Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمان ملک کا پسماندہ ترین طبقہ: امیتابھ کندو

مسلمان ملک کا پسماندہ ترین طبقہ: امیتابھ کندو

ذہانت اور سخت محنت سول سرونٹس کے ہتھیار ، اُردو یونیورسٹی میں قومی سمینارسے ماہرین کے خطاب
حیدرآباد، 25؍ اکتوبر (پریس نوٹ) پروفیسر امیتابھ کندو، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر معاشیات، نے آج کہا کہ مسلمان، درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل ہندوستان کے پسماندہ ترین طبقات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ ان تک کئی بنیادی سہولتیں نہیں پہنچائی جاسکیں۔انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں آل انڈیا سروسیز امتحانات کے امیدواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان سماجی – مذہبی گروہوں کی چھوٹے شہروں اور گاوؤں میں پسماندگی کھل کر عیاں ہوتی ہے۔عوامی صحتی خدمات کے حصول میں مسلمان درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے بھی کم ہیں۔ جبکہ حاملہ خواتین کی دیکھ بھال کا معاملہ یہ ایس سی اور ایس ٹی ہی کی طرح ہے۔ دوسری جانب بچوں کی اموات کا فیصد ہندوئوں میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعداد شہروں، قصبوں اور گائووں کے مقابلے زیادہ ہے۔ ان کی تعداد چند شہروںمیں تقریباً 38 فیصد تک بھی ہے۔ پروفیسر کندو، پروفیسر ہر گوپال ، انسانی حقوق کے جہد کار اور جناب اے کے خان، مشیر حکومت تلنگانہ برائے اقلیتی امورنے سول سروسیز ایگزامنیشن کوچنگ اکیڈیمی، ایک روزہ کانفرنس بعنوان ’’موجودہ عہد شہری خدمات کا ادراک‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر شکیل احمد، وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔ پروفیسر ہر گوپال جی، سابق پروفیسر ، مرکز برائے حقوق انسانی، یونیورسٹی آف حیدرآباد نے کہا کہ سول سروسیز کے حصول کا مطلب طاقت کا حصول ہے۔ اگر اس میں اخلاق و کردار شامل نہ ہوں تو یہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے دو سول سرونٹس کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہانت، ہمدردی اور سخت محنت سول سرونٹس کے ہتھیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوچنگ سنٹرس عمومی طور پر امتحان کامیاب کرنے کے لیے تربیت فراہم کرتے ہیں جبکہ ملک کی ان اہم خدمات کے لیے تیار کرتے وقت امیدواروں کو اخلاق و ایمانداری اور انسانی ہمدردی کا درس بھی دینا از حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر نے کہا کہ غیر معمولی نتائج کے حصول کے لیے تبدیلی لازمی ہے۔ جناب اے کے خان مشیر حکومت تلنگانہ نے مختلف مثالوں سے واضح کیا کہ صرف کتابوں کی تعلیم ہی کافی نہیں بلکہ امیدواروں کو تھوڑا آئوٹ آف دی باکس بھی سوچنا چاہیے۔ انہوں نے ذہنی کسرت کے لیے امیدواروں کو کراس ورڈس اور پزل جیسے کھیلوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امیدوار اپنے تین تین یا چار چار کے گروپ بنائیں اور مختلف معلومات پر مبنی مباحثے کریں جس سے یقینا ان کے علم میں اضافہ ہوگا۔پروفیسرایس ایم رحمت اللہ، ڈین اسکول برائے فنون و سماجی علوم نے بھی خطاب کیا۔ جناب ظفر اقبال (ریٹائرڈ آئی اے ایس) نے کارروائی چلائی۔

ہند ۔ امریکہ قدیم تعلقات ، معاشی ترقی اور فروغ دوستی پر پراجکٹس کا کام
امریکی ڈپٹی قونصل جنرل متعینہ حیدرآباد ڈونالڈری ملنگس کا خطاب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : امریکی ڈپٹی قونصل جنرل متعینہ حیدرآباد مسٹر ڈونالڈری ملنگس ( امریکہ ) نے کہا کہ ہند اور امریکہ ایک دوسرے کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے باہمی تعلقات اور دوستی کے جذبہ کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور کی انجام دہی میں منہمک ہیں ۔ مسٹر ڈونالڈری ملنگس کل شام حیدرآباد میں انڈو امریکن چیمبرس آف کامرس کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر انڈو امریکن چیمبر آف کامرس میں صدر نشین تلنگانہ اور آندھرا پرچاپٹر کی حیثیت سے جن شخصیات نے 1983 سے خدمات انجام دیں انہیں ڈپٹی قونصل جنرل امریکہ مسٹر ڈونالڈ ری ملنگس کے ہاتھوں ایوارڈس اور مومنٹوز سے نوازا گیا ۔ مسٹر ڈونالڈری ملنگس نے کہا کہ ہندستان اور امریکہ کے تعلقات بڑے قدیم ہیں ۔ بالخصو ص معاشی ترقی اور اس کے استحکام اور دوستی کو فروغ دینے کے جذبہ کے تحت جو مختلف پراجکٹس میں کام کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور گذشتہ 70 سال سے ہند امریکی دوستانہ تعلقات کے ذریعہ دونوں ملکوں کے عوام کو مختلف شعبوں میں ترقی و کامیابی کی جہتیں حاصل ہوئی ہیں اور ان شعبوں میں سائنس و ٹکنالوجی ، خلائی سائنس اور توانائی ، صحت و تعلیم میں نمایاں کام انجام دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہی میں ہند اور امریکہ کے درمیان دفاعی شراکت داری کی حیثیت سے معاہدہ اور اس طرح قابل اعتماد اقوام میں دفاع سے متعلق ٹکنالوجی کی منتقلی اور تجارت کے شعبہ میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دیگر ریاستوں میں بھی مختلف پراجکٹس میں امریکی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ تلنگانہ نے تجارتی شعبہ میں اہم مقام حاصل کیا ہے اور 2016 میں عالمی بینک کی تجارت کے اعداد و شمار میں تلنگانہ کو اولین مقام حاصل ہے ۔ اس موقع پر سریکانت بھاریگا صدر نشین تلنگانہ چاپٹر نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ انڈو امریکن چیمبر آف کامرس کے اراکین کی تعداد 2400 تلنگانہ بھر میں ہے جو مختلف صنعتی شعبوں میں تعاون کررہے ہیں ۔ اس موقع پر تہذیبی پروگرام پیش کیا گیا ۔ شریمتی مالوی لتا نے سنگیت کا مظاہرہ کیا ۔ اوالی اور سبائی نے ڈانس و ناٹک کا مظاہرہ پیش کیا ۔ اس موقع پر رفیع اور کشور کمار کے گائے ہوئے فلمی نغمے بھی پیش کئے گئے ۔ وجئے سائی میکا نے شکریہ ادا کیا ۔ شکھا سبھروال نے کارروائی چلائی ۔۔

 

حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( راست ) :

 

TOPPOPULARRECENT