Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / مسلم انسپکٹر ضیاء الحق اور 7ملازمین پولیس پر آر ایس ایس کا عتاب

مسلم انسپکٹر ضیاء الحق اور 7ملازمین پولیس پر آر ایس ایس کا عتاب

آر ایس ایس پر چارک کیخلاف کارروائی کا شاخسانہ ،محافظ قانون پر جھوٹے مقدمات

بھوپال۔ 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کے ضلع بالا گھاٹ کے تحت بائیھار ٹاؤن کے ایک مسلم انسپکٹر پولیس ضیاء الحق کو ان دنوں بی جے پی کی ریاستی حکومت اور اس کی نظریاتی مربی تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ کے سنگین عتاب کا سامنا ہے جن کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے آر ایس ایس کے ایک مقامی ذمہ دار سریش یادو کو گرفتار کیا تھا جس نے واٹس ایپ پر اسلام کی اہانت پر مبنی ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس کے بعد انہیں نہ صرف معطل کردیا گیا بلکہ عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ اس کے برعکس آر ایس ایس اور بی جے پی کے سرکردہ قائدین کے علاوہ تین ریاستی وزراء نے سریش یادو سے ملاقات کی اور اس ملزم کے ساتھ وی آئی پی جیسا سلوک کیا گیا۔ دوسری طرف فرض شناس مسلم پولیس افسر ضیاء الحق اور دیگر سات ملازمین پولیس کے خلاف اس آر ایس ایس ضلع پرچارک کو آر ایس ایس کے دفتر پر دھاوا کرتے ہوئے گرفتار کرنے پر اقدام قتل، گڑبڑ فساد، مجرمانہ دھمکی اور سرقہ کے الزامات کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ضیاء الحق نے جنہیں 25 ستمبر کو معطل کیا گیا، کہا ہے کہ ’’میں سمجھا تھا کہ ان (آر ایس ایس) کی اَنا کو ٹھیس پہونچی ہے لیکن اب پتہ چلا کہ وہ (آر ایس ایس) ایک ایسی مثال قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی پولیس افسر ان کے کسی کارکن یا پرچارک کو چھونے کی بھی جرأت نہ کریں‘‘۔ ضیاء الحق پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے آر ایس ایس کے دفتر میں گھس کر یادو کی پٹائی کی تھی۔ ضیاء الحق نے کسی نامعلوم مقام پر ایک انگریزی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس پولیس اسٹیشن میں 90% سے زائد عملہ ہندو ہے، لیکن صرف ان (ضیاء) کے مذہب کو اُجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مذہب کے سبب گزشتہ کئی سال سے اپنے کام کے دوران کافی محتاط رہے۔ فرقہ وارانہ واقعات سے نمٹنے کے باوجود ان پر مقامی بلدی انتخابات میں کسی مسلم امیدوار کی تائید کا الزام عائد کیا گیا۔ ضیاء الحق نے کہا کہ 24 اور 25 ستمبر کو چند مسلمان بائیہار پولیس اسٹیشن پہونچے تھے اور یادو کے ایک واٹس ایپ پیغام کے بارے میں شکایت کی تھی جس کے ذریعہ یادو نے اسلام کے خلاف اہانت آمیز ریمارک کیا تھا، لیکن ایک حساس اور محتاط پولیس افسر کی حیثیت سے ضیاء الحق آر ایس ایس کے دفتر پہونچنے سے قبل سپرنٹنڈنٹ پولیس سے بات چیت کی تھی جس کے بعد ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس راجیش شرما کی قیادت میں ایک ٹیم روانہ کی گئی تھی اور مسلم شکایت گذاروں کے ساتھ پولیس کا وہاں پہونچے سے متعلق الزام غلط ہے۔ ضیاء الحق نے اس شکایت پر سخت صدمہ کا اظہار کیا کہ انہوں نے یادو کو زدوکوب کیا تھا جس کے نتیجہ میں وہ کئی مرتبہ بے ہوش ہوگیا تھا حالانکہ اس کے خلاف ایک سخت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور مزید کچھ نہیں کیا گیا۔ ضیاء الحق نے وہ رات بھی یاد دلائی جب آر ایس ایس کے سینکڑوں کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کا محاصرہ کرلیا جس کے ایک بالائی کمرہ میں وہ (ضیاء الحق) عملاً روپوش تھے اور برہم کارکن ان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگارہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT