہ کی ایک کشتی کے اغوا کی کوشش کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ گروپ پاکستانی بحری جہاز کا اغوا کرلینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے وہ امریکی اور ہندوستانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی بحریہ کے کچھ عہدیدار بھی اس میں ملوث ہیں ۔ ہمیں خود کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ہم چوکسی برتیں گے تو کامیابی ہماری ہی ہوگی ۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ہندوستان میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ وزیر داخلہ نے یہ ادعا کیا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی اورتخریب کاری کیلئے عوامی تائید و حمایت گھٹتی جا رہی ہے ۔ حالیہ وقتوں میں ہوئے انتخابات میں رائے دہندوں کی جانب سے کثیر تعداد میں ووٹوں کا ڈالا جانا اس کا ثبوت ہے ۔ حالانکہ پاکستان ایسے کچھ نیٹ ورکس کی تائید کر رہا ہے لیکن مقامی سطح پر عوام کی تائید اس طرح کے گروپس کو نہیں مل پا رہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کو جلد مکمل کرنے پر بھی زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT