Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / مسلم اقلیت کیلئے فلاحی پروگرام شروع کرنے وزیر اعظم سے اپیل

مسلم اقلیت کیلئے فلاحی پروگرام شروع کرنے وزیر اعظم سے اپیل

نئی دہلی۔/24اکٹوبر، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ محرم الحرام کی فضیلت کو سمجھیں اوراس ماہ مبارک میں دعاؤں کے ساتھ اعمال صالحہ کی کثرت کریں۔ شاہی امام نے کہا کہ محرم کے مہینے سے اسلامی نیا سال شروع ہوتا ہے ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرسکتے ہیں

نئی دہلی۔/24اکٹوبر، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ محرم الحرام کی فضیلت کو سمجھیں اوراس ماہ مبارک میں دعاؤں کے ساتھ اعمال صالحہ کی کثرت کریں۔ شاہی امام نے کہا کہ محرم کے مہینے سے اسلامی نیا سال شروع ہوتا ہے ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرسکتے ہیں کہ آنے والا سال ہر اعتبار سے ہمارے لئے اور امت کے لئے مبارک ہو۔ مسلمانوں کی خستہ حالی اور بے روزگاری نیز غربت اور پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے شاہی امام نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اس اقلیت کو نظرانداز کیا گیا ہے اور حکومت نے اس کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی ٹھوس پروگرام نہیں بنایا ہے اور اگر کوئی پروگرام بنایا تو اس پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی حالت پسماندہ ذاتوں سے بھی زیادہ ابتر ہوچکی ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی سے ہماری اپیل ہے کہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اقلیت کی فلاح و بہبود کے لئے جلد ہی کوئی ٹھوس پروگرام لائیں ، ان کے سامنے جسٹس مصرا اور جسٹس سچر کی سفارشات موجود ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ضرور مسلمانوں کی ترقی وخوشحالی کے لئے سوچیں گے چاہے وہ ریزرویشن ہو یا کوئی اور پروگرام ہو۔ اسرائیل نے مقبوضہ یروشلم میں نئی نئی سازشیں کرکے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی آمدورفت پر پابندی لگا رکھی ہے اور آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ جب تک اسرائیل کی یہ سازشیں ختم نہیں ہوں گی مشرق وسطیٰ اور پورے خطے میں امن کا قیام مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ صیہونی جارحیت پر ردعمل ضرور ہوتا ہے اور جب تک اسرائیل پر کنٹرول نہیں ہوگا امن قائم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یواین او اور سب ہی اتحادی ملکوں کو اس طرف جلد سوچنا چاہیئے۔ حالانکہ مذہب اسلام امن و سلامتی و آشتی کا مذہب ہے لیکن ظلم کے خلاف ردعمل کی صورت میں دہشت گردی وجود میں آرہی ہے اس کا سدباب ضروری ہے۔ ظلم اور دہشت گردی کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT