مسلم امیدواروں کو انتخابی ٹکٹ دینے میں پس و پیش

کورٹلہ میں صدرنشین مجلس بلدیہ کی نشست کیلئے سخت مقابلہ

کورٹلہ میں صدرنشین مجلس بلدیہ کی نشست کیلئے سخت مقابلہ

کورٹلہ۔ 18 مارچ (سلیم فاروقی کی رپورٹ) مجلس بلدیہ کورٹلہ کے وارڈ کونسلروں کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرتے ہوئے چیرمین مجلس بلدیہ کورٹلہ پر اپنی پارٹی کا پرچم لہرانے کی ہر سیاسی پارٹی جان توڑ کوشش کررہی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی ان وارڈس میں جہاں پر اس وارڈ میں ٹکٹ کے دعویدار امیدوار کو عوامی تائید حاصل ہے، چیرمین مجلس بلدیہ کورٹلہ کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے اس وارڈ سے دولت مند شخص کو انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش کررہی ہے۔ وارڈ نمبر 26 سے جناب محمد ریاض کانگریس ٹکٹ کے طاقتور دعویدار ہیں اور انہیں اس وارڈ میں عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ کانگریس پارٹی اس وارڈ سے جناب راما سوامی گوڑ کو جو کورٹلہ کے دولت مند افراد میں شمار کئے جاتے ہیں، انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش کررہی ہے۔ جناب محمد ریاض صدر اقلیتی سیل کورٹلہ کانگریس پارٹی جو سابق کونسلر محترمہ تحسین کے شوہر ہیں اور کانگریس کے وفادار کارکن ہیں۔ کانگریس اکثریت حاصل ہونے پر کوآپشن بنانے کا لالچ دے کر انہیں انتخابی میدان سے دستبرداری اختیار کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا محمد ریاض کانگریس کا ٹکٹ نہ ملنے پر بحیثیت آزاد امیدوار انتخابی میدان میں برقرار رہتے ہیں یا کانگریس کے دباؤ میں آکر جناب راما سوامی کے حق میں دستبرداری اختیار کرتے ہیں۔ جناب محمد ریاض اگر اس وارڈ سے مقابلہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہیں تو ان کا یہ اقدام کانگریس پارٹی کو فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوگا، کیونکہ ٹی آر ایس اس وارڈ سے طاقتور امیدوار کو انتخابی میدان میں اتار رہی ہے۔ مجلس بلدیہ کورٹلہ کے وارڈ نمبر 15 کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ یہ وارڈ خواتین جنرل کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ٹکٹ کیلئے مسلم خاتون نجم النساء بیگم کے علاوہ غیرمسلم امیدوار اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ اس وارڈ میں جملہ 1,824 ووٹرس ہیں جن میں 1,117 مسلم ووٹرس ہیں۔ اس وارڈ سے ٹی آر ایس پارٹی کو لے کر تجسس برقرار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کے ودیا ساگر راؤ رکن اسمبلی کورٹلہ اس وارڈ سے خاتون مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیتے ہیں یا پھر مسلمانوں کو مایوس کرتے ہوئے غیرمسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارتے ہیں۔

ویسے ہر سیاسی جماعت انتخابات کے موقع پر مسلمانوں سے بہت سارے وعدے کرتی ہے لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کا موقع آتے ہی یہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو نظرانداز کرتی نظر آرہی ہیں۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے اقتدار میں آنے پر مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے اور ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر مسلمان کو فائز کرنے کا وعدہ کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ ،سید ابراہیم کو حلقہ اسمبلی محبوب نگر سے جہاں سے ابراہیم کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں، ان کے بجائے غیرمقامی قائد کے نام کا اعلان کرکے تلنگانہ کے مسلمانوں کو مایوس کیا اور اپنی اصلیت ظاہر کردی کہ ٹی آر ایس میں مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دریں اثناء صدر مجلس اتحادالمسلمین کورٹلہ شاخ نے بلدی امیدواروں کا اعلان کردیا ہے: صدر جناب محمد رفیع الدین اور جنرل سکریٹری جناب انور صدیقی کی اطلاع کے بموجب مجلس اتحادالمسلمین کے امیدواروں کے نام یہ ہیں:

سلطانہ بیگم زوجہ بابا بھائی وارڈ نمبر 5، رقیہ بیگم وارڈ نمبر 6، انور صدیقی وارڈ نمبر 7، گنگا دھر عرف جانی وارڈ نمبر 8 ، چیٹیالہ بھومیا وارڈ نمبر 9، تسلیم سلطانہ وارڈ نمبر 10، محترمہ نسیم سلطانہ ، محترمہ نفیس فاطمہ وارڈ نمبر14 ، محترمہ رضیہ سلطانہ وارڈ نمبر 15، محترمہ رئیس سلطانہ وارڈ نمبر 22 ، جناب محمد رفیع الدین وارڈ نمبر 27 ، جناب عبدالرحیم وارڈ نمبر 25 ، جناب محمد سلیم وارڈ نمبر 26 شامل ہیں جبکہ انتخابی میدان میں موجود آزاد امیدواروں کو انتخابی میدان سے دستبرداری اختیار کروانے کیلئے سیاسی جماعتوں کے امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ امیدوار کی مقبولیت کے لحاظ سے انہیں دولت کا لالچ دیا جارہا ہے۔ پرچہ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال کے بعد مجلس بلدیہ کورٹلہ کے 31 وارڈوں میں 221 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ اگر آزاد امیدوار اپنے پرچہ نامزدگیاں واپس لیتے ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے جملہ 160 امیدواروں کے انتخابی میدان میں باقی رہنے کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT