Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات ، سالانہ 1000 کروڑ کا بجٹ ، اردو کو سرکاری زبان کا موقف اور اوقافی جائیدادوں کا تحفظ

مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات ، سالانہ 1000 کروڑ کا بجٹ ، اردو کو سرکاری زبان کا موقف اور اوقافی جائیدادوں کا تحفظ

تمل ناڈو طرز پر تحفظات پر عمل ، روزگار فراہمی اور ترقیاں ، تنخواہوں میں اضافہ بھی شامل : کے سی آر

تمل ناڈو طرز پر تحفظات پر عمل ، روزگار فراہمی اور ترقیاں ، تنخواہوں میں اضافہ بھی شامل : کے سی آر

حیدرآباد۔/4اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے نئی ریاست تلنگانہ میں مسلم اقلیت کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی، سالانہ 1000کروڑ روپئے بجٹ مختص کرنے، اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ، وقف بورڈ کو عاملانہ اختیارات، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور سچر کمیٹی رپورٹ پر عمل آوری کا وعدہ کیا ہے۔ پارٹی صدر چندر شیکھر راؤ نے آج 2014ء انتخابات کا منشور جاری کیا جس میں سماج کے تمام طبقات کیلئے کئی وعدے کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ کیلئے جان قربان کرنے والے نوجوانوں کے افراد خاندان کو فی کس 10لاکھ روپئے کی مالی امداد اور خاندان کے کسی فرد کو روزگار کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ تلنگانہ ملازمین کو خصوصی طور پر تلنگانہ انکریمنٹ کے علاوہ مرکزی ملازمین کے مماثل تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ کمزور طبقات کیلئے مفت مکانات کی فراہمی اسکیم پر عمل آوری کی جائے گی، 125گز پر دو بیڈ روم، ہال، کچن اور دیگر سہولتوں سے آراستہ مکان تعمیر کرکے حوالے کیا جائے گا۔ انتخابی منشور میں بیواؤں اور ضعیفوں کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپئے جبکہ معذورین کیلئے1500روپئے وظیفے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ کسانوں کو ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے گا۔ درج فہرست قبائل کیلئے 12فیصد تحفظات کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔دلتوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ برسوں میں 50ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ بے زمین دلتوں کو فی خاندان 3ایکر اراضی حوالے کی جائے گی۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ ایکر اراضی کو آبپاشی کی سہولتیں حاصل رہیں گی۔ تلنگانہ میں برقی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے برقی بحران پر قابو پایا جائے گا۔ پارٹی نے تلنگانہ میں صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے صنعتکاروں کو خصوصی پیاکیج کا بھی وعدہ کیا ہے۔ پانچ برسوں کے دوران 10تھرمل پاور اسٹیشنس قائم کئے جائیں گے جن کے تحت ایک لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔ ٹی آر ایس نے آٹو رکشاؤں کیلئے ٹرانسپورٹ ٹیکس سے استثنیٰ کا بھی وعدہ کیا ہے۔ پارٹی نے غریب خاندانوں کیلئے کے جی تا پی جی مفت تعلیم اور ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر نمس کی طرز پر سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کا بھی وعدہ کیا ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں بی سی طبقات کی ترقی کیلئے 25ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ پارٹی نے ہر پانچ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ضلع کے قیام اور تلنگانہ میں مزید 14اضلاع کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ دستور کے مطابق تمام مذاہب کا مکمل احترام اور ان کے ماننے والوں کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ تلگودیشم اور کانگریس حکومتوں نے اقلیتی بہبود کیلئے منظورہ بجٹ کا ایک فیصد بھی خرچ نہیں کیا۔ ٹی آر ایس حکومت اردو اکیڈیمی تشکیل دے گی اور ان تمام اوقافی جائیدادوں کو دوبارہ حاصل کیا جائے گا جنہیں کانگریس حکومت میں مختلف اداروں کے حوالے کیا گیا ہے۔

مسلم، عیسائی، سکھ، جین اقلیتی طبقات کی ترقی اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ چنچل گوڑہ جیل کو چرلہ پلی جیل کے قریب منتقل کرتے ہوئے اس کی اراضی پر تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ اسی طرح ملک پیٹ ریس کورس کو بھی کسی اور مقام پر منتقل کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ٹاملناڈو میں جس طرح اقلیتوں کو تحفظات حاصل ہیں اس کی بنیاد پر ہی تلنگانہ میں بھی تحفظات فراہم کئے جائیں گے اور ان تحفظات کو 9ویں شیڈول میں شامل کرنے کیلئے مرکز پر دباؤ بنایا جائے گا۔ انہوں نے تحفظات کے وعدہ پر بہرصورت عمل آوری کا یقین دلایا۔32صفحات پر مشتمل انتخابی منشور صرف تلگو زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ منشور کی اجرائی کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں دلتوں کی آبادی 15.4فیصد ہے اس اعتبار سے سالانہ 500کروڑ روپئے ان کی بہبود پر خرچ کئے جائیں گے۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا، اور اس سلسلہ میں تعلیم یافتہ بیروزگار افراد کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں حکومت دیگر شعبوں میں ان کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے تبادلے تین سال کی مدت کی تکمیل کے بعد ہی کئے جائیں گے اور درمیان میں تبادلے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر تلنگانہ شہیدوں کی یادگار تعمیر کی جائے گی اور حیدرآباد میں بھی ایک تاریخی یادگار کی تعمیر کی تجویز ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ ریاست میں غریب افراد کو مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نظام کے دور میں مفت طبی سہولتیں حاصل تھیں اسی طرح ہر منڈل سطح پر 300بستروں اور ضلع ہیڈکوارٹر پر 100بستروں کا ہاسپٹل تعمیر کیا جائے گا۔انتخابی منشور میں34علحدہ زمروں کے تحت مختلف شعبوں اور مسائل کا احاطہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT