Wednesday , April 25 2018
Home / Top Stories / مسلمان کے نام کی جماعتوں سے بی جے پی کو فائدہ

مسلمان کے نام کی جماعتوں سے بی جے پی کو فائدہ

مسلم اور سیکولر ووٹ کی تقسیم روکنا ضروری، جنتادل ( ایس ) بھی شک کے دائرے میں

بی جے پی ۔ جنتادل اتحاد ممکن
کانگریس واحد سیکولر و مخالف بی جے پی جماعت
منادر اور درگاہیں ہندوستان کی پہچان

حیدرآباد 13 فروری (سیاست نیوز) صدر کانگریس راہول گاندھی کے دورۂ کرناٹک کے دوران ریاست کے مختلف اضلاع میں موجود درگاہوں اور آستانوں پر حاضری و سرکردہ مشائخین سے ملاقات کے فوری بعد کرناٹک کے انتخابی حالات میں تیز تر تبدیلی رونما ہونے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو قریب کرنے کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ کامیاب ثابت ہوگی کیونکہ ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کا رجحان کانگریس کی سمت ہے اور مسلمان کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ ریاست کرناٹک کے مجوزہ انتخابات میں مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہونے کے مکمل امکانات پائے جانے لگے ہیں لیکن اگر کسی وجہ سے مسلم ووٹ منقسم ہوتے ہیں اور سیکولر سیاسی جماعتوں کے بجائے فرقہ وارانہ نوعیت کے اعتبار سے رائے دہی ہونے لگتی ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کو کامیابی مل سکتی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہونے پر بی جے پی جے ڈی ایس کی تائید حاصل کرکے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے سے گریز نہیں کریگی ۔ اسی لئے کرناٹک کے سرکردہ مسلم شخصیتوں کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ووٹوں کا متحدہ استعمال یقینی بنانے اقدامات کرنے چاہئے اور انہیں اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ صدر کانگریس کے دورۂ کرناٹک کے موقع پر درگاہوں پر حاضری اور مشائخین و سجادگان سے ملاقات کے بعد کرناٹک میں کانگریس کے حق میں نئی لہر شروع ہوچکی ہے اور کانگریس ان حالات میں اپنی آئندہ کی حکمت عملی کیلئے منصوبہ تیار کرر ہی ہے تاکہ کانگریس پر اقلیت نواز پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد نہ کیا جائے بلکہ کانگریس کے سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ کرناٹک انتخابات کے دوران کانگریس کا حقیقی سیکولر ازم سامنے آئیگا اور عوام اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ملک میں صرف واحد کانگریس ہی ایسی سیاسی جماعت ہے جو سیکولر اقدار کی حامل ہے اور سیکولر نظریات پر کوئی مفاہمت نہیں کرسکتی ۔ بتایاجاتاہے کہ مسلمانوں کی رائے متحد کرنے کے ساتھ کانگریس ناراض طبقات کو بھی قریب کرنے اوران کی نمائندگی میں بہتری لانے اقدامات کررہی ہے۔ راہول نے گذشتہ یوم گلبرگہ میں بارگاہ خواجۂ دکن حضرت بندہ نواز گیسودرازؒ پر حاضری دینے کے علاوہ رائچور میں درگاہ حضرت سید شمس عالم حسینی ؒ میں حاضری دی اور گلہائے عقیدت پیش کرکے سجادگان و متولیان سے ملاقات کی ۔ بارگاہ خواجہ بندہ نواز ؒ میں راہول گاندھی کی حاضری کے وقت حضرت مولانا ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی بندہ نوازی سجادہ نشین بارگاہ بندہ نوازؒ کے ہمراہ حضرت غلام سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ سجادہ نشین درگاہ قاضی پیٹ ‘ سید شاہ حیدر ولی سجادہ نشین درگاہ نیلنگہ شریف‘ سید میاں جانشین بارگاہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی‘ حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی سجادہ نشین درگاہ حضرت چندا حسینی ؒ گوگی شریف کے علاوہ سجادہ نشین گچی محل اور دیگر موجود تھے۔

کرناٹک کی سرکردہ شخصیتوں کا کہناہے کہ ریاست کرناٹک میں مسلم ووٹ روایتی انداز میں کانگریس کے حق میں جاتا رہا ہے اور جب کبھی کانگریس سے ناراضگی رہی مسلمانوں نے جنتادل کو ووٹ دیا لیکن جنتا دل نے بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اسی لئے اب جنتادل کو ووٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر مجلسکرناٹک اسمبلی انتخابات میں اپنے امیدوار میدان میں اتارتی ہے تو ایسی صورت میں مسلم ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ہے اسی طرح اگر ایم ای پی نامی سیاسی جماعت کی جانب سے امیدوار میدان میں اتارے جاتے ہیں تو مسلم ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ اکثریتی ووٹوں کے متحد ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے کرناٹک کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے اس بات پر غور کیا جا رہاہے کہ وہ ان سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں سے اپیل کریں کہ وہ اپنے امیدوار میدان میں اتارنے سے گریز کریں کیونکہ ان کے امیدواروں کا میدان میں آنا فسطائی قوتوں کو طاقت بخشنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے آثار گجرات انتخابات کے بعد نمایاں ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ گجرات انتخابات کے بعد راجستھان ضمنی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی بھاری اکثریت سے کامیابی ملک میں بی جے پی کے نظریات کو مسترد کئے جانے کی علامت ثابت ہونے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران ریاست کرناٹک کے سجادگان و متولیان کا وفد چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا سے ملاقات کرتے ہوئے چند تیقنات حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس ملاقات میں تیقنات کے حصول کے بعد دیگر مسلم سیاسی جماعتیں جو کرناٹک انتخابات میں حصہ لینے کوشاں ہیں ان جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقات کریگا ۔ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے دوران مسلم رائے دہندوں کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مسلم ووٹوں کو تقسیم کرکے صورتحال کو اپنے حق میں بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ کانگریس نے ایس سی‘ ایس ٹی ‘ بی اور او بی سی کے علاوہ اقلیتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے سب کی مجموعی و مساوی ترقی کو ممکن بنانے کے اقدامات کی حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT