Friday , November 24 2017
Home / مضامین / مسلمان کی آبادی میں اضافہ پر تشویش غربت پر فکر نہیں

مسلمان کی آبادی میں اضافہ پر تشویش غربت پر فکر نہیں

محمد جسیم الدین نظامی
جاریہ سال کے اوائل میں جب مذہبی بنیادوں پر مردم شماری 2011ء کا ڈاٹا جاری کیا گیا اس وقت مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی خاص طور پر ہندوتوا تنظیموں نے بھولے بھالے ہندوؤں میں یہ افواہیں پھیلانے شروع کردیں کہ مسلمانوں کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اور ملک کی مسلم آبادی میں اضافہ کا یہی حال رہا تو پھر آنے والے دہوں میں ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت ہوگی حالانکہ ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ ہندوتوا فورسس اور متعصب و جانبدار ہندی اور انگریزی میڈیا نے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر ایسی تشویش ظاہر کی جیسے حقیقت میں سارا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں آجائے گا حالانکہ نہ صرف مرکزی و ریاستی حکومتیں بلکہ عوام اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمان معاشی اور تعلیمی لحاظ سے کس قدر پسماندہ ہیں۔ غربت اور پسماندگی میں وہ بدھسٹوں سے بھی آگے ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی ان کی موثر نمائندگی نہیں پنچایتوں، بلدیات اسمبلیوں قانون ساز کونسلوں سے لیکر پارلیمنٹ جیسے اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی کو بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔

جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خال خال ہی مسلمان نظر آتے ہیں۔ مردم شمار 2011 کا جوڑاٹا مذہبی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا اس کا مقصد دراصل ہندوؤں میں یہ غلط فہمی پیدا کرنی تھی کہ مسلمان اپنی آبادی میں جان بوجھ کر اضافہ کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں ملک کے اقتدار پر فائز ہوسکیں۔ اس وقت کسی کو یہ دیکھنے کی زحمت نہیں ہوئی کہ آخر مسلمان معاشی طور پر اس قدر پسماندہ کیوں ہیں؟ پھر بھی اچھی بات یہ ہوئی کہ چند ایک نے یہ دیکھا کہ ہندوستان کے اقتصادی نقشہ پر مسلمان آبادی کس طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اس اقتصادی نقشہ میں مسلم آبادی کے مقام کے بارے میں تحقیق کے دوران ریاستوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہاں بسنے والے مسلمانوں کی ریاستی مجموعی پیداوار کے تحت فی کس آمدنی کیا ہے۔ ان ریاستوں میں سے 5 ریاستوں کا انتخاب کیا گیا جن میں آسام، اترپردیش اور بہار ایسی پانچ ریاستوں میں شامل ہیں جہاں مسلمانوں کی بہت زیادہ آبادی پائی جاتی ہے جبکہ دو اوڑیشہ اور مدھیہ پردیش ان پانچ ریاستوں میں شامل ہیں جہاں قبائلی آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یعنی قبائلی آبادی کے لحاظ سے یہ سرفہرست ریاستیں ہیں۔ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔ وہاں ضروری نہیں کہ ان کی فی کس آمدنی بھی زیادہ ہو۔ ملک کی اکثر ریاستوں میں مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت بہت خراب ہے۔ آسام، بہار، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے مسلم اکثریتی اضلاع میں بے تحاشہ غربت پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف حیدرآباد جیسے اضلاع میں جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے مسلمانوں کی معاشی حالت اچھی ہے وہ اس ضلع میں جائیدادوں کے مالک بھی ہیں اور اثاثہ جات و املاک رکھتے ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ٹی کے اومین نے جو سچر کمیٹی رپورٹ تیار کرنے والوں میں سے ایک ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی مادی (مالی حالت) کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ان کے تاریخی اور سماجی پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ واضح رہے کہ سچر کمیٹی نے ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی اقتصادی اور معاشی موقف کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات حکومت ہند کو پیش کی تھیں جس میں مسلمانوں کو تعلیمی معاشی طور پر انتہائی پسماندہ قرار دیتے ہوئے ان کی بہبود کے لئے مختلف پروگرامس و اسکیمات شروع کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا تھا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی اقلیت کو تعلیم روزگار اور سیاست میں پسماندہ رکھ کر ترقی نہیں کی جاسکتی۔ ہندوستان کے اقتصادی نقشہ میں مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں پیشوں کی بنیاد پر لوگوں کو درج فہرست ذاتوں کا موقف دیا گیا، لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کو ان مراعات سے محروم رکھا گیا۔ ایسے میں مسلمانوں کے سماجی پس منظر میں پھیلاؤ ان کے اقتصادی موقف میں فرق لانے کی کلید ثابت ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT