Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / !مسلم امیدواروں کو زیادہ نشستوں سے مقابلہ کرانے کے سی آر کا منصوبہ

!مسلم امیدواروں کو زیادہ نشستوں سے مقابلہ کرانے کے سی آر کا منصوبہ

lکانگریس کی مسلم رائے دہندوں سے قربت پر چیف منسٹر فکر مندlمابعد انتخابات مجلس کو بائے بائے ، بی جے پی سے قریب ہونے کا امکان
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے نام پر بے شمار کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔اگرچہ انہوں نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے لیکن یو پی اے کی سربراہ و کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے اس معاملہ میں رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا یہ اور بات ہے کہ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کا سارا کریڈٹ اپنے سر لے لیا اور کانگریس قائدین تلنگانہ کی تشکیل میں اپنی پارٹی بالخصوص سونیا گاندھی کے رول کا فائدہ اٹھا نہیں سکے ۔ آپسی اختلافات میں الجھے رہے اور 2014 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس 119 میں سے صرف 21 نشستیں حاصل کرسکی ۔ جب کہ ٹی آر ایس کو 63 حلقوں میں شاندار کامیابی ملی ۔ ساتھ ہی اسے لوک سبھا کی 17 میں سے 11 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ فی الوقت ٹی آر ایس کے اکثر ارکان اسمبلی اور وزراء کی مایوس کن کارکردگی سے خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پریشان ہیں ، وہ نہیں چاہتے کہ کانگریس کو کسی قسم کا موقع فراہم کریں ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات سے متعلق وعدہ وفا نہ کرنے پر بھی انہیں مسلمانوں میں پائی جانے والی ناراضگی کا بخوبی اندازہ ہے ۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ کانگریس قائدین اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ریاست میں وہ کانگریس کو اقتدار میں لاسکتے ہیں ۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں جو چار فیصد تحفظات فراہم کئے گئے طلبہ کے لیے فیس باز ادائیگی کی جو اسکیم شروع کی گئی اس کا سہرا متحدہ آندھرا پردیش کے آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور جناب محمد علی شبیر کے سر جاتا ہے ۔ تحفظات اور فیس باز ادائیگی جیسی اسکیمات نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو کافی فائدہ پہنچایا ۔ دوسری طرف کے سی آر وعدہ کے باوجود اقتدار کے چار سال میں بھی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکام ہوگئے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور تلنگانہ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر وزیراعظم نریندر مودی سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے باوجود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کروانے میں ناکام ہوگئے ۔ حالانکہ انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے معاملہ میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کی تائید کی تھی ۔ اکثر و بیشتر مودی جی سے چیف منسٹر اور ان کے فرزند ملاقات کرتے رہتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حال ہی میں کے سی آر اور پھر ان کے فرزند کے ٹی آر نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی ۔ مودی کے پاس چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کا وقت نہیں ہے لیکن کے سی آر کو وہ بآسانی دستیاب ہوجاتے ہیں ۔ مودی سے ملاقات کے بعد ہی کے سی آر نے 2019 کے اسمبلی انتخابات جاریہ سال کے اواخر میں ہی کروانے کے لیے تیار رہنے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ 100 سے زائد نشستیں حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کر ڈالا ۔ حالانکہ یہ بلدی نہیں بلکہ اسمبلی انتخابات ہیں ۔ ایک طرف کے سی آر مودی سے خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں دوسری طرف وہ نہیں چاہتے کہ بی جے پی سے قربت کے نتیجہ میں مسلمان ٹی آر ایس سے دور ہوں ۔ کیوں کہ ریاست میں 13 فیصد مسلمان ہیں ۔ 119 میں سے 48 نشستوں میں انہیں بادشاہ گر کا موقف حاصل ہے ۔ اگر ان میں ٹی آر ایس کی حلیف مقامی جماعت کے 7 حلقوں کو نکالدیا جائے تو 41 حلقوں میں مسلم ووٹرس کسی بھی پارٹی کو ہرا یا جتا سکتے ہیں ۔ یعنی 45-48 فیصد حلقوں میں مسلمان فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں ۔ اگر کانگریس ان 41 حلقوں میں مسلم ووٹرس کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے بہت بڑی کامیابی مل سکتی ہے ۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کو 34.3 ، کانگریس کو 25.2 ، ٹی ڈی پی کو 14.7 ، ایم آئی ایم کو 3.8 ، بی جے پی کو 7.1 اور دیگر کو 14.9 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ کانگریس ، ایس سی ، ایس ٹیز ، کسانوں اور مسلمانوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے تو اس کے ووٹوں کے فیصد میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے ۔ جہاں تک ٹی آر ایس ۔ بی جے پی غیر رسمی اتحاد کا سوال ہے کے سی آر کی دختر کویتا کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس کی بی جے پی سے قربت نہیں چونکہ ریاست میں وہ برسر اقتدار نہیں ہے اس لیے مرکز سے اچھے تعلقات رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تحفظات کی فراہمی میں ناکامی کے اثر سے بچنے کی خاطر یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کے سی آر مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مسلم قائدین کو زیادہ ٹکٹ دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے صرف ایک مسلم امیدوار محمد شکیل عامر نے بودھن سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کے سی آر مسلمانوں کو خوش کرنے کی خاطر تین تا پانچ مسلم امیدواروں کو ٹکٹس دیں گے بھی تو ان میں سے کتنے کامیاب ہوں گے ؟ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ عرصہ کے دوران ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان قربت بڑھی ہے جو کبھی نہ کبھی اتحاد میں بدل سکتی ہے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں مودی اور بی جے پی کے امکانات کمزور نظر آتے ہیں ، وہیں ریاست میں ٹی آر ایس بھی کمزور مظاہرہ کرنے کی پیش قیاسیاں کی جارہی ہیں ۔ ان حالات میں کے سی آر بی جے پی سے قربت اختیار کر کے اپنی مقامی حلیف مجلس کو بائے بائے کہہ سکتے ہیں ۔ ویسے بھی سیاسی شعبہ اور سیاستدانوں کا کوئی بھروسہ نہیں وہ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT