Thursday , April 26 2018
Home / مذہبی صفحہ / ’’مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہے ‘‘

’’مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہے ‘‘

حضور پاک صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا مومن کابدلہ وہی ہے جو مختلف قسم کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی صورت میں اُسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے ۔ ایک اور حدیث پاک میں حضور صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا یہاں تک کہ مومن اپنی نقدی جیب میں رکھ لے پھر ضرورت کے وقت تلاش کرے ، تھوڑی دیر نہ ملے پھر جیب میں ہاتھ ڈالنے سے نکل آئے تو اتنی دیر میں جو اسے صدمہ ہوا اس سے بھی اس کے گناہ معاف ہوتے ہیںاور یہ بھی اُس کی برائیوں کابدلہ ہوجاتا ہے۔ مصائب دنیا اسے کندن بنادیتے ہیں کہ قیامت کا کوئی بوجھ اس پر نہیں رہتا ۔ جس طرح سونا بھٹی میں تپاکر نکال لیا جائے اسی طرح یہ دنیا سے پاک صاف ہوکر اﷲ کے پاس جاتا ہے ۔ حضور پاک صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا مومن کو ہرچیز میں اجر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ موت کی سختی کا بھی ۔ جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور انھیں دور کرنے والے بکثرت نیک اعمال نہیں ہوتے تو اﷲ تعالیٰ اس پر کوئی غم ڈال دیتا ہے جس سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کانٹے کا لگنا بھی ۔ ایک صحابی رسول نے حضور صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم سے پوچھا کہ ہماری ان بیماریوں میں ہمیں کیا ملتا ہے ۔ آپ ؐنے فرمایا یہ تمہارے گناہو ںکا کفارہ ہے ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دعا مانگی کہ اے اﷲ مرتے دم تک مجھ سے بخار جدا نہ ہو ۔ لیکن حج و عمرہ ، جہاد ، نماز باجماعت سے محروم نہ ہوں ۔ اﷲ تعالیٰ کے پاس یہ دعا قبول ہوئی ۔ جب کبھی آپ ؓ کے جسم پر ہاتھ لگایا جاتا آپؓ پر بخار چڑھا رہتا (مسند احمد) بدی کی سزا یا تو دنیا میں ہوجاتی ہے (اور بندے کے لئے یہی اچھا ہے )یا آخرت میں ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین ۔(تفسیر ابن کثیر)

TOPPOPULARRECENT